عمران خان پاکستانی عوام سے کس بات کا انتقام لے رہے ہیں؟

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے پاکستانی عوام پر مہنگائی کے بم گرانے کا سلسلہ جاری ہے اور اب پٹرول کی قیمت میں اضافے کے فوری بعد بجلی کی قیمتوں میں بھی ایک مرتبہ پھر اضافہ کردیا گیا ہے لہذا مہنگائی کے مارے عوام کی چیخیں اب آسمانوں تک جا رہی ہیں لیکن کوئی سننے والا نہیں۔ ایسے میں عوام یہ سوال کر رہے ہیں کہ عمران ان سے کس جرم کا انتقام لے رہے ہیں؟
اس اضافے سے حکومت کو سالانہ 135 ارب روپے حاصل ہوں گے جو وزیراعظم کی جانب سے اعلان کردہ ریلیف پیکیج میں استعمال کرے گی۔ یعنی حکومت نے عوام کے لیے جس نام نہاد ریلیف پیکج کا اعلان کیا تھا اس کے لیے بھی رقم عوام کی جیبوں سے ہی نکلوائی جا رہی ہے۔ بجلی کی قیمتوں میں ایک اور اضافے کے بعد اب گھریلو صارفین ایک روپے 68 پیسے فی یونٹ زائد ادا کریں گے۔ کمرشل صارفین، صنعتوں اور باقی شعبوں کیلئے فی یونٹ ایک روپیہ 39 پیسے فی یونٹ اضافہ کیا گیا ہے۔چنانچہ اب پاکستان میں عوام کے لیے مہنگائی کی شرح 0.67 فیصد بڑھ کر 16.43 فیصد پر پہنچ گئی ہے۔ آٹا، چھوٹا اور بڑا گوشت، ٹماٹر، انڈے، صابن، چاول، چائے، لہسن اور گڑ مذید مہنگے ہو گئے ہیں۔
یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے عوام کے لئے مہنگائی کے خلاف ریلیف پیکج کے اعلان کے بعد پہلے تو پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا اور اب بجلی کی قیمتوں میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔ نیشنل الیکٹرک ریگولیٹری اتھارٹی یعنی نیپرا نے بجلی کی قیمت میں ایک روپے 68 پیسے فی یونٹ تک اضافے کی منظوری دی یے۔ لیکن ماہانہ 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کیلئے بجلی مہنگی نہیں ہو گی، نیپرا کا کہنا ہے کہ 200 سے زائد یونٹ کےاستعمال پر گھریلو صارفین کیلئے بجلی ایک روپے 68 پیسے مہنگی ہوگی جبکہ کمرشل، صنعتوں اور باقی شعبوں کیلئے بجلی کی قیمت میں فی یونٹ ایک روپیہ 39 پیسے اضافہ ہوگا۔نیپرا کے مطابق بجلی کی قیمت میں اضافہ بنیادی ٹیرف میں کیا گیا ہے اور اضافے کا اطلاق کے الیکٹرک سمیت ملک بھر کیلئے ہو گا، بجلی کی قیمت میں اضافے کا اطلاق یکم نومبر 2021 سے ہوگا، اس اضافے سے حکومت کو سالانہ 135 ارب روپے حاصل ہوں گے۔
ادارہ شماریات پاکستان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں اس ہفتے کے دوران مہنگائی میں 0.67 فیصد اضافہ ہوا جس کے بعد مہنگائی کی ہفتہ وار شرح 16.43 فیصد پر پہنچ گئی۔ادارہ شماریات نے بتایا کہ ایک ہفتے میں 28 اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، ٹماٹر اوسط 20 روپے 9 پیسے فی کلو، چینی اوسط 5 روپے 56 پیسے فی کلو مہنگی ہوئی جبکہ ایک ہفتے میں ایل پی جی کا سلنڈر 77 روپے 96 پیسے مہنگا ہوا۔ ایک ہفتے میں گھی کی فی کلو قیمت 10 روپے 21 پیسے بڑھی، انڈے 3 روپے 60 پیسے فی درجن اور آٹے کا 20 کلو کا تھیلا4 روپے 71 پیسے مہنگا ہوا۔ادارہ شماریات کا کہنا ہے کہ ایک ہفتے میں بیف کی قیمت میں اوسط 5 روپے34 پیسے کا اضافہ ہوا جبکہ آلو، مٹن، لہسن اورگڑ بھی مہنگا ہوا۔ یاد رہے کہ صارفین کیلئے قیمتوں کے حساس اشاریہ کا تعین ملک کے 17 شہروں کی 50 مارکیٹوں میں 51 ضروری اشیا کی قیمتوں میں کمی بیشی کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔
دنیا کے کسی بھی ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت جب بھی بڑھتی ہے تو ہر چیز مہنگی ہونے لگتی ہے۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات تقریباً ہر چیز کی تیاری اور ہر چیز کو لانے لے جانے کے لیے استعمال ہونے والی گاڑیوں، ٹرینوں، بحری جہازوں میں استعمال ہوتی ہیں۔ یعنی پیٹرول نہ ہوا آکسیجن ہو گئی جس کی ضرورت سب کو ہے اور اس کا اثر سب پر پڑتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہر ملک میں حکومتیں تیل کی قیمت پر کڑی نظر رکھے ہوتی ہیں۔ تاہم ظلم یہ ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کے فورا بعد بجلی کی قیمتوں میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اس مرتبہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے تاہم حکومت کہتی ہیں کہ اس نے عوام کی فائدے کے لیے ٹیکس میں بھی کمی کی ہے۔ مگر ناقدین کا سوال یہ ہے کہ کیا حکومت بجلی تیل گیس اور پانی کی قیمتوں میں بار بار اضافہ کرکے ہی قومی خزانہ بھرتی رہے گی جس کا براہ راست اثر عوام کی جیبوں پر پڑ رہا ہے؟ مہنگائی کے مارے عوام کا سوال ہے کہ کیا ملک اس طرح چلایا جاتا ہے؟ ان کا کہنا ہے کہ ریاست تو ماں کے جیسی ہوتی ہے لیکن موجودہ دور میں تو حکومت عوام کے کپڑے اتارنے پر تل گئی ہے۔
