عمران خان کے دور میں مہنگائی دوگنا سے بھی زائد

تحریک انصاف حکومت کے تین سالہ دور اقتدار میں آٹا، چینی، گھی اور دیگر روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتیں دوگنا سے بھی زائد ہو گئی ہیں جس کے باعث نہ صرف غرب بلکہ متوسط بھی بری طرح مہنگائی کی چکی میں پس کر رہ گیا ہے۔ تاہم حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی اور اس کا اصرار ہے کہ ماضی کی حکومتوں میں اس سے بھی زیادہ مہنگائی ہوا کرتی تھی۔
موجودہ حکومت کے تین سالہ دور میں مہنگائی ایک بہت بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ دوسری جانب آبادی کے مختلف طبقات کی آمدن کم ہوتی جا رہی ہے۔ اگر کرونا کی وجہ سے لوگوں کی آمدن میں کمی ہوئی ہے تو ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی نے بھی پاکستانیوں کی فی کس آمدنی کو شدید متاثر کیا ہے۔ معاشی تجزیہ کار اور ماہرین عالمی سطح پر آٹے، گھی اور چینی کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ داخلی سطح پر پرائس کنٹرول کے کمزور نظام اور ڈالر کی قیمت میں ہونے والے مسلسل اضافے کو بھی ان تینوں بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ قرار دیتے ہیں۔
ملک میں آٹا، چینی اور گھی کی قیمتوں میں گذشتہ تین سال کے دوران بے پناہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ادارہ شماریات کے مطابق اگست 2018 میں چینی کے پچاس کلو بیگ کی قیمت 2600 روپے تھی جو اگست 2021 کے اختتام تک 5000 تک پہنچ گئی۔ چینی کی خوردہ قیمت اگست 2018 میں ساٹھ روپے تھی جو اب بڑھ کر 110 روپے ہو چکی ہے۔اگست 2018 میں مل آٹے کے 20 کلو تھیلے کی قیمت 740 روپے تھی جو اگست 2021 کے اختتام تک 1150 روپے سے تجاوز کر گئی۔ اسی طرح گھی و خوردنی تیل کے پانچ لیٹر کی قیمت اگست 2018 میں 900 روپے تھی وہ اگست 2021 کے اختتام تک 1700 روپے سے تجاوز کر گئی۔
سابق وزیر خزانہ اور معاشی ماہر ڈاکٹر حفیظ پاشا کا کہنا ہے کہ اگر گذشتہ تین سال میں مجموعی طور پر اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کا جائزہ لیا جائے تو ان میں ہونے والا اضافہ چالیس فیصد سے زائد ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اگر صرف اٹے، گھی اور چینی کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کو لیا جائے تو یہ تقریباً 50 فیصد سے زائد ہے، خاص کر دسمبر 2020 کے بعد یہ قیمتیں بہت زیادہ بڑھی ہیں اور کرونا وائرس کی وجہ سے لگنے والے لاک ڈاون کے خاتمے کے بعد ان چیزوں کی قیمتوں میں زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اس عرصے میں عالمی سطح پر ان چیزوں کی قیمتوں میں 20 سے 25 فیصد اضافہ ہوا تاہم پاکستان میں اس اضافے کا اثر دگنا ہوا اور ان کی قیمتیں 60 سے 70 فیصد بڑھ گئیں جس کی سب سے بڑی وجہ ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہے کیونکہ پاکستان پام آئل کے ساتھ اب گندم اور چینی بھی ملکی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے درآمد کر رہا ہے۔‘انھوں نے کہا کہ اگر صرف دسمبر 2020 سے لے کر اب تک پام آئل کی قیمت کو لیا جائے تو اس کی قیمت ڈالر میں 80 فیصد تک بڑھ چکی ہے۔’ڈالر کی پاکستان میں زیادہ قیمت ہونے کی وجہ سے اس کا اثر براہ راست عام آدمی پر پڑتا ہے جب اسے مہنگا درآمدی گھی خریدنے کو ملے گا۔ اسی طرح چینی اور گندم بھی درآمد ہو رہی ہے جو ڈالر کی زیادہ قیمت کی وجہ سے مہنگی مل رہی ہیں۔ پاشا نے کہا کہ بین الاقوامی وجوہات کے ساتھ ملک میں پرائس کنٹرول کا کوئی نظام بھی موجود نہیں جو ناجائز منافع خوری کو روک پائے۔ انھوں نے کہا آج سے پچاس سال قبل پرائس کمیٹیاں بہت مؤثر انداز میں قمیتوں کی نگرانی کرتی تھیں تاہم اب ایسا کوئی میکنزم موجود نہیں۔
ڈاکٹر حفیظ پاشا نے تجویز دی کہ حکومت کو چاہیے کہ کسی نہ کسی ذریعے سے 800 ارب روپے کا بندوبست کرے تاکہ آٹے، چینی اور گھی کی قیمتوں پر سبسڈی دی جائے تاکہ اسے کم نرخوں پر کم آمدنی والے طبقے کو فراہم کر کے اس کی زندگی کو آسان بنایا جا سکے۔
