نا اہل قرار پانے والے عمران مکافات عمل کا شکار کیسے ہوئے؟

آئینی اور قانونی ماہرین کاکہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کے ہاتھوں توشہ خانہ ریفرنس میں صادق اور امین نہ رہنے پر نا اہل قرار پانے والے عمران خان دراصل مکافات عمل کا شکار ہوئے ہیں کیونکہ ماضی میں موصوف نواز شریف کو بھی اسی الزام پر نا اہل قرار دلوا چکے ہیں۔ یاد رہے کہ آئینی طور پر الیکشن کمیشن توشہ خانہ ریفرنس پر 4 نومبر سے پہلے فیصلہ سنانے کا پابند تھا۔ الیکشن کمیشن کے 4 رکنی کمیشن نے متفقہ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عمران خان کرپٹ پریکٹسز میں ملوث رہے ہیں، ان کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کیا جائے گا۔
فیصلہ سناتے ہوئے کہا گیا کہ عمران خان رکن قومی اسمبلی بھی نہیں رہے، اور ان کی نشست خالی قرار دی جاتی ہے۔ تاہم ان کی نا اہلی تاحیات نہیں ہے۔
یاد رہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت کے خاتمے کے بعد اتحادی حکومت کے ارکان قومی اسمبلی کی درخواست پر سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے 4 اگست کو الیکشن کمیشن کو آئین کے آرٹیکل 63 (ٹو) کے تحت ریفرنس بھیجا تھا جس میں آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت عمران کی نااہلی کی سزا کی استدعا کی گئی تھی۔مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی بیرسٹر محسن نواز رانجھا نے عمران کے خلاف سپیکر قومی اسمبلی کے پاس آئین کے آرٹیکل 63 (ٹو) کے تحت ریفرنس دائر کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ عمران نے سرکاری توشہ خانہ سے تحائف خریدے مگر الیکشن کمیشن میں جمع کرائے گئے اثاثہ جات کے گوشواروں میں انھیں ظاہر نہیں کیا، اس طرح وہ ’بددیانت‘ ہیں، لہٰذا انھیں آئین کے آرٹیکل 62 ون (ایف) کے تحت نااہل قرار دیا جائے۔
یاد رہے کہ ماضی میں سپریم کورٹ نے عمران خان کی درخواست پر اقامہ ظاہر نہ کرنے پر قرار دیا تھا کہ نواز شریف صادق اور امین نہیں رہے لہٰذا انہیں نا اہل قرار دے دیا گیا تھا۔ اسکے علاوہ اسی بنیاد پر نواز شریف کو وزارت عظمیٰ سے نکالنے کے علاوہ تا حیات رکنِ پارلیمنٹ بننے اور کسی بھی حکومتی عہدے کے لیے بھی نااہل قرار دے دیا گیا تھا، لیکن پاکستان کی عدالتی تاریخ میں اس فیصلے کو ایک بُری نظیر سمجھا جاتا ہے۔ تاہم یہ فیصلہ کتنا ہی بُرا اور متنازعہ کیوں نہ ہو، ایک عدالتی نظیر کے طور پر اب بھی موجود ہے اور اب عمران خان بھی اُسی کی روشنی میں نا اہل قرار پائے ہیں۔ لیکن صورتِ حال تب مختلف ہو سکتی ہے جب سپریم کورٹ عمرانڈو پن کا ثبوت دیتے ہوئے نواز نا اہلی کیس میں دیے گئے فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے اُسے تبدیل کر دے۔
یاد رہے کہ جون 2017 میں دیے گئے فیصلے میں سپریم کورٹ نے نواز شریف کو اس لیے نااہل قرار دیا تھا کہ اُنہوں نے 2013 کے الیکشن کے وقت کاغذاتِ نامزدگی جمع کرواتے وقت الیکشن کمیشن کو دیے گئے ڈیکلریشن میں اُس تنخواہ کو اپنے اثاثہ جات میں ظاہر نہیں کیا تھاجو اُنہوں نے وصول بھی نہیں کی تھی۔ یعنی جو پیسہ اُنہیں ملنا تھا لیکن ملا نہیں تھا اُس کو ظاہر نہ کرنے پر سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ نوازشریف نے جعلی ڈکلریشن جمع کروایا جس کی وجہ سے وہ صادق اور امین نہیں رہے اس لیے اُنہیں پارلیمنٹ کی رکنیت سے نااہل قرار دیا جاتا ہے۔ بلاشبہ یہ ایک عجیب وغریب فیصلہ تھا اور اس کا واحد مقصد نواز شریف کو نااہل کرنا تھا۔
دوسری جانب عمران خان کا معاملہ یہ تھا کہ انہوں نے توشہ خان کے کروڑوں روپے مالیت کے قیمتی تحفے خریدنے اور پھر بیچ کر منافع کمانے کی تفصیل اپنے سالانہ گوشوارے میں ظاہر ہی نہیں کی جو انہوں نے الیکشن کمیشن میں جمع کروایا تھا۔ یاد رہے کہ حلف نامے کے ساتھ ہر رکن پارلیمان ہر سال اپنے اثاثہ جات کی مکمل تفصیل الیکشن کمیشن کو فراہم کرتا ہے ،جسے گزٹ نوٹیفکیشن کے ذریعے پبلک کیا جاتا ہے۔ عمران اور نواز کا کیس ملا کر دیکھا جائے تو دونوں نے گوشوارے الیکشن کمیشن میں جمع کرائے۔ نواز شریف نے اپنے بیٹے سے ملنے وال تنخواہ ظاہر نہیں کی تھی چونکہ انہوں نے اسے وصول ہی نہیں کیا تھا، لیکن وہ قابلِ وصول تھی۔ عمران کے کیس میں دیکھیں تو انہوں نے وہ اثاثہ جات ظاہر نہیں کیے جو انہوں نے توشہ خانہ کے تحفے فروخت کرکے بنائے تھے۔ عمران خان نے یہ اثاثہ جات دو سال بعد کے ڈکلریشن میں ظاہر کیے جب ان تحفوں کے بارے میں شور مچنا شروع ہو گیا تھا۔ جب سپریم کورٹ کے فیصلے کو پڑھا جائے اور پھر نواز شریف اور عمران خان کے کیسوں کا تقابل کیا جائے تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ عمران بہت بُرے طریقے سے پھنس چکے تھے اور ان کی نااہلی یقینی تھی جو کہ اب ہوچکی ہے۔
توشہ خانہ کیس کی سماعت کے دوران عمران کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے مؤقف اپنایا تھا کہ 62 (ون) (ایف) کے تحت نااہلی صرف عدلیہ کا اختیار ہے اور سپریم کورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن کوئی عدالت نہیں۔ تاہم الیکشن کمیشن نے یہ موقف تسلیم نہیں کیا۔ واضح رہے کہ عمران خان نے توشہ خانہ ریفرنس کے سلسلے میں 7 ستمبر کو الیکشن کمیشن میں اپنا تحریری جواب جمع کرایا تھا، جواب کے مطابق یکم اگست 2018 سے 31 دسمبر 2021 کے دوران وزیر اعظم اور ان کی اہلیہ کو 58 تحائف دیے گئے۔ بتایا گیا کہ یہ تحائف زیادہ تر پھولوں کے گلدان، میز پوش، آرائشی سامان، دیوار کی آرائش کا سامان، چھوٹے قالین، بٹوے، پرفیوم، تسبیح، خطاطی، فریم، پیپر ویٹ اور پین ہولڈرز پر مشتمل تھے البتہ ان میں گھڑی، قلم، کفلنگز، انگوٹھی، بریسلیٹ/لاکٹس بھی شامل تھے۔ جواب میں بتایا کہ ان سب تحائف میں صرف 14 چیزیں ایسی تھیں جن کی مالیت 30 ہزار روپے سے زائد تھی جسے انہوں نے باقاعدہ طریقہ کار کے تحت رقم ادا کر کے خریدا۔
اپنے جواب میں عمران خان نے اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے بطور وزیر اعظم اپنے دور میں 4 تحائف فروخت کیے تھے۔ سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ انہوں نے 2 کروڑ 16 لاکھ روپے کی ادائیگی کے بعد سرکاری خزانے سے تحائف کی فروخت سے تقریباً 5 کروڑ 80 لاکھ روپے حاصل کیے، ان تحائف میں ایک گھڑی، کفلنگز، ایک مہنگا قلم اور ایک انگوٹھی شامل تھی جبکہ دیگر 3 تحائف میں 4 رولیکس گھڑیاں شامل تھیں۔
