قبضہ گروپ کی سرغنہ عمران کی بہن مفرور ہو گئی

چیئر مین پی ٹی آئی عمران خان کی فیملی کا ایک اور میگا کرپشن سکینڈل بے نقاب ہو گیا ہے۔ عمران خان کی بہن اور بہنوئی کے خلاف اربوں روپے کی زمین دھوکہ دہی سے سستے داموں خریدنے کا انکشاف ہوا ہے۔ جس کے بعد اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے ذمہ داران کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔جس کے بعد عمران خان کی بہن اور بہنوئی کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارنے شروع کر دئیے ہیںاور دونوں میاں بیوی مفرور ہو گئے ہیں۔
ترجمان اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب کے مطابق اینٹی کرپشن نے میگا کرپشن سکینڈل میں ملوث سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن اور انکے شوہر کی گرفتاری کے لیے چھاپےبمار رہی ہے لیکن ڈاکٹر عظمی خان اور انکا شوہر احد مجید گرفتار نہیں ہو سکے۔ ترجمان اینٹی کرپشن کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عظمی اور انکے شوہر کی گرفتاری کے لئے لاہور اور لیہ میں واقع انکے گھروں پر چھاپے مارے گئے۔ ترجمان کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمی خان پر اربوں روپے کی زمین دھوکہ دہی سے خریدنے کا الزام ثابت ہونے پر مقدمہ درج ہوا۔ اینٹی کرپشن لیہ میں اس میگا کرپشن سکینڈل کی انکوائری جاری ہے۔ترجمان کے مطابق اینٹی کرپشن بدعنوان عناصر کے خلاف بغیر کسی دباو کے بلاامتیاز کاروائیاں جاری رکھے گا۔
اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی بہن اور بہنوئی کے خلاف ضلع لیہ میں 5 ہزار 261 کنال قیمتی اراضی فراڈ کے ذریعے سستے داموں خریدنے پر مقدمہ درج کیا ہے۔ اے سی ای لیہ سرکل نے عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان اور ان کے شوہر احد مجید کے خلاف مقدمہ درج کرنے سے پہلے رپورٹ تیار کی۔
ایف آئی آر کے مطابق ڈاکٹر عظمیٰ خان نے لیہ کے علاقے نواں کوٹ میں 5 ہزار 261 کنال اراضی دھوکا دہی اور سیاسی دباؤ کے ذریعے 13 کروڑ روپے کی لاگت سے خریدی جبکہ زمین کی اصل قیمت 6 ارب روپے تھی۔ڈاکٹر عظمیٰ خان نے اپنے شوہر احد مجید کے ساتھ زمین کی رجسٹریشن شیئر کی، یہ زمین گریٹر تھل کینال منصوبے کے قریب خریدی گئی۔
ایف آئی آر میں مزید کہا گیا ہےکہ مقامی لوگوں کو اس منصوبے کے بارے میں علم نہیں تھا جبکہ یہ معلومات ڈاکٹر عظمیٰ خان کے پاس موجود تھیں اور وہ اس معاہدے سے ناجائز فائدہ اٹھانا چاہتی تھیں۔اے سی ای کے عہدیدار نے انکشاف کیا کہ مقامی لوگوں سے 500 کنال زمین چھینی گئی اور انہیں ضلعی انتظامیہ نے زمین چھوڑنے پر مجبور کیا جو کہ غیر قانونی تھا۔ایف آئی آر میں یہ بھی کہا گیا کہ غلام اصغر پٹواری نے 2 ہزار کنال کی جعلی میوٹیشن کی۔جس پر اے سی ای نے ڈاکٹر عظمیٰ خان، احد مجید اور پٹواری غلام اصغر کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔
دوسری طرف ترجمان اینٹی کرپشن کے مطابق ڈاکٹر عظمیٰ خان نے اربوں کی زمین صرف 13کروڑ میں خریدی۔سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن اور بہنوئی کے خلاف اربوں روپے کی زمین دھوکہ دہی سے خریدنے پر مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ڈاکٹر عظمیٰ خان نے اربوں روپے کی زمین دھوکہ دہی سے صرف 13کروڑ میں خریدی۔ ڈاکٹر عظمی خان کے خلاف ضلع لیہ میں 5261 کنال اراضی غیر قانونی طور پرخریدنے کا الزام ہے۔ زمین دھوکہ دہی، فراڈ اور جعلسازی سے 22-2021 میں خریدی گئی۔ڈاکٹر عظمیٰ خان نے شوہر احد مجید سے ملکر جعلی انتقالات کروائے ۔ غیر قانونی طریقے سے خریدی گئی زمین ڈاکٹر عظمیٰ نے اپنے اور اپنے خاوند احد کے نام کی۔ دھوکہ دہی سے خریدے گئے رقبہ کی مالیت 6 ارب روپے سے زائد ہے۔رقبہ تب خریدا گیا جب ایشین ڈویلپمنٹ بینک نے گریٹر تھل کنال منصوبے کا اعلان کیا۔ اس منصوبے کے تحت تھل کنال کے ذریعے بنجر زمینوں کو سیراب کرنا تھا۔
ترجمان اینٹی کرپشن کے مطابق ڈاکٹر عظمیٰ خان کو تھل کنال منصوبے کا پہلے سے علم تھا۔ڈاکٹر عظمیٰ خان اور اسکے شوہر نے مالکان سے زبردستی زمین خرید کر اپنے نام منتقل کی۔زمین مالکان نے ڈاکٹر عظمیٰ وغیرہ کے خلاف مقامی تھانے میں زبردستی زمین خریدنے کی شکایات درج کروائیں۔کچھ مقامی لوگوں نے جسٹس آف پیس میں بھی درخواستیں دیں۔دھوکہ دہی سے خریدی گئی زمین کا بعد ازاں غیر قانونی طور پر قبضہ لیا گیا۔ ترجمان اینٹی کرپشن کا مزید کہنا ہے کہ دھوکہ دہی میں ملوث دیگر افسران و اہلکاران کے کردار کا تعین دوران تفتیش کیا جائے گا ۔کرپٹ عناصر کے خلاف اینٹی کرپشن کی زیرو ٹالرنس پالیسی جاری رہے گی۔
