عمران خان کی نااہلی پر حکمران اتحاد کا ردعمل

وزیراعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری،پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز سمیت حکمران اتحادکے رہنمائوں تحریک انصاف کےچیئرمین عمران خان کی توشہ خان ریفرنس میں الیکشن کمیشن آف پاکستان سےنااہلی پر ردعل دیتے ہوئےعمران خان کیخلاف مزید کارروائی کا مطالبہ کیاہے۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پرردعمل میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا الیکشن کمیشن نے توشہ خانہ ریفرنس میں انصاف کیا، قوم نے دیکھ لیا کہ کرپٹ پریکٹس کرکے وزیراعظم کے منصب کو ذاتی آمدنی کا ذریعہ بنایاگیا، صداقت و امانت کا بُت پاش پاش ہوگیا، قانون سے لڑنے، گولیاں، ڈنڈے چلانے، فسادی جتھے لانے کے بجائے قانون کے سامنے سر جھکائیں، کوئی قانون سے بالا نہیں ہیں۔
وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے ٹویٹ میں کہا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے عمران خان کو کرپٹ سرگرمیوں کا مرتکب قرار دیا ہے، وہ اب نااہل ٹھہر گئے ہیں، جس نے اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف مبینہ کرپشن کے بارے میں جھوٹ پھیلایا، اس کو رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ہے۔
مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے ٹویٹر پر ردعمل میں کہا اللہ کا شکر ہے کہ ایک سرٹیفائیڈ چور اپنے انجام کو پہنچا، جو دوسروں کو چور چور کہتا تھا، آج اس پر نہ صرف چوری ثابت ہوگئی ہے بلکہ جو ثبوت ہیں وہ ناقابل تردید ہیں، وہ ثبوت کے ساتھ پاکستان کا سند یافتہ چور ہے، جس طرح کی چوری اس کی پکڑی گئی ہے، اس پر صرف نااہلی کافی نہیں ہے، اس کے خلاف جیسے ای سی پی نے کہا کہ مجرمانہ کارروائی شروع ہونی چاہیے، اس کو کیے کی سزا ضرور ملنی چاہیے اور اس کو قانون کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے اور قوم کا چوری اور لوٹا ہوا مال نکلوانا چاہیے، وہ اقامہ پر نہیں اپنی چوری پر نااہل ہوا ہے۔
پاکستان ڈیموکریٹ موومنٹ کے سربراہ و امیر جے یو آئی مولانا فضل الرحمن نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا ہماری باتیں لوگوں کے دلوں میں نہیں لگتی تھیں، سب چیزیں سامنے آئیں گی، میں جو 10 سے 15 سال گزرے ہیں ‘روز اول سے کہتا رہا ہوں عمران خان پاکستانی سیاست کا غیرضروری عنصر ہے اور اس سے ہماری سیاست میں فیڈ کیا گیا ہے،اس کی پشت پر بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ ہے، اس کی امانت، دیانت اور صداقت طشت ازبام ہوئی ہے، صداقت کا یہ عالم ہے کہ صبح ایک بات کرتا ہے تو شام کو دوسری بات، پھر اگلے دن اس سے مختلف اور اس سے اگلے دن پھر مختلف بات کرتا ہے، کسی بات پر آج ٹھہرا نہیں یہ کیسی صداقت ہے اور روز روز بیانیہ تبدیل ہوتا ہے۔
انکا کہناتھا امانت کا یہ عالم کہ لوگوں کو چور کہتا ہے کہ پاکستان میں انہوں نے چوری کی ہے لیکن اس نے پوری دنیا کو لوٹا ہے، امریکیوں، اسرائیل، بھارت سے پیسہ لے کر لوٹا ہے، اپنی نگری ہے جو چاہے اس میں کرے، اس کے لیے کوئی قانون نہیں ہے، آج وہ جکڑا گیا ہے اور اسی کو آگے لے کر جائیں گے اور پاکستان اس قسم کے عناصر سے نجات پائے گا،جو لوگ ایسے آدمی کی پشت پناہی میں ملک کے اندر تخریب کاری کی طرف جانا چاہتے ہیں تو اب پاکستان میں تخریب کاری نہیں چلے گی، عوام ایسے لوگوں کو کچل کر رکھ دیں گے۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا عام آدمی کے لیے اس طرح مشکلات پیدا نہ کی جائیں، جلوس ہم نے بھی نکالے ہیں، ملین مارچ کیے، اسلام آباد تک آزادی مارچ لے کر آئے، 10،10 لاکھ لوگوں سے خطاب کیا ہے، اسلام آباد میں 15 دنوں تک لوگوں کو رکھا لیکن کسی عام آدمی کی زندگی کو تکلیف نہیں پہنچائی، اس طریقے سے یہ ردعمل بوکھلاہٹ ہے، پی ٹی آئی، اس کے کارکنوں اور گمراہوں کی بوکھلاہٹ ہے اور قوم اس قسم کے حربوں سے گمراہ نہیں ہوگی، ہم بھی میدان میں کھڑے ہیں، ہم نے ان کو اقتدار سے نکالا ہے اور آج ملک کی سیاست باہر کردیا ہے، یہ ہماری فتح ہے، قوم کی فتح ہے اور میں پوری قوم کو مبارک باد دیتا ہوں۔
وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا طاقت ور قانون کے نیچے آ گیا، اب ملک خوش حال ہوگا،فارن فنڈڈ فتنے کی چوری پکڑی گئی۔ فیصلہ خلاف ہوا تو الیکشن کمیشن پر حملہ کرنے سے نااہلی تو ختم نہیں ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ طاقتور فارن فنڈڈ فتنہ آخر قانون کے نیچے آ گیا۔ اب ملک خوشحال ہوگا۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ صرف نااہلی نہیں اب جیل جانا بھی جانا ہے ۔ عمران خان نااہل ہو چکے ہیں ، عمران خان نے الیکشن کمیشن کو کوئی رسیدیں نہیں دیں، الیکشن کمیشن نااہل نہ کرتا تو اور کیا کرتا ۔ فارن فنڈد فتنے نے 2019ء کے بعد کوئی تحفہ توشہ خانہ میں ظاہر نہیں کیا ۔ الیکشن کمیشن نااہل نہ کرتا تو اور کیا کرتا، فارن فنڈڈ فتنے نے توشہ خانہ میں تحفہ نہیں صرف پیسے جمع کروائے، الیکشن کمیشن نااہل نہ کرتا تو اور کیا کرتا ۔ فارن فنڈد فتنے نے توشہ خانہ میں 2019ء کے بعد توشہ خانہ میں کوئی تحفہ جمع نہیں کروایا۔
