کیا عام انتخابات اب اکتوبر میں نہیں ہوں گے؟

پنجاب اور خیبر پختون خواہ میں انتخابات کے التوا اور ملک کی لمحہ بہ لمحہ بدلتی سیاسی ، معاشی اور سکیورٹی صورت حال کے پیش نظر اب اس خدشے کا کھل کر اظہار کیا جارہا کہ ملک میں عام انتخابات کی تاریخ اکتوبر کی بجاۓ آگے کی جاسکتی جس کے لئے قومی اسمبلی کی مدت میں اضافہ بھی ممکن ہے . حکومتی حلقے قومی اسمبلی کی مدت میں اضافے کی آپشن اپنانے کے حوالے سے پہلے ہی بیانات دیتے آرہے ہیں. 23 مارچ کو الیکشن کمشن نے پنجاب اسمبلی کے انتخابات کی تاریخ تیس اپریل کی بجائے آٹھ اکتوبر مقرر کردی جس کے بعد گزشتہ روز گورنر کے پی کے حاجی غلام علی نےصوبے میں 28 مئی کو پولنگ کرانے کی اپنی پہلی تجویز کردہ تاریخ میں تبدیلی کر دی اور الیکشن کمیشن کی تقلید میں خیبر پختون خواہ اسمبلی کے انتخابات بھی آٹھ اکتوبر کو منعقد کروانے کی تجویز دی ہے الیکشن کے التوا کے حوالے سے انہوں نے صوبے میں سکیورٹی کی ناقص صورت حال کو بنیادی وجہ قرار دیا ہے . خیبر پختون خواہ کے گورنر کی اس تجویز پر الیکشن کمشن صورت حال کا جائزہ لے کر حتمی اعلان کرے گا . یاد رہے کہ الیکشن کمیش نے پنجاب اسمبلی الیکشن کے التوا کے حوالے سے مالی ، انتظامی اور افرادی وسائل کی عدم دستیابی کے علاوہ ناقص سکیورٹی صورت حال کی وجوہات بیان کی تھیں ……………….. ملک میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کے انعقاد کے بارے میں گفتگو کرتے ہوۓ سینئر صحافی و تجزیہ کار حامد میر نے کہا کہ اکتوبر میں بھی انتخابات ہوتے نظر نہیں آرہے ہیں، اکتوبر میں بھی وہی وجوہات ہوں گی جن کی وجہ سے الیکشن کمیشن دو صوبوں میں الیکشن کروانے سے بھاگ گیا ہے، آئین کی خلاف ورزی پر ان کی پکڑ نہیں کی گئی تویہ اکتوبر میں بھی الیکشن نہیں کروائیں گے، اکتوبر تک صدر عارف علوی کی مدت پوری ہوجائے گی جبکہ چیف جسٹس بھی کچھ عرصہ بعد ریٹائر ہوجائیں گے، حکومت کی کوشش ہوگی کہ اسمبلی کی مدت بڑھائی جائے تاکہ نیا صدر اور نیا چیف جسٹس آجائے۔ حامد میر کا کہنا تھا کہ آئین سے انحراف عمران خان اور پی ڈی ایم دونوں نے کیا ہے، حکومت اور اپوزیشن کی غلطیوں اور ہٹ دھرمیوں کی وجہ سے ہی ملک اس نہج پر پہنچا ہے، عمران خان بیانیہ کی جنگ میں پی ڈی ایم پر حاوی ہیں اسی لیے حکومت الیکشن سے بھاگ رہی ہے، شہباز شریف حکومت الیکشن سے بچنے کیلئے آئین کی خلاف ورزی کے راستے پر چل رہی ہے۔ حامد میر نے کہا کہ پی ڈی ایم اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ ایک طرف عمران خان و عدلیہ دوسری طرف ہیں، عمران خان نے پاکستان کے ریاستی اداروں میں بڑی تفریق پیدا کردی ہے، کچھ ججوں کیلئے اپنی وضاحت پیش کرنا ضروری ہے لیکن وہ بنچوں میں بیٹھ رہے ہیں، ن لیگ کے اندر پی ٹی آئی پر پابندی لگانے سے متعلق اختلاف پایا جاتا ہے۔ سینئر سیاسی تجزیہ کار حفیظ الله نیازی کا کہنا ہے کہ 25 مئی کو لانگ مارچ کی ناکامی کے بعد یہ یقین ہو گیا تھا کہ الیکشن والاباب بند ہو چکا ہے۔ آج کل اُس کا برملا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ الیکشن ممکن نہیں رہے ۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ موجودہ حکومت ، اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان تینوں فریقین کے لئے الیکشن کا انعقاد ناممکن ہے . سینئر صحافی اور تجزیہ کار شاہزیب خانزادہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے پنجاب کے انتخابات آگے بڑھائے جانے کیخلاف تحریک انصاف نے اعلان کے باوجود سپریم کورٹ سے رجوع نہیں کیا ہے، لیکن شیخ رشید نے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں مقررہ وقت پر انتخابات کروانے کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے، شیخ رشید نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ نگراں سیٹ اپ ختم کر کے نیا سیٹ اپ تشکیل دیا جائے، صدر مملکت عارف علوی نے وزیراعظم کو خط لکھ کر کہا ہے کہ وزیراعظم توہین عدالت سمیت مزید پیچیدگیوں سے بچنے کیلئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے متعلقہ حکام کو پنجاب اور خیبرپختونخوا میں مقررہ وقت میں عام انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن کی معاونت کی ہدایت کریں۔ دریں اثنا تحریک انصاف کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے بھی اکتوبر میں عام انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے اپنے شک کا اظہار کیا ہے . انہوں نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے واضح طور پر کہا کہ 90 دن میں الیکشن ہونے ہیں، انتخابات 30 اپریل کو ہونے کا اعلان ہوا لیکن الیکشن کمیشن نے 8 اکتوبر کی تاریخ دے دی ہے۔
انہوں نے استفسار کیا کہ کون گارنٹی دے گا کہ الیکشن 8 اکتوبر کو ہوگا؟ کون فیصلہ کرے گا کہ اب انتخابات کےلیے ماحول سازگار ہے؟
