عمران خان پر گولیاں بظاہر ڈرانے کے لیے چلائی گئیں

پاک فوج کے سابق افسران کی تنظیم ایکس سروس مین سوسائٹی کے صدر لیفٹینیٹ جنرل ریٹائرڈ فیض علی چشتی نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان پر حملہ کرنے والے کا مقصد انہیں جان سے مارنا نہیں بلکہ محض ڈرانا تھا۔ نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں جنرل ریٹائرڈ فیض علی چشتی نے کہا کہ حملہ آور نے عمران کو جان سے مارنا ہوتا تو سیدھا نشانہ لگاتا اس کیے انہیں گولی بظاہر ڈرانے کے لیے ماری گئی، چشتی نے کہا کہ عمران کو گولی پنجاب میں لگی، جہاں ان کی اپنی حکومت ہے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ انکی اپنی حکومت کے تحت انکی سکیورٹی پکی کیوں نہیں تھی؟ اگر وزیرآباد میں سکیورٹی پکی ہوتی تو عمران پر حملہ کرنا ممکن نہیں تھا لہٰذا تحقیقات کرنی چاہئیں کہ حملہ آور ٹرک تک کیسے پہنچ گیا؟
ضیا دور میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ اُلٹ کر مارشل لاء نافذ کرنے والے 95 سالہ عمرانڈو جنرل ریٹائرڈ فیض علی چشتی کے خیال میں عمران پر گولی چلانے والا شخص ماہر نشانہ باز تھا تاہم دوسری جانب تحقیقاتی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ عمران پر حملہ کرنے والا نوید احمد تحریک لبیک سے متاثر ایک مذہبی جنونی ہے جسے عمران کی جانب سے اپنا موازنہ نبی پاک کے ساتھ کرنے پر غصہ تھا لہٰذا اس نے عمران خان کو سبق سکھانے کا فیصلہ کیا۔مارشل لاء لگا کر آئین شکنی کرنے والے فیض چشتی نے کہا کہ وہ پاکستان کو ڈوبتا دیکھ رہے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ میری عمر کے بہت کم لوگ اب زندہ ہیں۔ آرمی چیف قمر جاوید باجوہ میرے بیٹے کے کلاس فیلو رہے ہیں اور جنرل باجوہ کے والد میرے ساتھی رہے ہیں لہٰذا میں چاہتا ہوں کہ باہمی غلط فہمیاں دور ہو جائیں۔
جنرل فیض چشتی نے کہا کہ ملک کے حالات ایسے ہو چکے ہیں کہ کچھ عناصر کی جانب سے فوج اور عوام کے مابین نفرت پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی سیاسی جماعتوں کی جانب فوج کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا، لیکن اب یہ کام بڑھ گیا ہے۔ اب تو بہت ذیادہ گالی گلوچ ہو رہی ہے جو کہ نہیں ہونا چاہیے۔ نظام خراب نہیں ہوتے۔ نظام سب ٹھیک ہوتے ہیں چلانے والوں میں خرابی ہوتی ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا انتظامی ڈھانچہ سنبھالنے والے ریڑھ کی ہڈی کی طرح ہیں جبکہ وزیر اور سیاستدان آتے جاتے رہتے ہیں۔
ملک کے موجودہ حالات کے ممکنہ حل بارے فیض علی چشتی نے کہا کہ جب نیت ہی بات چیت اور ملاقات کرنے کی نہیں تو معاملہ کیسے ٹھیک ہو سکتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ میں حکومت اور عمران کے مابین مذاکرات میں ثالث بننے کو تیار ہوں آپ بنسوبست کر دیں۔ تاہم یہ پیشکش کرتے ہوئے فیض علی چشتی بھول گئے کہ وہ خود ایک بہت بڑے عمرانڈو ہیں لہٰذا ثالثی نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ فریقین میں خبط چڑھا ہوا ہے، پی ٹی آئی والے کہتے ہیں ہم باس ہیں، جبکہ دوسرا فریق کہتا ہے کہ میرے جیسا عقلِ کُل کوئی نہیں ہے۔
ایک سوال پر فیض چشتی نے کہا کہ آئین کے مطابق آرمی چیف کی تعیناتی وزیراعظم کا اختیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام لیفٹیننٹ جنرل ایک جیسے ہوتے ہیں، سب فوج کی کمان کے لیے موزوں ہوتے ہیں۔ آرمی چیف ایک دو یا تین نام بھیج دیتے ہیں۔ تمام تھری سٹار میں انیس بیس کا فرق ہو سکتا ہے لیکن سب محب وطن ہوتے ہیں۔ یاد رہے کہ فیض علی چشتی 1946 میں برٹش انڈین آرمی میں افسر بھرتی ہوئے تھے اور پاکستان بننے کے بعد پاک فوج میں شامل ہو گے۔ جنرل ضیا نے 1977 میں مارشل لا کا نفاذ کیا تو فیض علی چشتی اس وقت کور کمانڈر راولپنڈی تھے۔ ضیا کے مارشل لا کا ذمہ دار جنرل فیض علی چشتی کو بھی سمجھا جاتا ہے۔ خیال رہے کہ پاک فوج کے سبکدوش افسران کی دو نمائندہ تنظیمیں ہیں جن میں پاکستان ایکس سروس مین ایسوسی ایشن کی قیات جنرل (ر) علی قلی خان کرتے ہیں جبکہ پاکستان سروس مین سوسائٹی کے صدر فیض علی چشتی ہیں۔
