پاکستانی میڈیا پر ریاستی اور حکومتی حملوں میں تیزی

پاکستان کا مین سٹریم اور سوشل میڈیا اس وقت شدید ترین ریاستی اور حکومتی حملوں کی زد میں ہے اور صحافیوں کی آواز دبانے کے لیے جو ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں ان کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ کپتان کے موجودہ ہائبرڈ دور میں صحافت پر تمام محاذوں سے حملے ہو رہے ہیں اور آزادی اظہار کی گنجائش مسلسل سکڑتی جا رہی ہے۔ 2 نومبر کو دنیا بھر میں ’صحافیوں کے خلاف جرائم کے خاتمے کے عالمی دن‘ کے حوالے سے جاری ہونے والی تین مختلف رپورٹس میں پاکستان میں صحافیوں اور آزادی صحافت کو درپیش اس غیر معمولی صورتحال کو اجاگر کیا گیا ہے۔
پاکستان پریس فاؤنڈیشن یا پی پی ایف کی جانب سے تیار کردہ پہلی رپورٹ بعنوان ’پاکستان میں میڈیا کی آن لائن ہراسمنٹ ‘، میں بتایا گیا کہ صحافیوں کو اپنے پیشہ وارانہ فرائض کی ادائیگی کے دوران نفرت، دھمکیوں اور بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سوشل میڈیا سے منسلک صحافیوں کو اغوا اور جھوٹے مقدمات کا سامنا کرنا پڑ ریا ہے، اور جہاں آن لائن ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری ہے وہیں سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لیے قانون سازی اور آن لائن مواد کو مجرمانہ قرار دینا میڈیا کو ہراساں کرنے کا ایک مستقل ذریعہ بن گیا ہے۔
اگست 2021 میں خواتین صحافیوں نے ’سوشل میڈیا کے ذریعے ہونے والے حملوں‘ کے خلاف مشترکہ اعلامیہ جاری کیا تھا جو انہوں نے برداشت کی تھیں۔ ستمبر میں سینئر صحافی اور نیوز ون کی اینکرپرسن غریدہ فاروقی اور بے نظیر شاہ کو ایک آن لائن مہم کے تحت ہراساں کا نشانہ بنایا گیا تھا جبکہ اکتوبر میں سینئر صحافی عاصمہ شیرازی کو حکومت کے خلاف ایک تنقیدی کالم لکھنے پر پی ٹی آئی کے حامیوں اور وزرا کی طرف سے نفرت انگیز حملوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ پاکستان پریس فاؤنڈیشن کی رپورٹ میں کہا گیا کہ ’گزشتہ سال آن لائن صحافیوں کو ڈرانے اور دھمکانے کے رجحانات کا تسلسل دیکھا گیا ہے جبکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لیے قواعد ترتیب دینے پر بھی توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔
پی پی ایف کی طرف سے تیار کردہ ایک اور رپورٹ بعنوان ‘پاکستان میں میڈیا پر حملے جنوری-اکتوبر 2021’، میں آزادی اظہار کے لیے جگہ تنگ ہونے کی مذمت کی گئی۔رپورٹ کے مطابق 2021 کے دوران ایک تشویشناک رجحان دیکھا گیا جب میڈیا کے خلاف نہ صرف جسمانی حملوں کا سلسلہ جاری رہا بلکہ آزادی اظہار کو محدود کرنے کے لیے ریاستی سطح پر دباؤ میں بھی اضافہ ہوا۔
پی پی ایف نے کم از کم 27 واقعات ریکارڈ کیے جہاں میڈیا کے اہلکاروں پر ان کے کام کے سلسلے میں جسمانی طور پر حملہ کیا گیا۔ تاہم ایک مثبت پیش رفت میں 28 جون کو سندھ اسمبلی نے تاریخی ’سندھ پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ دیگر میڈیا پریکٹیشنرز بل 2021‘ منظور کیا۔ قومی اسمبلی میں ایک اور بل پیش کیا گیا لیکن اسے منظور ہونا باقی ہے۔
پاکستان میں صحافیوں پر حملوں اور آزادی اظہار پر بڑھتی ہوئی پابندیوں کے حوالے سے تیسری رپورٹ فریڈم نیٹ ورک کی طرف سے جانب جاری کی گئی جس میں کہا گیا کہ ملک میں میڈیا کو دبانے کے لیے صحافیوں کے خلاف پیکا نامی اینٹی سائبر کرائمز قانون کی ہتک عزت کی دفعہ کے بے جا استعمال میں اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا یے کہ 2019 اور 2021 کے درمیان پیکا کے خلاف مزاحمت کرنے والے دو درجن پاکستانی صحافیوں اور انفارمیشن پریکٹیشنرز میں سے 56 فیصد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے تھے جبکہ دو سینئر صحافیوں عامر میر اور عمران شفقت کو ایف آئی اے کے ذریعے گرفتار بھی کیا گیا تھا۔
فریڈم نیٹ ورک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اقبال خٹک نے کہا کہ پاکستانی صحافی آزادانہ خبروں اور تنقیدی تبصروں کو شیئر کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ آن لائن اسپیس کا استعمال کر رہے ہیں جنہیں روایتی میڈیا پر دبا دیا جاتا ہے۔ لہذا اب ریاستی اور حکومتی اداروں نے سوشل میڈیا سے منسلک صحافیوں کے خلاف کاروائیوں کا سلسلہ تیز کردیا ہے تاکہ ان کی آوازیں دبائی جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ ’جمہوری معاشروں کے لیے یہ ناقابل قبول ہے کہ اختلاف رائے کو جرم قرار دیا جائے اور تنقید کرنے والے صحافیوں کو گرفتار کر کے تشدد کا نشانہ بنایا جائے۔ فریڈم نیٹ ورک نے اس غیر جمہوری روش کو فوری طور پر ترک کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کی وجہ سے اظہار رائے کے عالمی انڈیکس میں پاکستان کی درجہ بندی انتہائی کم ہوگئی ہے لہذا حکومتی اور ریاستی اداروں کو اپنی ڈریکونین پالیسیوں پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔
