ایران امریکہ معاہدے میں پاکستان کے کردار پر مودی تکلیف کا شکار

امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کے بعد جہاں عالمی سطح پر سفارتی سرگرمیوں کو سراہا جا رہا ہے، وہیں بھارت میں وزیر اعظم نریندر مودی کی سوشل میڈیا پوسٹ ایک نئی بحث کا مرکز بن گئی ہے۔ مودی نے اپنے بیان میں معاہدے کا خیرمقدم تو کیا، مگر اس میں پاکستان کا ذکر شامل نہیں کیا، جس پر سیاسی اور صحافتی حلقوں میں مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔
مودی نے اپنی پوسٹ میں خطے میں امن اور تجارتی بحالی کی امید ظاہر کی، تاہم ان کے بیان میں ان ممالک یا ثالثوں کا ذکر نہیں کیا گیا جنہوں نے اس عمل میں کردار ادا کیا تھا۔ اس پہلو نے بھارت میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے کہ آیا یہ سفارتی طور پر ایک معمولی کوتاہی تھی یا دانستہ سیاسی موقف۔ پاکستانی حلقوں کی جانب سے اس معاملے کو خاص طور پر نمایاں کیا جا رہا ہے کہ کئی عالمی رہنماؤں نے اپنے بیانات میں پاکستان کو ثالثی عمل کا حصہ تسلیم کیا، جبکہ بھارتی وزیر اعظم کی پوسٹ میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں تھا۔ اس فرق نے سوشل میڈیا پر بھی بحث کو تیز کر دیا ہے۔
دوسری جانب بھارت کے اندر بھی مختلف آرا سامنے آئی ہیں۔ بعض سیاسی مبصرین اور صحافیوں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال بھارت کے لیے ایک علامتی سوال کھڑا کرتی ہے کہ کیا وہ خطے میں ہونے والی بڑی سفارتی پیش رفتوں میں اپنی مؤثر موجودگی کو یقینی بنا پا رہا ہے یا نہیں۔انڈین اپوزیشن رہنماؤں نے بھی اس معاملے پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے اس معاہدے میں پاکستان، سعودی عرب، قطر اور ترکی جیسے ممالک کی سفارتی کوششیں نمایاں رہیں، لیکن بھارت خود کو اس منظرنامے میں مؤثر انداز میں پیش نہیں کر سکا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاملہ صرف ایک سوشل میڈیا پوسٹ تک محدود نہیں بلکہ یہ جنوبی ایشیا میں سفارتی مسابقت اور اثر و رسوخ کی ایک بڑی تصویر کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ ان کے مطابق خطے کی جغرافیائی سیاست میں پاکستان اور بھارت دونوں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اور ایسے مواقع پر علامتی بیانات بھی سفارتی پیغام رسانی کا حصہ بن جاتے ہیں۔
بھارتی وزارت خارجہ کے بیان میں اگرچہ مجموعی طور پر امن اور استحکام کے لیے کوششوں کی حمایت کی گئی، تاہم اس میں بھی پاکستان کے کردار کا کوئی براہ راست ذکر نہیں کیا گیا۔ اس کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں توانائی، تجارت اور سلامتی کے معاملات کی وجہ سے تمام بڑی طاقتیں ایک دوسرے کے کردار کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کر سکتیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کو سامنے لاتا ہے کہ جدید سفارت کاری میں نہ صرف معاہدے بلکہ بیانات، سوشل میڈیا پوسٹس اور علامتی الفاظ بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں، کیونکہ یہی عناصر عالمی رائے عامہ کو تشکیل دیتے ہیں۔مجموعی طور پر یہ بحث اس سوال کو اجاگر کرتی ہے کہ آیا جنوبی ایشیا کے بڑے ممالک مستقبل میں ایک دوسرے کے کردار کو تسلیم کرتے ہوئے زیادہ تعاون پر مبنی سفارت کاری کی طرف بڑھیں گے یا خطے کی روایتی مسابقت ہی عالمی سطح پر ان کی پالیسیوں کو متعین کرتی رہے گی۔
