عمران نے اپنا اور ریاست کی رٹ کا مذاق کیسے بنایا؟


وزیراعظم عمران خان کی حکومت نے تحریک لبیک کے لانگ مارچ کے دوران پچھلے دو ہفتوں میں جتنے دعوے کیے اور جتنے یو ٹرن لیے، ان سے ریاست پاکستان کی رٹ ایک مذاق بنا کر رہ گئی ہے اور یہ ثابت ہو گیا ہے کہ شدت پسند تنظیمیں پاکستان کی حکومت اور اسکے طاقت ور ترین اداروں سے بھی زیادہ تگڑی ہیں۔ یاد رہے کہ 31 اکتوبر کے روز کالعدم تحریک لبیک نے پندرہ روز کی جدوجہد کے بعد ریاست پاکستان کو اپنے قیام کے 75 ماہ کے دوران چھٹی مرتبہ گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔ اس سے پہلے یو ٹرنز کے شہنشاہ وزیراعظم عمران خان، انکے وزیر داخلہ شیخ رشید اور وزیر اطلاعات چوہدری فواد نے اعلان کیا تھا کہ تحریک لبیک ایک عسکریت پسند تنظیم بن چکی ہے اور اسکے ساتھ بھر پور ریاستی طاقت سے نمٹا جائے گا۔

تاہم پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا، چراغوں میں روشنی نہ رہی اور حکومت نے ایک مرتبہ پھر فوج کے ادارے کو ضامن بناتے ہوئے تحریک لبیک کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے۔ یہ اعلان کیا گیا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی برکتوں سے معاہدہ ہوگیا ہے ہے تاہم اس معاہدے کو خفیہ رکھا جا رہا ہے کیونکہ اس میں حکومت کی جانب سے منظور کی جانے والی شرائط نہ صرف افسوسناک ہیں بلکہ شرمناک بھی ہیں۔ تحریک لبیک والے تو یہ دعوی کر رہے ہیں کہ حکومت نے ان کی جماعت کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ واپس لینے کی یقین دہانی کروا دی ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ ایسا معاہدہ کرنے سے پہلے حکومت کے کسی فیصلہ ساز نے یہ نہیں سوچا کہ ابھی چند روز پہلے تو حکومتی وزیر فواد چودھری کی جانب سے تحریک لبیک پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ بھارتی فنڈنگ سے چلتی ہے اور ایک عسکریت پسند تنظیم ہے۔

ایسی صورتحال میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آیا حکومت کا پہلا موقف درست تھا یا اب کا۔ سوال یہ بھی ہے کہ جب ریاست پاکستان نے چھ ماہ پہلے اپریل کے مہینے میں تحریک لبیک کو ایک شدت پسند مذہبی تنظیم قرار دیتے ہوئے اس پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا تھا تو تب اس کے سامنے کون سے حقائق تھے جو اب بدل گئے ہیں۔ کیا ایسا تو نہیں ہے کہ حقائق اب بھی وہی ہیں لیکن حکومت اور ریاست نے تحریک لبیک کی طاقت کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں جس طرح تحریک طالبان پاکستان کے معاملے میں بھی کیا جا رہا ہے۔ اس معاہدے کے بعد کپتان حکومت نے سُکھ کا سانس تو لیا ہے مگر یہ معاہدہ کئی سوال چھوڑ کر جا رہا ہے۔

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار ماریہ میمن کہتی ہیں کہ سب سے بڑا سوال تو حکومت کی پالیسی کے بارے میں ہے۔ کیا مستقبل میں بھی اگر کوئی شدت پسند تنظیم سڑکوں پر نکل آئے گی اور حکومت پر دباؤ ڈالے گی تو اس پر سے پابندی ختم کر دی جائے گی۔ کیا آئندہ بھی قانون توڑنے اور تشدد کرنے والے عناصر کے بارے میں یہی حکومتی پالیسی ہو گی۔ اگر ایسا ہے تو پھر ریاست پاکستان کا مستقبل تاریک دکھائی دیتا ہے۔

یہ بھی خبر ہے کہ معاہدے کے تحت تحریک لبیک دوبارہ اجتجاج یا لانگ مارچ نہیں کرے گی۔ اس پر ماریہ میمن سوال کرتی ہیں کہ کیا گارنٹی ہے کہ اگلے کچھ عرصے میں کسی اور ایشو پر اس کے کارکنان قانون کو ہاتھ میں نہیں لیں گے؟ اور اگر ایسا ہوا تو پھر اس پر کیا ریاستی پالیسی ہو گی۔ کیا حکومت اور ریاست کے پاس کوئی طویل المدتی پلان ہے؟ اگر ہے بھی تو کم از کم ابھی تو سامنے نظر نہیں آ رہا۔

دوسرا اہم سوال حکومت کی حکمت عملی کے بارے میں ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار جن کے ماتحت پولیس کے آدھ درجن بھر جوان شہید اور متعدد زخمی ہوئے، کی طرف سے معاملے کو فہم و فراست سے حل ہونے پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ اگر ان کی فہم و فراست بہتر ہوتی تو معاملات اس نہج پر پہنچتے ہی کیوں اور اور کیا یہ پنجاب حکومت کی ناکامی نہیں کہ ایک طرف وہ باوجود کوشش کے ہجوم کو روک نہیں سکے جبکہ ہفتوں تک ذرائع آمدروفت بند رکھے گئے۔
پھر مذاکرات بھی وفاقی حکومت کی سطح پر ہوئے۔ وفاقی حکومت کی اپنی حکمت عملی میں کئی نشیب و فراز آئے۔ ایک طرف پہلے سخت موقف اپنایا گیا۔ ایسے اشارے دیے گئے کہ اس دفعہ حکومت اور ریاست نے ٹھان لی ہے کہ پرُ تشدد عناصر کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ کچھ وزرا ٹی ایل پی کے خلاف سخت بیانات دے رہے تھے اور ساتھ ہی ان کے ساتھی وزرا معذرت خواہانہ بیانیہ اپنا رہے تھے۔

یاد رہے کہ وزیر اعظم عمران خان اس سے پیشتر بھی کالعدم تحریک لبیک پر واضح ایکشن کے اشارے دے چکے ہیں مگر اس کے ساتھ ہی فوراً دوبارہ مذاکرات کر کے معاہدے کی طرف بھی چل پڑے۔ ان حالات میں حکومت کی سنجیدگی اور اثر پر کئی سوالیہ نشان اٹھ جاتے ہیں۔معاشرتی اور سیاسی انتشار ملک کے لیے یقیناً نقصان دہ ہے۔ کوئی شہری نہیں چاہے گا کہ ملک میں اضطراب کی سی کیفیت ہو اور سڑکوں پر خون خرابا ہوتا نظر آئے۔ سوال مگر قانون کی عملداری کا ہے۔

بقول ماریہ میمن جب حکومت نے ایک جماعت کو کالعدم قرار دیا تو وہ ایک قانون یعنی انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت تھا۔ اس کا یہ بھی مطلب تھا اب حکومت اس جماعت کو قانونی طریقے سے ڈیل کرے گی۔ اب اگر ایک کالعدم جماعت کے ساتھ حکومت معاملات اور وہ بھی خفیہ طریقے سے طے کرے گی تو باقی کالعدم جماعتوں اور عام عوام کے لیے کیا پیغام جائے گا؟ وہ پیغام یہی ہو گا کہ ڈنڈے کے زور پر حکومت کو کسی بھی ایشو پر گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ ماریہ کہتی ہیں کہ اس حکومت کے لیے یوٹرن حکومت کا لقب بطور طنز و مزاح استعمال ہوتا ہے مگر اس سارے مسئلے میں اگر حکومتی اقدامات کو یو ٹرن نہ کہا جائے تو اور کیا کہا جائے۔

اس میں اصل بے یقینی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ایک دن ایک پالیسی ہو اور اگلے دن دوسری۔ اگر کسی جماعت کو کالعدم کرنا ہے تو وہ بھی قانون کے مطابق ہونا چاہیے اور اس کی معقول وجوہات ہونی چاہیے۔ اور جب یہ فیصلہ ہو گیا کہ اس کے سٹیٹس میں تبدیلی ہوگی تو اس کی بھی کوئی وجہ ہونا چاہیے اور اس دوران ہوئے نقصان کی بھی ذمہ داری ہونی چاہیے۔ عمران خان حکومت کا تحریک لبیک کے ساتھ ہونے والا تازہ ترین معاہدہ کتنی دیر چلے گا، اس کا فیصلہ تو جلدی ہو جائے گا مگر جو تفریق اس دوران معاشرے اور سیاست میں پیدا ہو چکی ہے اس کو بھرنے میں بہت وقت لگے گا۔

Back to top button