عمران خان کی عوام کے زخموں پر نمک پاشی

https://youtu.be/l51DKOg55BQ
وزیراعظم عمران خان اپنی مخالف اپوزیشن قیادت کو تو انتقام کا نشانہ بنا ہی رہے ہیں لیکن اب انہوں نے پاکستانی عوام کو بھی اپنے نشانے پر رکھ لیا ہے جس کا بڑا ثبوت ان کے تین سالہ دور حکومت کے دوران تاریخی مہنگائی ہے جس نے لوگوں کا جینا محال کر دیا ہے۔
برسر اقتدار آنے سے پہلے قوم سے ایک نیا اور بہتر پاکستان دینے کے جھوٹے وعدے کرنے والا کپتان اب نا صرف دن دگنی اور رات چوگنی مہنگائی کرنے میں مصروف ہے بلکہ عوام کے زخموں پر نمک پاشی بھی کر رہا ہے، مہنگائی کے مارے لوگ ابھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر آہ و بکا کر رہے تھے کہ عمران خان نے ایک ٹوئیٹ میں عوام پر عائد کردہ نت نئے اور بھاری ٹیکسوں کی ریکارڈر ریکوری پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو شاباش دیتے ہوئے عوام کو بھی دلی مبارکباد دے ڈالی جو اس وقت سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی زد میں ہے۔
اپنی ٹویٹ میں عمران خان نے لکھا کہ ایف بی آر کی جانب سے مالی سال 22-2021 کی پہلی سہ ماہی کے دوران 1,211 ارب کے طے شدہ ہدف کی بجائے کامیابی سے 1,395 ارب روپے جمع کرنے پر میں پوری قوم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ برس اسی عرصے کے دوران ٹیکسوں کی ریکوری سے اکٹھی ہونے والی آمدن سے اس سال کی آمدن 38 فیصد ذیادہ ہے۔
تاہم وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اس مبارکباد کو سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے عوام کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین کو کپتان کی جانب سے مبارکباد کی ادا ایک آنکھ نہیں بھائی اور انہوں نے اسے ’ستم بالائے ستم‘ قرار دیتے ہوئے خوب تنقید کا نشانہ بنایا۔
اردو نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا صارفین عوام پر زبردستی لگائے گے ٹیکسوں کی ریکارڈ وصولی کو ’ظلم عظیم‘ قرار دیتے ہوئے عمران خان پر تنقید کر رہے ہیں۔ عروج سیامی نامی ٹوئٹر صارف نے لکھا کہ وزیر اعظم نے ایف بی آر کی ریکارڈ ریکوری پر سوچے سمجھے بغیر ہی قوم کو مبارکباد پیش کر دی۔ انہوں نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا وزیراعظم صاحب! یہ عام عوام سے زبردستی لیے گئے ٹیکسز ہیں، زرا یہ بھی بتائیں کہ آپ کے امیر طبقے سے تعلق رکھنے والے دوستوں اور ملز مالکان اور آپ نے اس سال خود کتنا ٹیکس ادا کیا ہے؟ یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان پچھلے کچھ برسوں سے صرف چند ہزار روپے سالانہ ٹیکس ہی ادا کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ایسا اس لیے ہے کہ انکا کوئی ذریعہ آمدن نہیں۔
اس حوالے سے صنم پی ایم ایل این کے نام سے ٹوئٹر ہینڈل نے لکھا کہ قوم کا خون چوسنے پر قوم کو مبارکباد نہیں دیتے جناب! مبارکباد کے حق دار آپ ہیں، آپ کی کابینہ ہے، اور آپ کے سلیکٹرز ہیں جن پر خرچ کرنے کے لیے یہ ٹیکس عوام پر بے تحاشا ظلم کر کے جمع کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کے عوام کو ٹیکسوں کی وصولی پر مبارکباد پیش کرنے سے پہلے وزیراعظم کو اپنے ادا کرنا ٹیکسوں کی تفصیل بھی سامنے لانی چاہیے جس سے ان کا اصل چہرہ بے نقاب ہو جائے گا۔
رائے وحید کھرل نامی صارف نے توئیٹر پر لکھا کہ طوفانی مہنگائی کر کے طے شدہ ٹیکس ہدف حاصل کرنے پر قوم کو مبارکباد نہیں دی جاتی، یہ آپ ہی کا طے کردہ اصول ہے، آپ ہی نے ڈی چوک میں فرمایا تھا کی جب ملک میں مہنگائی ہو تو سمجھ لینا کہ آپکا وزیراعظم چور ہے۔ لہذا قوم اچھی طرح جس طرح آپ کا چہرہ پہچان چکی ہے اور سمجھ چکی ہے کہ ان کی چوری کون کر رہا ہے۔ لطیف آفریدی نے لکھا کہ جناب وزیراعظم صاحب آپ نے تاریخی مہنگائی کرنے پر تو قوم کو مبارکباد نہیں دی، ڈالر تاریخ کی بلند ترین سطح پر لے جانے پر بھی آپ نے عوام کو مبارکباد نہیں دی، پیٹرول تاریخ کی بلند ترین سطح پر لے جانے پر بھی قوم مبارکباد کی مستحق ہے، اور بجلی کی مہنگی ترین قیمت ادا کرنے پر بھی پاکستانی عوام آپلی مبارک باد کے مستحق ہیں۔
ٹوئٹر صارف حسن زیب نے وزیراعظم عمران خان کے ماضی کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ اگر مہنگائی کر کے ہی میں نے ٹیکس اکٹھا کرنا ہے تو یہ کوئی بھی کر سکتا ہے۔ شاید اسی لیے عمران نے مہنگائی کے ذریعے ہی ٹیکس اکٹھا کرنا شروع کر رکھا ہے۔ زیتون ظہیر نامی ٹوئٹر ہینڈل نے لکھا کہ واہ کیا بات ہے، آپ غریبوں کا خون چوسنے پر قوم کو مبارکباد دے رہے ہیں، ٹیکس صرف غریب دیتا ہے جو صرف اور صرف آپ کی کابینہ ممبران کے پیٹوں میں جاتا ہے۔ لہذا عوام کو مبارکباد دینے کی بجائے خود کو اور اپنے وزرا کو مبارکباد دیں جو عوام کے ٹیکسوں سے اکٹھی ہونے والی اس رقم سے عیاشی کریں گے اور اپنی جیبیں بھریں گے۔
