عمران خان کوالیکشن کمشنر سے پنگا کتنا مہنگا پڑے گا؟


وفاقی حکومت اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مابین جاری چپقلش پر تبصرہ کرتے ہوئے معروف اینکر پرسن اور لکھاری جاوید چوہدری کا کہنا ہے کہ کپتان حکومت نے غلط آدمی سے پنگا لے لیا ہے جس کی اسے بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی کیونکہ سکندر سلطان راجہ اصولوں پر ڈٹ جانے والا آدمی ہے جو کبھی پیچھے نہیں ہٹتا۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ میں اگر چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی ایک فقرے میں تشریح کروں تو یہ کہہ دینا کافی ہو گا ’’حکومت غلط آدمی سے ٹکرا گئی ہے۔ اس لڑائی میں صرف ایک فریق کو نقصان ہو گا اور وہ ہو گی حکومت کیونکہ چیف الیکشن کمشنر کسی دباؤ میں آئے بغیر تحریک انصاف کے فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ بھی کریں گے اور وفاقی وزرا فواد چوہدری اور اعظم سواتی کیخلاف کارروائی بھی کریں گے۔
بقول جاوید چودھری وزیر اعظم نے راجہ سکندر سلطان کا نام بطور چیف الیکشن کمشنر خود تجویز کیا تھا۔ عمران خان کے ساتھ ان کی پہلی ملاقات 2013 میں ہوئی تھی۔ راجہ صاحب تب ڈی جی پاسپورٹ تھے اور عمران خان ایم این اے بننے کے بعد پاسپورٹ بنوانے ان کے دفتر گئے تھے۔ سکندر سلطان 2018 کے بعد بطور سیکریٹری ریلوے وزیراعظم کے پاس جاتے رہے لیکن وہ ملاقاتیں زیادہ خوش گوار نہیں تھیں۔ وہ بہرحال چیف الیکشن کمشنر بن گئے اور حکومت سے ان کا پہلا پھڈا لوکل باڈیز الیکشن پر پڑ گیا۔
ہوا یوں کہ سپریم کورٹ نے بلدیاتی الیکشن کرانے کا حکم دیا تھا۔ بلدیاتی الیکشن نہ ہوئے تو جسٹس فائز عیسیٰ نے 28 جنوری 2021کو چیف الیکشن کمشنر کو طلب کر لیا۔ وہ عدالت میں پیش ہوئے۔ جج صاحب نے ان سے اور اٹارنی جنرل خالد جاوید سے پوچھا ’’آپ ادارے سے بالاتر ہو کر صرف پاکستانی کی حیثیت سے جواب دیں ‘کیا بلدیاتی اداروں کی معطلی آئینی تھی‘‘ دونوں نے جواب سے بچنے کی کوشش کی لیکن جسٹس قاضی فائز عیسیٰ جواب چاہتے تھے۔
اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ یہ غیر آئینی اور غلط تھا۔ سکندر سلطان راجہ نے اٹارنی جنرل کی تائید کر دی اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے الیکشن کمیشن کو بلدیاتی انتخابات کی تاریخ کے لیے ایک ہفتے کی مہلت دے دی اور وزیراعظم سپریم کورٹ میں یہ اعتراف کرنے پر چیف الیکشن کمشنر سے ناراض ہو گئے۔
جاوید چودھری کے مطابق دوسرا ایشو ڈسکہ کے ضمنی الیکشن نے پیدا کر دیا۔ یہ مسئلہ آراوز سے شروع ہوا تھا۔ پی ٹی آئی کے چند لوگ حلقے میں اپنی مرضی کے آراوز لگوانا چاہتے تھے لیکن الیکشن کمشنر نے صاف انکار کر دیا۔ الیکشن کی شام 20 پریذائیڈنگ آفیسرز رزلٹ سمیت غائب ہوگئے۔ یہ لوگ سیالکوٹ شہر کے ایک احاطے میں جمع کیے گئے تھے‘ پارٹی کے ایک اہم عہدیدار سے اس حرکت کی وجہ پوچھی گئی تو اس نے ہنس کر جواب دیا ’’ہم چاہتے تھے باقی پولنگ اسٹیشنز کے رزلٹ آ جائیں تاکہ جتنی کمی بیشی ہو ہم وہ ان 20 پولنگ اسٹیشنز سے پوری کر لیں‘‘۔ عثمان ڈار نے بھی الیکشن کمیشن کے ایک سینئر ممبر کے سامنے اپنی غلطی کا اعتراف کیا لیکن بہرحال ڈسکہ میں دوبارہ الیکشن بھی ہوا اور الیکشن کمیشن نے تحقیقات کے لیے دو انکوائری کمیٹیاں بھی بنا دیں۔
جاوید چودھری کے مطابق الیکشن کمیشن کو 20 پریذائیڈنگ آفیسرز کے اغواء کی رپورٹ موصول ہو چکی ہے جب کہ افسروں کے رویے کی رپورٹ بھی چند روز میں آ جائے گی اور الیکشن کمیشن یہ دونوں رپورٹس ہفتے بھر میں جاری کر دے گا۔ انکے بقول یہ رپورٹس حکومت کو جڑوں سے ہلا کر رکھ دیں گی۔ جاوید چودھری کہتے ہیں کہ کپتان کی راجہ سکندر سے تیسری ناراضی سینیٹ کے مارچ 2021ء کے الیکشن کے دوران پیدا ہوئی۔ حکومت اوپن بیلٹ کے ذریعے الیکشن کرانا چاہتی تھی چنانچہ یہ معاملہ سپریم کورٹ چلا گیا۔
پانچ رکنی بینچ بنا اور سپریم کورٹ نے چیف الیکشن کمشنر کو بلالیا۔ حکومت چاہتی تھی سکندر سلطان راجہ عدالت میں ’’یہ ہو سکتا ہے‘‘ کہہ دیں لیکن انھوں نے ڈٹ کر جواب دیا کہ ’’آئین کی شق 226 کے تحت ایسا کرنا غیر آئینی ہو گا‘‘۔ یون عدالت نے حکومت کے خلاف فیصلہ دے دیا۔ وزیراعظم ناراض ہو گئے اور انھوں نے اپنی تقریروں میں باقاعدہ اس ناراضگی کا اظہار شروع کر دیا۔ وزراء نے اسے حکومتی پالیسی سمجھ لیا اور یہ بھی الیکشن کمیشن کے خلاف سرعام بولنے لگے۔لپتان اور سی ای سی کی چوتھی ناراضی الیکٹورل ریفارمز بل تھا۔ حکومت نے 10 جون 2021 کو قومی اسمبلی سے الیکٹورل ریفارمز بل پاس کرا لیا۔ لہک بل جب الیکشن کمیشن پہنچا تو چیف الیکشن کمشنر نے اس پر 28 اعتراضات اٹھا دیے۔ حکومت نے حلقہ بندیوں اور ووٹرز کے تعین کا اختیار الیکشن کمیشن سے لے کر نادرا کو دے دیا تھا۔ نادرا براہ راست وزارت داخلہ کے ماتحت ادارہ ہے چناں چہ حکومت نادرا کے ذریعے الیکشن سے پہلے وسیع پیمانے پر دھاندلی کرا سکتی تھی اور یہ غیرآئینی تھا۔ یہ بل بابر اعوان نے بنایا تھا اور اس میں وسیع پیمانے پر غیرآئینی شقیں تھیں۔ الیکشن کمیشن کی نشان دہی پر یہ بل سینیٹ میں رک گیا اور حکومت غیرآئینی شقیں واپس لینے پر مجبور ہو گئی۔پانچویں ناراضی پی ٹی آئی میں انٹرا پارٹی الیکشن کے ایشو پر پیدا ہوئی۔ الیکشن کمیشن نے 29 جولائی 2021 کو انٹراپارٹی الیکشن نہ کرانے پر عمران کو نوٹس جاری کر دیا اور حکومت نے اسے جانب داری قرار دے دیا۔ وزراء نے الیکشن کمیشن پر توپوں کے دھانے کھول دیے۔ حکومت نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج بھی کر دیا لیکن پھر حکومتی وکیل شاہ خاور درخواست واپس لینے الیکشن کمیشن پہنچ گئے۔ ایک ممبر نے وجہ پوچھی تو وکیل نے بتایا کہ ہم نے پارٹی منشور نہیں پڑھا تھا۔ منشور کے مطابق ہمارے الیکشن واقعی ڈیو تھے۔ اس معاملے میں بھی حکومت غلط تھی لیکن وزیراعظم کو الیکشن کمیشن کا نوٹس برا لگا۔
بقول جاوید چوہدری حکومت اور الیکشن کمیشن کے مابین چھٹا اور تازہ ترین ایشو الیکٹرانک ووٹنگ مشین یعنی ای وی ایم ہے۔ سکندر سلطان راجہ ای وی ایم کے حامی ہیںاور الیکشن کے عمل کو مشین پر شفٹ کرنا چاہتے ہیں لیکن حکومتی ای وی ایم میں تین خوف ناک ایشوز ہیں۔ حکومت دعویٰ کر رہی ہے یہ مشین وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے بنائی جب کہ مشین پرائیویٹ کمپنی ریپڈیو (Rapidev) نے تیار کی۔اس کمپنی کا ہیڈکوارٹر دوبئی میں ہے تاہم کمپنی نے ایک دفتر نسٹ میں بھی قائم کر رکھا ہے۔ یہ کمپنی کس کی ہے اور کمپنی کو کس نے اور کیوں مشین بنانے کا ٹاسک دیا؟ یہ راز کوئی نہیں جانتا۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ کپتان کی حکومت ایک سیاسی جماعت کی حکومت ہے اور یہ 2023 کے الیکشنز کی سٹیک ہولڈر بھی ہے، لہٰذا الیکشن کمیشن حکومت کی پسند کی کسی پرائیویٹ کمپنی کی مشین الیکشن میں استعمال کرنے کی اجازت کیوں دے دے؟ الیکشن کمیشن کا خیال ہے کہ مشین کے بارے میں فیصلہ الیکشن کمیشن کا مینڈیٹ ہے۔ ویسے بھی ایک حکومتی پارٹی جب اپنی مشین کے ذریعے الیکشن کرائے گی تو اسکی کیا ساکھ رہ جائے گی۔ تیسرا مسئلہ یہ ہے کہ الیکشن کمیشن میں انتخابی عمل کو فوری طور پر مشین پر شفٹ کرنے کی کیپسٹی بھی نہیں ہے۔ کمیشن کو اس سلسلے میں تیاری کے لیے وقت چاہیے لیکن حکومت ہر صورت مشین ’’نافذ‘‘ کرانا چاہتی ہے اور الیکشن کمیشن اس کے لیے تیار نہیں۔ چنانچہ ردعمل میں حکومتی وزراء نے 10ستمبر کو سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی اور صدر عارف علوی کے دفتر میں الیکشن کمیشن کے عملے کی خوف ناک بے عزتی کی۔ الیکشن کمیشن کے ڈی جی آئی ٹی آپریشنز محمدخضر عزیز اور دو ڈائریکٹرز صدر کی دعوت پر ایوان صدر گئے لیکن وہ روتے ہوئے واپس آئے۔
ان کا کہنا تھا وزراء ہماری بے عزتی کر رہے تھے اور صدر علوی ہنس رہے تھے لہٰذا الیکشن کمیشن نے فیصلہ کیا یہ کسی قیمت پر حکومت کا کوئی ناجائز مطالبہ نہیں مانے گا۔ بقول جاوید چودھری الیکشن کمیشن فواد چوہدری اور اعظم سواتی کے خلاف قانونی کارروائی بھی کرے گا‘ ڈسکہ الیکشن کی دونوں رپورٹس بھی سامنے آئیں گی اور فارن فنڈنگ کیس کی رپورٹ بھی اسی مہینے ریلیز ہو جائے گی۔ چناں چہ میں ایک بار پھر کہوں گا حکومت نے غلط آدمی سے پنگا لے لیا ہے کیونکہ سکندر سلطان راجہ کسی قیمت پر پیچھے نہیں ہٹے گا۔

Back to top button