اربوں روپے کا ٹیکس ہڑپ کرنیوالے پاکستانی شعبے کونسے ہیں؟

ٹیکس محصولات کسی بھی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہوتے ہیں، کیونکہ حکومتی اخراجات کا بیشتر حصہ انہیں ٹیکس محصولات سے پورا کیا جاتا ہے لیکن پاکستان میں کئی شعبے ایسے ہیں جو سالانہ اربوں روپے کا ٹیکس ہڑپ کر جاتے ہیں، پانچ شعبے سالانہ 956 ارب روپے کا ٹیکس چوری کرتے ہیں۔
عالمی ادارے Ipsos کی رپورٹ کے مابق ریئل اسٹیٹ سالانہ 500 ارب، تمباکو 240 ارب، ٹائر 106 ارب، فارما 65 ارب اور چائے کا شعبہ 45 ارب روپے کا ٹیکس چوری کرتے ہیں، ان 956 ارب روپے سے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو پورا سال چلایا جا سکتا ہے۔ اس سے وفاق کا 10 سال کا تعلیمی بجٹ نکل سکتا ہے۔ 1700 کلومیٹر نئی موٹر ویز بنائی جا سکتی ہیں، مہمند ڈیم بنانے کی لاگت نکل سکتی ہے۔
ریئل اسٹیٹ سیکٹر سالانہ 500 ارب روپے چوری کر رہا ہے، زمینوں اور گھروں کی خرید و فروخت کا جو مروجہ طریقہ پاکستان میں رائج ہے وہ خاصا الجھا ہوا ہے، سرکار کے پاس وہ رسیدیں آتی ہیں جن کی قیمت بہت کم دکھائی جاتی ہے اور یہ مارکیٹ ریٹ سے 60 سے 70 فیصد کم ہوتی ہے۔
پاکستان میں سگریٹ کی صنعتیں سالانہ 240 ارب روپے کا ٹیکس ہڑپ کرتی ہیں، جس کی وجہ سے غیر قانونی سگریٹ کی سمگلنگ اور بغیر ٹیکس کے سگریٹ کی فروخت میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا، پاکستان میں سگریٹ بنانے والی 40 کمپنیاں سگریٹ کی غیر قانونی فروخت میں ملوث ہیں۔ یہ کمپنیاں پاکستان میں فروخت ہونے والے کل سگریٹ کا 38 فیصد تیار کرتی ہیں۔
وہ کمپنیاں جو قانونی طور پر کام کر رہی تھیں ان کی پیداوار میں ایک سال کے دوران نصف حد تک کمی ہو گئی۔ اس وقت مارکیٹ میں سگریٹ کی غیر قانونی فروخت کا حصہ 45 فیصد تک پہنچ چکا ہے، گذشتہ مالی سال میں سگریٹ کے شعبے میں ٹیکس چوری 80 ارب روپے تھی جو اب بڑھ کر 240 ارب روپے ہو چکی ہے۔
آٹو موبائل سیکٹر بھی سالانہ 106 ارب روپے کا ٹیکس ہڑپ کر رہا ہے، دو دہائیوں میں آٹو موبائل سیکٹر میں کافی اضافہ ہوا جس کی وجہ سے گاڑیوں کے ٹائروں کی طلب بھی کافی بڑھ گئی ہے، اس وقت پاکستان میں ساڑھے تین کروڑ گاڑیاں ہیں۔
اس وقت پاکستان میں 65 فیصد ٹائر سمگلنگ کے ذریعے آ رہے ہیں جبکہ 20 فیصد مقامی طور پر تیار کردہ ہیں اور 15 فیصد در آمد کیے جاتے ہیں۔اس طرح یہ شعبہ مجموعی طور پر قومی خزانے کو سالانہ 50 ارب روپے کا نقصان پہنچاتا ہے۔گاڑیوں کے انجن آئل کی تجارت میں بھی حکومت کو سالانہ 56 ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے، پاکستان سالانہ 40 کروڑ لیٹر گاڑیوں کا انجن آئل استعمال کرتا ہے جس میں سے نصف کی فروخت کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہوتا۔
’فارما سوٹیکلز کمپنیاں سالانہ 56 ارب روپے کا ٹیکس حکومت سے چھپا رہی ہیں، فارما سوٹیکلز کے شعبے نے پچھلے چند سالوں میں 12 فیصد سالانہ کے حساب سے ترقی کی ہے، 2020 میں اس شعبے کی مارکیٹ کا مجموعی حجم 500 ارب روپے تھا۔ ملک بھر میں سات سو 75 فارما سوٹیکلز کمپنیاں ادویات کی تیاری میں مصروف ہیں جن میں سے ٹاپ 15 کمپنیوں کا مارکیٹ میں حصہ 59 فیصد ہے۔ جبکہ ٹاپ 100 کمپنیوں کا اس شعبے کے کل ٹیکس میں حصہ 97 فیصد ہے۔
ایک جائزے کے مطابق پاکستان میں سات فیصد ادویات جعلی فروخت ہو رہی ہیں۔ پاکستان فارما سوٹیکلز مینوفکچرز ایسوسی ایشن کے مطابق جب مارکیٹ میں دوائیوں کی قیمتیں بڑھیں گی تو پھر جعلی ادویات کا راستہ بھی کھل جائے گا۔ ان تمام مدوں میں سرکاری خزانے کوسالانہ 65 ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے۔
پاکستان دنیا بھر میں چائے درآمد کرنے میں پہلے نمبر پر ہے، چائے کے بڑے درآمد کنندگان کا حصہ اس میں 55 سے60 فیصد ہے جبکہ باقی چھوٹے درآمد کنندگان ہیں جو زیادہ تر کھلی چائے بیچ کر ٹیکس چوری کرتے ہیں۔
کئی سالوں سے چائے کی درآمد 60 کروڑ ڈالر کی حد پر کھڑی ہے حالانکہ پاکستان کی آبادی میں چند سالوں میں خاصا اضافہ ہوا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس شعبے میں بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری ہو رہی ہے، چائے کے درآمد کنندگان کے مطابق یہ چوری سالانہ 45 ارب روپے کی ہے۔
