عمران خان کیخلاف  فوجی عدالت میں کارروائی کب ہو گی؟

فارمیشن کمانڈرزکانفرنس کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق سانحہ 9 مئی کے سہولتکاروں،منصوبہ سازوں اور ماسٹر مائنڈز کیخلاف کارروائی آرمی ایکٹ کے تحت فوجی عدالتوں میں ہو گی تاہم  9 مئی کی شرپسندانہ کارروائیوں کا اصل منصوبہ ساز اور ماسٹر مائنڈ عمران خان تاحال شکنجے سے باہر ہے اور مزید کچھ عرصہ بھی اس کی پکڑ ممکن دکھائی نہیں دیتی ابھی تک عمران خان کے کورٹ مارشل کے حوالے سے بھی کارروائی کا آغاز نہیں کیا گیااس بات کی تصدیق وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بھی اپنے حالیہ انٹرویو میں کی ہے۔ وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہےکہ سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمہ چلانے کے لیے ابھی تک فوج نے نام نہیں مانگا۔ ’نو مئی کے واقعات کے 70 ملزمان کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمہ چلانے کے لیے کہا گیا ہے اور اب تک مانگے گئے افراد کی فہرست میں عمران خان کا نام شامل نہیں۔‘

وفاقی وزیر قانون نے مزید کہا کہ ’آرمی ایکٹ 1952 فوجی عدالتوں کو سویلینز کے خلاف مقدمہ چلانے کا اختیار دیتا ہے کہ اگر جرم آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ کے تحت آنے والے کچھ جرائم میں شامل ہو جو 9 مئی کے واقعات میں ہوئے۔ عسکری اداروں نے مقدمہ چلانے کے لیے ابھی تک 70 سے زائد افراد کو مانگا ہے۔‘  اس سوال کے جواب میں کہ کیا فوج نے ملٹری کورٹ میں ٹرائل کے لیے جو 70 افراد مانگے ہیں ان میں عمران خان کا نام شامل ہے؟‘ تو اعظم نذیر تارڑ نے جواب دیا کہ ’ابھی تک نہیں ہے۔وزیر قانون کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کے خلاف انسداد دہشت گردی کے قانون کی دفعہ سات کے تحت مقدمات چل رہے ہیں تاہم ان پر فوجی مقدمہ چلانے کا فیصلہ متعلقہ اداروں کا ہو گا، فوجی یا صوبائی حکومتوں کا نہیں۔  ’یہ فیصلہ قانون کو سامنے رکھتے ہوئے عسکری اداروں نے کرنا ہے۔ ٹرائل کہاں پر ہونا ہے یہ فیصلہ قانون کرتا ہے کوئی اتھارٹی نہیں۔ اس لیے وفاقی حکومت کا اس معاملے سے تعلق نہیں ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس بارے میں قانون میں صورتحال واضح ہے۔
’موجودہ قانون کے تحت جرائم ہوئے ہیں، ان کے فورم کیا ہوں گے، ان کی سزائیں کیا ہیں، وہ متعلقہ قوانین میں موجود ہیں۔ انسداد دہشت گردی اور آفیشل سیکرٹ اور آرمی ایکٹ میں بھی موجود ہیں۔   اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ ’جہاں تک تعلق ہے پراسیکیوشن کا تو جو جرائم ہوئے، 9 مئی کے جو واقعات ہیں وہ اندوہناک ہیں۔ ان کی پراسیکیوشن کا جو تعین ہے وہ کسی حکومت نے یا کسی اتھارٹی نے نہیں کرنا، وہ قانون کی عملداری کے تحت ہوتا ہے۔‘
انتخابات کے انعقاد کے بارے میں بات کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ یہ اسی سال منعقد ہوں گے اور 12 اکتوبر سے پہلے ہر حال میں ہو جانے چاہییں۔انہوں نے بتایا کہ ’اگر کسی صورت میں ایک ایڈوائس پر مدت کی تکمیل سے قبل اسمبلیاں خود تحلیل نہیں کر دی جاتیں تو آئین کے مطابق 12 اگست کو قومی اسمبلی اور باقی دو صوبائی اسمبلیاں تحلیل ہوں گی۔ اگر مدت پوری ہوتی ہے تو اس کے بعد 60 دنوں میں انتخابات ہونے ہیں، 12 اکتوبر سے پہلے۔ اگر کسی وجہ سے اسمبلی پہلے تحلیل ہو جاتی ہے تو پھر 90 دن ہیں۔‘وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ موجودہ سیاسی صورتحال کی وجہ سے حکومت کو کچھ لوگ مشورے دے رہے ہیں کہ اس وقت حالات ان کے حق میں ہیں لہٰذا پنجاب میں انتخابات کروا لیے جائیں تاہم حکومت ایسا نہیں کرے گی کیونکہ وہ اس کو ملکی مفاد میں نہیں سمجھتی۔انتخابات کی حتمی تاریخ کے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ حکومت کا اختیار نہیں تاہم موجودہ آئینی صورتحال کے مطابق انہیں 12 نومبر سے آگے نہیں جانا چاہیے۔’تاریخ دینے کا اختیار صدر مملکت کا ہے، یا چیف الیکشن کمشنر کا یا گورنرز کا ہے، یہ اختیار حکومت کا نہیں ہے۔ لیکن مجھے جہاں تک آئین کی، قانون کی سمجھ ہے اور جو حالات میں دیکھ رہا ہوں تو انتخابات کسی بھی صورت میں 12 اکتوبر سے 12 نومبر یا 10 نومبر کے درمیان ہونے چاہییں۔‘
ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ فی الحال پاکستان میں ایسا کوئی ماحول نہیں کہ ایمرجنسی لگا کر انتخابات کو ملتوی کیا جائے۔’کچھ آپشنز ہیں جیسے کہ معاشی ایمرجنسی ہے اگر حالات ایسے آتے ہیں کہ جس میں ریاست کے بچاؤ کا سوال ہو، وہ اندرونی حالات کی خرابی ہو سکتی ہے۔ وہ اکنامک ایمرجنسی بھی ہو سکتی ہے۔ موجودہ حالات میں معاشی محاذ اور داخلی صورتحال کے حوالے سے چیزیں معمول کے مطابق چل رہی ہیں، پریشانیاں ہیں لیکن آج کے دن تک حالات ایسے نہیں ہیں کہ ایمرجنسی کا نفاذ ہو۔‘
انہوں نے اعتراف کیا کہ سپریم کورٹ پر اعتماد کا فقدان ہے، اور حکومت کو عدالتی بنچوں کی تشکیل پر اعتراضات رہے ہیں۔’اگر تین لوگ سپریم کورٹ ہوں گے، تکنیکی طور پر یہ سپریم کورٹ ہے لیکن اگر بار بار، بار بار یہی بینچ ہو گا تو پھر لوگ انگلیاں بھی اٹھائیں گے، باتیں بھی ہوں گی۔‘’لیکن جو ہوا، برا ہوا، میں دعا گو ہوں کہ آئندہ چیزیں اچھی ہوں۔‘

Back to top button