پاکستان میں اس مرتبہ ڈینگی کیوں بے قابو ہو گیا؟


پاکستان میں کئی برسوں بعد ڈینگی بے قابو ہوتا نظر آتا ہے اور ملک بھر میں میں اس کے حملوں میں تیزی آ گئی ہے۔ اس وقت پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ڈینگی کے حملوں کی رفتار ملک کے اور کسی بھی شہر سے زیادہ ہے۔ اسی طرح دارالحکومت اسلام آباد میں حالات کی سنگینی کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ یہاں ڈینگی کے متاثرین کی تعداد 2600 سے تجاوز کر گئی ہے اور اب تک درجنوں افراد اس کے ہاتھوں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
یاد رہے کہ ایک ارب سے زائد آبادی کے حامل ہمسایہ ملک بھارت میں ایک سال کے دوران ڈینگی کے صرف ایک ہزار کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ اس کے برعکس پنجاب میں اس برس 11 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ یہاں یہ بھی یاد رہے کہ ڈینگی کے پچاس فیصد سے زیادہ مریض تو ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں نہیں اس لیے ان کا محک۔ہ صحت کے کسی ریکارڈ میں کوئی اندراج نہیں ہے۔ خیبر پختونخوا میں اب تک تقریباً پانچ ہزار دینگی کیسز رپورٹ ہو چکے ۔ یکم جنوری سے اب تک پاکستان میں ڈینگی کے 27 ہزار سے زائد کیس درج کیے گئے ہیں۔
اہم سوال یہ ہے کہ کیا اس برس ڈینگی کے شدید تر حملوں کی ذمہ داری وفاقی حکومت ہر عائد ہوتی یے یا صوبائی حکومتوں پر، جنہوں نے بروقت اقدامات نہیں کیے؟ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو ڈینگی سے نمٹنے کا خیال تب آیا جب پنجاب میں 693 کیسز رپورٹ ہو چکے تھے۔ بزدار نے پہلی مرتبہ 20 ستمبر کو ڈینگی کنٹرول کے بارے میں حکام کو احکامات دیئے حالانکہ تب تک اسکا لاروا پنپ کر مچھر بن چکا تھا اور اب ہر روز سینکڑوں لوگوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان میں سب سے پہلے ڈینگی نے 2012 میں سر اُٹھایا تھا جب شہباز شریف وزیراعلیٰ تھے، انہوں نے ڈینگی کے خاتمے کے لیے بھر پور محنت کی تھی۔ کئی سرکاری محکموں پر مشتمل ایک پول بنایا گیا جس کے ذمہ ڈینگی کے لاروا کا خاتمہ تھا۔ سری لنکا، تھائی لینڈ، سنگاپور اور ملائیشیا سے ماہرین بلوائے گئے جنہوں نے اپنے تجربات شیئر کیے اور اس ظالم مچھر کو کنٹرول کرنے کے لیے موثر اقدامات کیے گئے۔ یہ بات تو شہباز شریف کے سیاسی مخالفین بھی مانتے ہیں کہ انہوں نے ڈینگی کو کنٹرول کرنے کے لئے ایک منظم اور مؤثر مہم چلائی تھی۔ ہسپتالوں میں مریضوں کے لیے سہولیات مہیا کی گئیں۔ ڈینگی ٹیسٹوں کے لیے پرائیویٹ لیبارٹریوں کو بھی شامل کیا گیا جہاں 80 روپے میں ٹیسٹ ہو جاتا تھا جبکہ اس وقت ڈینگی ٹیسٹ تین سے چار ہزار میں ہو رہا ہے اور روزانہ پلیٹ لیٹس کاؤنٹ ٹیسٹ کے ہزار روپے اس کے علاوہ وصول کیے جا رہے ہیں۔
اس وقت پاکستان میں ڈینگی کے حملوں سے ہونے والی ابتر صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں ڈینگی ٹیسٹ کے لیے لمبی قطاریں لگی ہیں، ظلم یہ ہے کہ بخار چیک کرنے والا 199 روپے کا تھرمامیٹر بھی اب میڈیکل سٹوروں سے غائب ہو چکا ہے۔ کیونکہ ڈینگی کا علاج صرف پیناڈول کی گولیاں ہیں لہذا اس وقت میڈیکل اسٹورز پر اس کی بھی شدید قلت پیدا ہوچکی ہے اور کسی بھی مریض کو ایک یا دو سے زیادہ پتے نہیں دیے جا رہے ہیں۔ ڈینگی سے اب تک سینکروں اموات ہو چکی ہیں، ہسپتالوں میں ہنگامی صورت حال ہے مگر سہولیات ناپید ہیں جس کی وجہ ہسپتالوں کو مطلوبہ فنڈز نہ ملنا بتایا جاتا ہے۔
محکمہ صحت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ عثمان بزدار کے پہلے دو سال کے اقتدار میں بھی ڈینگی اس لیے کنٹرول میں رہا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے کاروباری سینٹرز بند تھے جو ڈینگی کے پھیلاؤ کا ایک بڑا ذریعہ ہیں لیکن جیسے ہی زندگی معمول پر آئی ڈینگی بے قابو ہو گیا۔ ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس سال بزدار انتظامیہ نے اس خطرے کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور بروقت اقدامات نہیں کیے۔
گزشتہ دور حکومت میں جہاں جہاں ڈینگی کیس سامنے آتا تھا وہاں فوراً محکمہ صحت کی ٹیمیں پہنچ کر سپرے کرتی تھیں یہی پروٹوکول دیگر ممالک میں بھی رائج ہے مگر اس بار چونکہ حکومت نے اس کو سنجیدہ نہیں لیا اور اس نے ایک اشتہار جاری کرنے پر ہی اکتفا کیا کہ ڈینگی سپرے مضر صحت ہے لہذا لوگ ڈینگی سے بچنے کے لیے اپنے گھروں پر خود ہی اقدامات کریں۔ حیرت کی بات ہے کہ یہ سپرے لاطینی امریکہ سے مشرق بعید کے ممالک میں کیا جا رہا ہے مگر یہ الہام صرف ہماری حکومت کو ہوا ہے کہ یہ مضر صحت ہے۔ لہذا ڈینگی مچھر کنٹرول کرنے کے لیے کیے جانے والے سپرے کی غیر موجودگی میں اسکا لاروا کامیابی سے مچھر بن گیا اور اب پاکستانی قوم اس زہریلے مچھر کے عتاب کا شکار ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ دنیا چاند پر پہنچ گئی لیکن موجودہ حکومت ایک مچھر کنٹرول کرنے میں ناکام ہے۔

Back to top button