کیا شوکت ترین کے سینیٹر بننے کا راستہ ہموار ہو گیا؟

https://youtu.be/wDTZU8Z5w9g
اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے مقررہ مدت کے دوران حلف نہ اٹھانے کی بنیاد پر ڈی سیٹ کرنے کے لیے جاری کردہ صدارتی آرڈیننس کے خلاف درخواست مسترد کیے جانے کے بعد اس امکان کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اب نون لیگی سینیٹر اسحاق ڈار اپنی نشست نہیں بچا پائیں گے اور وزیر خزانہ شوکت ترین کو ان کی جگہ سینٹر منتخب کروا لیا جائے گا۔

واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے صدارتی آرڈی ننس کے بارے میں کوئی تبصرہ کیے بغیر یہ حکم نامہ جاری کیا کہ یہ معاملہ آئین سے متعلق ہے جس کا فیصلہ پارلیمنٹ کرتی ہے اور یہ عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا تاہم حکومتی حلقوں کا خیال ہے کہ عدالت کی طرف سے سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کی دائر کردہ درخواست مسترد ہونے کے بعد اسحاق ڈار کی نا اہلی یقینی یے اور شوکت ترین کو سینٹر بنوانے کی راہ میں حائل بڑی رکاوٹ دور ہو گئی ہے۔ یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے یکم اکتوبر کو مسلم لیگ ن کے سینٹر اعظم نذیر تارڑ کی اس درخواست کو مسترد کر دیا جس میں اراکین اسمبلی کو ڈی سیٹ کرنے سے متعلق صدارتی آرڈیننس کو چیلنج کیا گیا تھا۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے فیصلے میں لکھا کہ سیاسی معاملات میں عدالت صوابدیدی اختیار استعمال نہیں کرنا چاہتی۔

اُمید ہے پٹیشنر مسلم لیگ ن سمیت تمام سیاسی جماعتیں تمام تنازعات مجلس شوریٰ میں حل کر کے آئینی ادارے کو مضبوط بنائیں گی۔ خیال رہے کہ اس سے قبل سپریم کورٹ نے 2018 میں اسحاق ڈار کے سینیٹر منتخب ہونے کے خلاف کیس میں عدم حاضری کی بنیاد پر ان کی رکنیت عبوری طور پر معطل کر دی تھی جبکہ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثے ریفرنس میں سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو مفرور قرار دے رکھا ہے۔ سپریم کورٹ کے حکمنامے کی روشنی میں الیکشن کمیشن بھی سابق وزیر خزانہ کی رکنیت معطل کر چکا ہے تاہم حلف نہ اٹھانے کے حوالے سے قانونی سقم کی وجہ سے ان کی نشست خالی قرار نہیں کی گئی۔ اب کپتان حکومت نے اسحاق ڈار کی سیٹ خالی کروانے کے لئے ایک صدارتی آرڈیننس جاری کیا ہے جس کے بعد ڈار کی سیٹ خطرے میں پڑ گئی ہے۔ واضح رہے کہ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار ان دنوں لندن میں موجود ہیں، وہ 2017 میں لندن چلے گے تھے بعدازاں ان کی جانب سے بتایا گیا کہ وہ علاج کی غرض سے لندن آئے ہیں۔

تحریک انصاف ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر خزانہ شوکت ترین کو سینیٹر منتخب کرانے کے لیے اسحاق ڈار کی نشست پر الیکشن کروانے کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔ اس حوالے سے قانونی مشاورت کی جارہی ہے جو کہ آئندہ ہفتے مکمل کر لی جائے گی۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر صدارتی آرڈیننس کے تحت ڈار کی نشست خالی کرنے میں کوئی قانونی رکاوٹ درپیش ہوتی ہے تو پھر خیبر پختونخوا سے کسی حکومتی سینیٹر کی نشست خالی کروائی جائے گی جہاں تحریک انصاف کے پاس دو تہائی اکثریت موجود ہے اور انتخاب میں ناکامی کا کوئی خدشہ موجود نہیں۔

سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد کہتے ہیں کہ حکومت صدارتی آرڈیننس کی بنیاد پر الیکشن کمیشن سے اسحاق ڈار کی نشست خالی کرنے اور دوبارہ انتخاب کروانے کی درخواست کر سکتی ہے۔ لیکن کنور دلشاد کے مطابق اگر شوکت ترین کو خیبر پختونخوا سے سینیٹر منتخب کرانا ہے تو اس کے لیے ان کا ووٹ اس صوبے کے کسی حلقے میں ٹرانسفر کرنا ہوگا بصورت دیگر شوکت ترین کو سینیٹر منتخب کرانے کے لیے پنجاب کی ہی کسی نشست پر سینیٹ کا الیکشن کرانا ہوگا۔ یاد رہے کہ قانون کے مطابق اگلے دو ہفتوں میں شوکت ترین سینیٹر نہ بنے تو انہیں وزارت سے ہاتھ دھونے پڑیں گے کیونکہ کوئی بھی غیر منتخب شخص 6 ماہ سے زیادہ وفاقی وزیر نہیں رہ سکتا۔

Back to top button