عمران نے باجوہ اورامریکہ مخالف بیانیے پر تھوکا ہوا کیوں چاٹا؟


چھ ماہ پہلے اقتدار سے بے دخل ہونے کے بعد امریکہ اور آرمی چیف پرسازش کا الزام لگانے والے عمران خان نے بالآخر اپنا تھوکا ہوا چاٹنا شروع کر دیا ہے۔ یو ٹرن کے بادشاہ کہلانے والے امریکہ اور باجوہ مخالف عمران نے اپنے خلاف زیر سماعت مختلف کیسز میں یقینی نا اہلی سے بچنے کے لیے امریکہ اور باجوہ دونوں کو رام کرنے کی کوششوں کا آغاز کر دیا ہے۔ پچھلے ماہ امریکی سفیر کے ساتھ خفیہ ٹیلی فونک گفتگو کے بعد اب عمران نے پاکستان میں سابق امریکی سفیر رابن رافیل سے بنی گالہ رہائش گاہ پر ملاقات کی اور اسکے اگلے ہی روز جنرل قمر باجوہ کے عہدے میں توسیع کی تجویز پیش کر دی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان اچھی طرح جانتے ہیں کہ انہیں الیکشن کمیشن اور عدالتوں میں جن کیسز کا سامنا ہے ان میں ان کا نا اہلی سے بچنا ممکن نہیں اس لیے اب انہوں نے اللہ، آرمی اور امریکہ تینوں سے مدد مانگنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اپنا سیاسی مستقبل بچایا جا سکے۔

لیکن عمران خان نے جس بے شرمی سے امریکا اور جنرل باجوہ بارے اپنے موقف پر یوٹرن لیا ہے اس پر ان کی پارٹی کے عہدیدار بھی حیران اور پریشان ہیں۔ کل تک عمران خان کے جو ساتھی امریکا اور فوجی قیادت پر لعن طعن کر رہے تھے اب وہ منہ چھپاتے پھر رہے ہیں اور کسی سوال کا جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں۔ یاد رہے کہ عمران خان پچھلے چھ ماہ سے ملک بھر میں جلسے کرتے ہوئے امریکہ پر اپنی حکومت گرانے کی سازش کا الزام لگا رہے تھے اور جنرل باجوہ کو امپورٹڈ حکومت کا سہولت کار قرار دے رہے تھے۔ ان کا بنیادی نعرہ یہ تھا کہ وہ حقیقی آزادی کے حصول کے لیے پاکستانی قوم کو امریکا اور فوج کی غلامی سے نجات دلانے کی جنگ لڑ رہے ہیں چاہے اس میں ان کی جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔ لیکن جب اس جنگ میں خان صاحب کو اپنی ذات خطرے میں نظر آئی تو موصوف نے جان دینے کی بجائے یو ٹرن لیتے ہوئے قوم کو امریکہ اور فوج کی غلامی سے نکالنے کی بجائے خود بھی ان کی غلامی میں جانے کا فیصلہ کر لیا۔ اب شہباز شریف کو چیری بلاسم کا خطاب دینے والے عمران خان نے خود امریکی اور فوجی بوٹوں کی پالش پر توجہ مرکوز کر دی ہے اور ان کی کوشش ہے کہ وہ بوٹوں کو شہباز سے زیادہ چمکا کر دکھائیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان کے بیانیے میں 180 ڈگری کی تبدیلی خود کو سیاسی میدان میں ان رکھنے کی آخری کوشش ہے کیونکہ ان کے پاس جتنے بھی کارڈز تھے وہ انہوں نے کھیل لئے اور سب رائیگاں گئے۔ ان کی فوجی قیادت اور عدلیہ کو دھمکیاں بھی کسی کام نہ آئیں اور الٹا وہ خود اپنے ہی جال میں پھنس گئے۔ پچھلے چھ ماہ سے عمران خان مسلسل جنرل باجوہ کے خلاف اپنے سوشل میڈیا بریگیڈ کے ذریعے غداری کا ٹرینڈ چلوا رہے تھے۔ وہ کبھی انہیں جانور قرار دیتے تھے تو کبھی نیوٹرل۔ اس کے علاوہ موصوف مسلسل یہ الزام بھی لگا رہے تھے کہ جنرل باجوہ کی زیر قیادت پاک فوج نے امریکی سازش کو عملی جامہ پہناتے ہوئے شہباز شریف کی امپورٹڈ حکومت کو اقتدار دلوایا ہے۔ پچھلے ہفتے عمران نے یہ اعلان کیا کہ وہ نواز شریف اور آصف زرداری کو کسی بھی صورت میں اپنی مرضی کا نیا آرمی چیف نہیں لگانے دیں گے۔ اسکے بعد ان کے ایک قریبی ساتھی نے امریکی سفیر سے خفیہ ملاقات کی۔ پھر عمران نے اپنی بنی گالہ رہائش گاہ پر امریکی سفیر رابن رافیل سے ملاقات کی جس کے اگلے ہی روز انہوں نے یہ مطالبہ کر دیا کہ اگلے الیکشن کے بعد نئی حکومت کو ہی نیا آرمی چیف تعینات کرنا چاہیے اور اس دوران بے شک جنرل باجوہ کو برقرار رکھا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان غیر معمولی حالات کا سامنا کر رہا ہے اور ہمیں سوچنا ہو گا کہ اس دلدل سے ملک کو کیسے نکالنا ہے۔ موصوف نے یہ بھی فرمایا کہ رابن رافیل سے ان کے پرانے تعلقات ہیں اور ان کی ملاقات کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔

دوسری جانب وزیر دفاع خواجہ آصف نے عمران خان کے تازہ بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اپنا سیاسی مستقبل تاریک ہوتا نظر آرہا ہے لہذا وہ اب فوج اور امریکہ دونوں کے پاؤں پڑ گئے ہیں۔ خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ عمران اقتدار کی واپسی کے لیے فوجی اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کے دروازے کھولنے کی کوشش کر رہے ہیں اور دوبارہ سے امریکہ کو اپنی وفاداری کا یقین دلانے کی کوششوں کا آغاز بھی کر دیا ہے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ عمران ’گن پوائنٹ‘ پر اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کرنا چاہتا ہے‘۔ اس کا بنیادی مقصد حکومت میں واپس آنا ہے چاہے وہ صحیح راستے سےہو یا غلط راستے سے، یہ اس کے اقتدار کی ہوس ہے اور وہ کسی بھی حد تک گر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کی تعیناتی کے معاملے پر عمران خان کے بیانات کا بنیادی مقصد اس عمل کو متنازعہ بنانا ہے لیکن حکومت ایسا نہیں ہونے دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ جنرل باجوہ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ وہ ایکسٹینشن لینے کے موڈ میں نہیں لہذا اگلے آرمی چیف کی تعیناتی میرٹ پر ہو گی۔

عمران خان کے کئی ناقدین تو انکے امریکہ اور فوج مخالف بیانیہ پر تازہ یوٹرن کو انکی بگڑتی ہوئی ذہنی حالت کا غماز قرار دیتے ہیں۔ خواجہ آصف نے بھی عمران خان کے ساتھیوں کو انکا ذہنی معائنہ کروانے کی تجویز دی ہے تاکہ ایک مرتبہ طے ہو جائے کہ اگر ان کے خلاف کوئی سازش ہوئی تھی تو کس نے کی تھی۔ خیال رہے کہ عمران خان نے کامران خان کے ساتھ اپنے تازہ انٹرویو میں واضح کیا ہے کہ میں امریکا مخالف نہیں ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میرے ڈونلڈ ٹرمپ سے بڑے اچھے تعلقات تھے، میرا امریکا سے کوئی مسئلہ نہیں۔ لیکن باہمی احترام پر امریکا سے تعلقات چاہتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میرا امریکا سے نہ پہلے کوئی مسئلہ تھا اور نہ اب ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ سے ہمارے تعلقات اچھے ہونے چاہئیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اب عمران کو یہ احساس ہو گیا ہے کہ امریکہ کی مخالفت کی انہیں بھاری قیمت چکانی پڑے گی اسلئے وہ راہ راست پر آگئے ہیں۔ تاہم کچھ ناقدین ایسے بھی ہیں جو سمجھتے ہیں کہ عمران دراصل امریکہ کا ہی لگایا ہوا پودا ہے اور امریکہ کا ہی کھیل کھیلنے میں مصروف ہے۔

دوسری جانب عمران نے ایک اور یو ٹرن لیتے ہوئے جنرل باجوہ پر اظہار اعتماد تو کر دیا ہے اور وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ اگلے آرمی چیف کی تعیناتی تک باجوہ اپنے عہدے پر برقرار رہیں، لیکن بظاہر ایسا ہوتا ہوا نظر نہیں آ رہا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عمران نے ماضی میں آرمی چیف کے خلاف بھر پور پراپیگنڈہ کیا۔ انہوں نے نیوٹرلز ‘ میر جعفر ‘ میر صادق اور ہینڈلرز جیسے قابل اعتراض اور افسوسناک ریمارکس دیے۔ لیکن اب وہ اچھے بچے بن کر جنرل باجوہ کو دوبارہ توسیع دلوانا چاہتے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کار عمران کی اس حرکت کو سازش قرار دیتے ہیں تاکہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی کا عمل متنازعہ ہو جائے۔ لیکن با خبر حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ جنرل قمر باجوہ اپنے عہدے میں توسیع کے خواہش مند نہیں اور نئے آرمی چیف کی تقرری نومبر میں جنرل قمر باجوہ کی ریٹائرمنٹ سے پہلے کر دی جائے گی۔

Back to top button