عمران دوبارہ اقتدار کے خواب کیوں دیکھ رہا ہے؟

سابق وزیر اعظم عمران خان کی شاطرانہ چالوں اور شرپسندانہ سیاست سے نبردآزما اتحادی حکومت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ نے ہی خود اپنے ہاتھوں سے عمران خان کو طاقت کے دو ستون یعنی ریاست کا لاڈلا پن اور عوامی حمایت عطا کی ہے تاہم اب پراجیکٹ عمران بنانے والے خود بھی پچھتا رہے ہیں۔ نیا دور کی ایک رپورٹ کے مطابق 2011 سے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت فوج نے بحیثیتِ ادارہ عمران خان کے منصوبے پر یکسوئی سے کام کیا، میڈیا کے ذریعے عمران خان کو ہیرو بنا کر پیش کیا، عمران مخالف آوازوں کو کچلا اور عدلیہ کے ذریعے عمران خان کو صادق اور امین قرار دلوایا۔ پوری شہری مڈل کلاس کو یہ باور کروایا گیا کہ عمران کے علاوہ سب چور ہیں، عمران کے علاوہ سب نا اہل ہیں اور عمران کے علاوہ سب ملک دشمن ہیں۔ پھر جب اس سے بھی کام نہ چلا تو انتخابات پر دن دیہاڑے ڈاکہ ڈال کر عمران خان کو ملک پر بطور وزیر اعظم مسلّط کر دیا گیا۔

اب جب 2022 کے بعد عمران خان نامی انوکھا لاڈلہ کھیلن کو پھر سے چاند مانگ رہا ہے تو جرنیل اور جج اسے لاڈ پیار سے سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جو چاند اس کو پچھلے 10 سال تک لا کر دیتے تھے، اب وہ اس کام سے توبہ کر چکے ہیں۔ لیکن عمران خان ان کی بات سمجھنے کے بجائے ان ہی پر چڑھ دوڑا ہے اور دھمکی دے رہا ہے کہ چاند لا کر دو، ورنہ سب خاک میں ملا دوں گا۔ عمران کی اس ضد میں اس کے ساتھ پاکستان کی پوری شہری مڈل کلاس بھی شامل ہو چکی ہے۔ ایوب خان کے زمانے سے جرنیلوں کا دم بھرنے والی مڈل کلاس آج آنکھوں میں شدید معصومانہ حیرانی بھرے آپ سے پوچھتی ہے کیا ہمیشہ سے جرنیل اتنے ہی خراب تھے؟ کیا پاپا جونز اور آسٹریلوی جزیرے اور والٹن ایئرپورٹ کی فروخت کی کہانیاں واقعی درست ہیں؟

جن عمران پسند ججز کو جرنیلوں نے چن چن کر عدالتوں میں لگوایا، اب وہ اپنے اور اپنے بچوں کے ہیرو کے خلاف جانے کے لئے تیاّر نہیں ہیں۔ یہ سب تو ایک طرف، اب تو فوج کے حاضر سروس کرنل، میجر اور کپتان وغیرہ بھی کھل کر عمران کی حمایت میں سامنے آتے نظر آتے ہیں۔

دوسری جانب دہائیوں پر محیط تجربہ رکھنے والے اور تین بار وزیر اعظم رہنے والے نواز شریف کی عقل کو داد دینے کو بہت دل کرتا ہے۔ پچھلے سال عمران خان کی حکومت ختم کرنے کے بعد اگر فوری طور پر انتخابات میں چلے جاتے، تو آج عمران خان تاریخ کے حاشیے سے بڑھ کر کچھ نہ ہوتا۔ یہ بات تو بچے بچے کو پتہ تھی کہ پٹرول کی قیمت بڑھانے کے بعد عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ لیکن اس وقت اگر آپ کسی مسلم لیگی لیڈر سے بات کریں تو وہ کچھ دیر حب الوطنی کا راگ الاپنے کے بعد یہ کہہ دیتے تھے کہ اگرچہ مہنگائی سے عوام تنگ ہےتاہم وہ ایک آدھ سال میں معیشت درست کر لیں گے اور عوام پرانی مہنگائی بھول جائیں گے۔

اب حالات یہ ہیں کہ اگر کسی صورت عمران خان اقتدار میں آگئے توطاقت میں آنے کے بعد عمران خان وہی کچھ کریں گے جو وہ کہہ چکے ہیں۔ اقتدار میں آ کر وہ فوراً آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو عہدے سے ہٹا دیں گے اور اپنی مرضی کا آئی ایس آئی سربراہ بھی لگا دیں گے۔ ہماری فوج پنجاب پولیس جبکہ سپریم کورٹ ضلع کچہری بن کر رہ جائے گی۔ ان کمزور پڑتے اداروں پر اجارہ داری قائم کر کے عمران خان فوری طور پر آصف زرداری، مریم نواز اور شہباز شریف سمیت اپنے تمام مخالفین کو جیل بُرد یا جلاوطن کروا دیں گے۔ جنرل باجوہ کو غدّاری پر سزا ہو گی ۔دوسری طرف اپنی بے انتہا نا اہلی اور عدم توجہی کی وجہ سے عمران خان ملک کی معیشت کو تباہ و برباد کر دیں گے۔ ایک سے دو سال میں جب تک عوام عمران خان سے متنفر ہوں گے، تب تک بہت دیر ہو چکی ہو گی۔ ملک کے تمام ادارے تہس نہس ہو چکے ہوں گے۔ عمران خان ایک حقیقی جابر حکمران کی صورت میں اپنے آپ کو مستحکم کر چکے ہوں گے اور گسٹاپو یا سوک جیسی خفیہ پولیس کے ذریعے عشروں تک بشارالاسد کی طرح راکھ پر بیٹھے حکومت کرتے رہیں گے۔

کچھ لوگوں کو امید ہے کہ جنرل عاصم منیر ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ پانچ چھ مہینے میں اپنی مرضی کا آئی ایس آئی سربراہ اور کور کمانڈرز لگا کر وہ حالات پر قابو پا لیں گے۔ تب تک سپریم کورٹ کی صدارت عمر عطا بندیال کی جگہ قاضی فائز عیسیٰ کے ہاتھوں میں آ جائے گی اور درست فیصلے ہونے لگ جائیں گے۔ عمران خان کو نا اہل کروا کر، کچھ دن جیل میں رکھ کر اور انتخابات کے ذریعے عمران کو سیاست سے بے دخل کر دیا جائے گا۔

 تجزیہ کاروں کے مطابق آج ہمارا معاشرہ انتشار کے ان اندھیروں کے دہانے پر کھڑا ہے جہاں بھلے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ جنرل باجوہ اور ثاقب نثار جیسے کرداروں نے ملک کو ایک ایسے بھنور میں دھکیل دیا ہے کہ اب اس سے آسانی سے نکلنا ممکن نظر نہیں آتا۔

Back to top button