رینجرز کے دستوں نے پولیس والوں کو کیسے دھوکہ دیا؟


تحریک لبیک کے ساتھ حالیہ جھڑپوں میں مارے جانے والے پولیس جوانوں کے ایک بہادر ساتھی سب انسپکٹر نے آئی جی پنجاب پولیس کے نام خط میں الزام لگایا ہے کہ جانیں گنوانے والے پولیس جوانوں کے گھروں پر تعزیت کے لیے جانے والے پولیس افسران صرف سستی شہرت کی خاطر ایسا کر رہے ہیں حالانکہ ان اموات کی ذمہ داری ان پر بھی عائد ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ رینجرز پر یہ الزام لگایا گیا ہے کہ وہ مظاہرین کے پولیس پر حملوں کے دوران خاموش تماشائی بن کر ایسے کھڑے رہے جیسے بندر اور ریچھ کا تماشا ہو رہا ہو۔
سی آئی اے حافظ آباد خالد نواز وریاہ کا خط میں کہنا ہے کہ فرنٹ لائن فورس نے لبیک کے شر پسندوں کو سادھوکی کے مقام پر پیچھے دھکیل دیا تھا۔ میں اور دیگر پولیس اہلکار اس مقابلے میں زخمی ہوئے لیکن پھر جب ہم نے مڑ کر پیچھے دیکھا تو رینجرز کی بیک اپ فورس کا بڑا حصہ بزدلی دکھاتے ہوئے ایک بھی شیل فائر کیئے بغیر بھاگ چکا تھا۔ سب انسپکٹر خالد نواز وریاہ نے خط میں لکھا ہے کہ فرنٹ لائنرز بے یقینی سے دیکھ رہے تھے کہ بیک اپ فورس کیوں بھاگی؟ اگلے روز جب پتہ چلا کہ پولیس کو ان ہی بھاگنے والے رینجرز کے ہی ماتحت کر دیا گیا ہے تو ہمارے زخموں کی تکلیف اور بھی بڑھ گئی۔ سی آئی اے حافظ آباد کے انچارج خالد نواز وریاہ نے معاملے کی تحقیقات کے لیے سینئر افسران کی کمیٹی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا ہے کہ بتایا جائے کہ کالعدم تنظیم کا لانگ مارچ روکنے کے لیے بیک اپ فورس نے بزدلی کیوں دکھائی؟ کیا سیکیورٹی پلان جدید تقاضوں کےمطابق تھا یا کاپی پیسٹ کیا گیا تھا؟
کالعدم جماعت تحریک لبیک کے دھرنے کے شرکا کو روکنے میں پنجاب پولیس کے حکام کی ناکامی سے متعلق پنجاب پولیس کے سربراہ کو خط لکھنے والے سب انسپکٹر خالد نواز وریاہ کا کہنا ہے کہ پولیس حکام اپنی ناکامیوں کا احاطہ کرنے کی بجائے اس احتجاج میں ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کے گھر تعزیت کے لیے جا کر ذاتی تشہیر حاصل کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایک دو دن پولیس حکام اس احتجاج میں ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کے گھر چلے جائیں گے لیکن ان پولیس اہلکاروں کے ورثا باقی زندگی کیسے گزاریں گے۔ انھوں نے کہا کہ وزیر آباد میں دھرنے کے دوران ڈیوٹی کرتے ہوئے پولیس اہلکار عدنان کو مظاہرین نے تشدد کر کے ہلاک کر دیا اور پھر اس کی لاش کھیتوں میں چھپا دی۔ انھوں نے کہا کہ پولیس کے اعلیٰ حکام کو معلوم تھا کہ ان کا ایک کانسٹیبل لاپتہ ہو گیا ہے لیکن کوئی بھی ان کی مدد کے لیے نہیں پہنچا اور نہ ہی حکام نے اس کانسٹیبل کو مظاہرین کے چنگل سے نکالنے کے لیے اپنا اثر استعمال کیا۔
خالد نواز نے، جو اس وقت حافظ آباد میں سی آئی اے میں تعینات ہیں، کہا کہ جب کوئی مشن ناکام ہوتا ہے تو اس کا احاطہ کرنے کے لیے سوچ بچار کی جاتی ہے اور ان غلطیوں کی نشاندہی کی جاتی ہے جس کی وجہ سے مشن ناکام ہوا لیکن یہاں پر صرف وزیر اعلی نے پولیس حکام کے تبادلوں پر ہی اکتفا کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جب سادھوکی کے مقام پر پولیس اہلکاروں کو مار پڑ رہی تھی اور وہ پسپائی پر مجبور تھے تو اس دوران وہاں پر موجود رینجرز خاموش تماشائی بنے ہوئے تھے۔ خالد نواز کا کہنا تھا کہ رینجرز اہلکار وہاں کھڑے ہوئے ایسے یہ کارروائی دیکھ رہے تھے جیسے گاؤں کے گلی محلوں میں بندر یا ریچھ کا کوئی تماشا ہو رہا ہو۔ انھوں نے کہا کہ اس سے بڑھ کر حکام کی طرف سے یہ بے حسی سامنے آئی کہ پولیس کو رینجرز کے زیر کمان کر دیا گیا۔
خالد نواز نے خط میں تحریک لبیک کے مظاہرے کو روکنے سے متعلق پنجاب پولیس کے سربراہ سے متعدد سوالات کیے ہیں۔جس میں پنجاب پولیس کے سربراہ سے پوچھا گیا ہے کہ سادھوکی پوائنٹ پر شیل کم ہونے سے فورس کا بڑا حصہ بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرار ہوا؟جب تحریک لبیک کے مظاہرین کو شیخوپورہ کی حدود میں دھکیل دیا گیا تھا تو افسران اور فورس میں شامل اہلکار بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کیوں بھاگے؟ خالد نواز نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ بحیثیت پنجاب پولیس جو انتہائی تذلیل ہوئی، اس کا ذمہ دار کون ہے؟ انھوں نے مطالبہ کیا کہ بزدلی کا مظاہرہ کرنے والے افسران اور جوانوں کا تعین کیا جائے۔انھوں نے کہا کہ جب فورس ہجوم کو پیچھے دھکیل چکی تھی تو بیک اپ میں افسران اور جوانوں نے بزدلی کا مظاہرہ کیوں کیا؟
خالد نواز نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ پر تشدد ہجوم سے نمٹنے کے لیے بنایا گیا سکیورٹی پلان جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تھا؟انھوں نے مطالبہ کیا کہ فرنٹ لائن فورس کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کے ذمہ داران کے خلاف فوجداری کارروائی کی جائے۔ خالد نواز کا کہنا تھا کہ انھیں معلوم ہے کہ ان کو پولیس کے اعلیٰ افسران کی طرف سے وضاحت کے لیے طلب کیا جا سکتا ہے اور ان کی نوکری بھی جا سکتی ہے لیکن انھوں نے یہ سارا کچھ اس لیے کیا تاکہ آئندہ کوئی پولیس اہلکار غلط حکمت عملی کی وجہ سے قربانی کی بھینٹ نہ چڑھے۔

Back to top button