عمران نے گھڑی سکینڈل میں قانون کی دھجیاں کیسے بکھیریں؟

عمران خان کے گھڑی سکینڈل میں اب یہ ہوشربا انکشاف ہوا ہے کہ انہوں نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے سعودی ولی عہد کی جانب سے تحفہ دی گئی گھڑی پہلے توشہ خانہ سے نکلوائی، اور پھر اسے بیچنے کے بعد اس کی طے شدہ 50 فیصد قیمت خزانے میں جمع کروانے کی بجائے صرف 20 فیصد قیمت جمع کروائی۔ یوں سابق وزیراعظم نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے فراڈ پر فراڈ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان نے سعودی ولی عہد کی گھڑی فروخت کرنے کی جو رسید بطور ثبوت پیش کی ہے اس پر توشہ خانہ سے تحفہ خریدنے اور پھر بازار میں فروخت کرنے کی ایک ہی تاریخ درج ہے۔ عمران خان کی جانب سے پیش کی جانے والی ہاتھ سے لکھی ہوئی 5 کروڑ دس لاکھ روپے کی رسید اور توشہ خانہ کے سرکاری ریکارڈ پر 22 جنوری 2019ء کی تاریخ درج ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ گھڑی کو باقاعدہ طور پر توشہ خانہ سے خریدنے سے پہلے ہی فروخت کر دیا گیا تھا۔
جیو نیوز پر یہ انکشاف کرتے ہوئے شاہزیب خانزادہ نے بتایا کہ جب عمران نے توشہ خانہ سے یہ گھڑی خریدی تب تک ان کی اپنی حکومت تحفے کی 50 فیصد قیمت ادا کر کے خریدنے کا قانون بنا چکی تھی۔ لیکن اس قانون کے نفاذ کے 35 روز بعد جب عمران نے توشہ خانہ سے گھڑی خریدی تو انہوں نے اسکی صرف 20 فیصد قیمت ادا کی۔ کابینہ ڈویژن نے توشہ خانہ میں موجود اس گھڑی کی قیمت 10 کروڑ روپے لگائی تھی اور عمران نے اسے خریدنے کے لیے صرف 2 کروڑ روپے جمع کروائے جو کہ اصل قیمت کا 20 فیصد بنتے ہیں حالانکہ اپنے ہی بنائے گئے قانون کے مطابق انہیں 5 کروڑ روپے جمع کروانے تھے جو کہ قیمت کا 50 فیصد بنتے ہیں۔ ایسا کرتے ہوئے عمران نے نہ صرف فراڈ کیا بلکہ توشہ خانہ کے قوانین کی بھی کھلی خلاف ورزی کی۔
یاد رہے کہ عمران حکومت نے توشہ خانہ کے تحائف خریدنے کیلئے 50 فیصد کی ادائیگی کا قانون بنایا تھا جس کا وہ خود بھی کریڈٹ لیتے رہے ہیں۔ تحائف کی قیمت کا 50 فیصد ادا کر کے خریدنے کا قانون دسمبر 2018 میں بنایا گیا تھا جبکہ عمران خان نے 22 جنوری 2019 کو توشہ خانہ سے سعودی ولی عہد کی گھڑی صرف 20 فیصد رقم ادا کرکے خریدی۔ عمران خان کو ملنے والے گراف سیٹ کی جو مارکیٹ ویلیو توشہ خانہ کی انتظامیہ نے کابینہ ڈویژن سے مل کر طے کی وہ 10 کروڑ روپے تھی۔ یعنی عمران کو بتا دیا گیا تھا کہ آپ یہ گھڑی سیٹ مارکیٹ میں فروخت کرنے جائیں گے تو 10؍ کروڑ روپے مل سکتے ہیں، مگر عمران خان کے اپنے دعوے کے مطابق انہوں نے طے شدہ مارکیٹ ویلیو سے 50 فیصد کم میں یعنی 5؍ کروڑ 10 لاکھ میں اسے فروخت کردیا۔ اس کہانی کی کوئی توجیہہ سمجھ نہیں آتی۔
عمران خان نے سعودی ولی عہد کی قیمتی گھڑی کے عوض توشہ خانہ کو جو دو کروڑ روپے ادا کیے وہ بھی دستاویزات کے مطابق کیش کی صورت میں دیے گئے، لیکن عمران خان یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ انہوں نے یہ رقم اپنے کس بینک اکاؤنٹ سے نکلوائی اور کیش کی صورت میں کیوں جمع کرائی حالانکہ وہ وزیر اعظم تھے اور ایک سرکاری ادارے سے گھڑی خرید رہے تھے؟ یاد رہے کہ توشہ خانہ کیس میں الیکشن کمیشن عمران خان کو پہلے ہی نا اہل قرار دے چکا ہے کیونکہ موصوف اپنی منی ٹریل پیش کرنے میں ناکام رہے تھے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ توشہ خانہ میں جو دو کروڑ روپے نقد جمع کروائے گئے وہ عمران نے نہیں بلکہ کسی اور نے ادا کئے۔
یاد رہے کہ قانون کے مطابق جب کسی حکومتی شخصیت کو کوئی غیر ملکی تحفہ ملتا ہے تو وہ پہلے اسے توشہ خانہ میں جمع کرواتا ہے۔ اسکے بعد کابینہ ڈویژن اس تحفے کی مارکیٹ ویلیو کا تعین کرتی ہے۔ پھر اگر کوئی اسے خریدنا چاہے تو ایک درخواست جمع کروائی جاتی ہے۔ جب توشہ خانہ تحفہ خریدنے کی اجازت دے تو پھر پے آرڈر کے ذریعے ادائیگی کی جاتی ہے۔ لیکن توشہ خانہ کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق عمران نے گھڑی خریدتے وقت تمام قواعد و ضوابط اور قوانین کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں۔ خان صاحب نے گھڑی توشہ خانہ میں جمع کروانے کی بجائے اسے پہلے مارکیٹ میں بیچا اور پھر اس سے ملنے والی رقم میں سے دو کروڑ توشہ خانہ کو ادا کر دیے۔
گھڑی سکینڈل میں اہم ترین سوال یہ ہے کہ جب توشہ خانہ نے گھڑی کی مارکیٹ ویلیو 10 کروڑ روپے لگائی تھی تو عمران خان نے اسے پانچ کروڑ دس لاکھ روپے میں کیوں فروخت کیا اور آدھی قیمت کا نقصان کیوں اٹھایا۔ اب یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس گھڑی کی موجودہ مارکیٹ ویلیو پونے دو ارب روپے ہے۔ گھڑی کی ویلیو دس کروڑ روپے اس لیے بھی نہیں بنتی کیونکہ اس میں ہزاروں بیش قیمت ہیرے جڑے ہیں۔ گراف برانڈ کی اس انتہائی قیمتی گھڑی کے چالیس صفحات کے کیٹلاگ کے مطابق اس میں چار ہزار سے زیادہ ڈائمنڈز استعمال ہوئے ہیں اور اسکا وزن 41 قیراط سے بھی زیادہ ہے. لہٰذا یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ اربوں روپے مالیت کی گھڑی کو چنوں کے بھاؤ بیچ دیا گیا۔
