ماڈل فاطمہ سہیل نیوز اینکر رابعیہ انعم سے گفتگو کرتے رو کیوں پڑیں؟

معروف ٹی وی میزبان رابعہ انعم نے بتایا ہے کہ جب انہوں نے کچھ دن قبل احتجاجا اپنی اہلیہ پر تشدد کرنے والے محسن عباس حیدر کی وجہ سے ندا یاسر کے ٹی وی شو سے واک آؤٹ کیا تو سب سے پہلے انہوں نے فاطمہ سہیل کو فون کیا تھا، اس دوران فاطمہ ان کے ساتھ بات کرتے ہوئے رو پڑی تھیں۔ یاد رہے کہ رابعہ انعم 8 نومبر کو ندا کے مارننگ شو سے اٹھ کر چلی گئی تھیں، انکے ساتھ پروگرام میں اداکارہ فضا علی اور محسن عباس حیدر بھی مہمان تھے۔ رابعہ انعم نے پروگرام کو چھوڑ کر جانے سے قبل ندا یاسر، اے آر وائے چینل اور پروڈیوسر سے معافی بھی مانگی اور کہا کہ انہیں معلوم نہیں تھا کہ دیگر مہمان کون ہیں۔ پروگرام چھوڑنے سے قبل رابعہ نے ندا کو بتایا کہ انہوں نے گھریلو تشدد کے خلاف کھڑے ہونے کا عزم کیا ہے اور وہ اس حوالے سے آواز بھی بلند کرتی آ رہی ہیں، جس وجہ سے آج ان کا پروگرام میں بیٹھنا مناسب نہیں کیونکہ محسن عباس حیدر نے اپنی اہلیہ پر بہیمانہ تشدد کیا تھا۔ میزبان نے کہا کہ اگر وہ پروگرام میں شریک رہتیں تو ان کی تمام کاوشیں ضائع ہو جائیں گی، اس لیے وہ مزید پروگرام کا حصہ نہیں رہنا چاہتیں، رابعہ کے عمل پر جہاں ان کی تعریفیں کی گئی تھیں، وہیں بعض شخصیات اور افراد نے ان پر تنقید کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ انہیں کوئی حق نہیں کہ وہ براہ راست ٹی وی پر کسی کی تضحیک کریں، اگر انہیں کوئی مسئلہ تھا تو وہ پروگرام میں ہی شرکت نہ کرتیں۔
رابعہ انعم نے واضح طور پر محسن عباس حیدر کا نام نہیں لیا تھا لیکن شو سے نکلنے کے بعد انہوں نے ان کی سابق اہلیہ فاطمہ سہیل سے فون پر بات کرنے کی تصدیق کی اور بتایا کہ فون پر بات کرتے وقت دونوں رو پڑی تھیں۔ سابق نیوز اینکر نے لوگوں کی تنقید اور تعریف کے بعد اپنی ٹوئٹس میں ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے ان کے قدم کی تعریف کی، انہوں نے لکھا کہ ممکن ہے کہ ان کی چھوٹی سے کوشش بھی بڑا کام کر جائے اور بیویوں پر تشدد کرنے والے یا خواتین کو ہراساں کرنے والے آئندہ ایسا کام کرنے کی جرأت نہ کریں۔
رابعہ نے اُمید کی کہ ان کے قدم کے بعد کوئی ایسے افراد کو ہیرو بننے کا موقع فراہم نہیں کرے گا، جو اپنی غلطیوں کی معافی نہیں مانگتے اور ان کے تشدد کا شکار افراد پوری زندگی ذہنی اذیت کا شکار رہتے ہیں، ایک اور ٹوئٹ میں بتایا کہ شو چھوڑ جانے کے بعد پوری دنیا سے مرد و خواتین نے انہیں ذاتی پیغامات بھیج کر جہاں ان کے اقدام کی تعریف کی، وہیں انہوں نے اپنی کہانیاں بھی ان کو بھیجیں، جنہیں پڑھ کر وہ آبدیدہ ہوگئیں۔انہوں نے پیغامات بھیجنے اور تعریفیں کرنے والے افراد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا کہ شو چھوڑ کر نکلنے کے بعد انہوں نے سب سے پہلا کام محسن عباس حیدر کی سابق اہلیہ اداکارہ فاطمہ سہیل سے فون پر بات کر کے کیا۔
ان کی ٹوئٹس پر بھی بہت سارے لوگوں نے ان سے سوالات کیے اور پوچھا کہ جب انہیں معلوم تھا کہ شو میں محسن عباس حیدر مہمان ہوں گے تو وہ اس کا حصہ کیوں بنیں؟ اس پر انہوں نے جواب دیا کہ انہیں پہلے نہیں بتایا گیا تھا اور دوسری بات یہ کہ شاید سب لوگوں کے لیے یہ ایک عام بات تھی، کیوںکہ وہ اس سے پہلے بھی متعدد ٹی وی پروگراموں میں شریک ہوچکے تھے۔ خیال رہے کہ ماضی میں اداکار محسن عباس حیدر پر ان کی سابق اہلیہ اداکارہ فاطمہ سہیل نے ان پر 2018 میں بدترین گھریلو تشدد کے الزامات لگانے کے بعد ان سے خلع لے لی تھی، محسن عباس حیدر اور فاطمہ سہیل نے 2015 میں شادی کی تھی اور ان کا ایک بیٹا بھی ہے جو اب والدہ کے ساتھ رہتا ہے۔
سابق اہلیہ کی جانب سے تشدد کے الزامات لگائے جانے کے بعد محسن عباس حیدر پر شوبز شخصیات نے بھی تنقید کرتے ہوئے ان پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا تھا جبکہ متعدد اداروں نے کچھ وقت کے لیے ان کے ساتھ کام کرنے سے بھی معذرت کرلی تھی۔
