عمران کا سیاسی مستقبل گل کیوں ہونے جا رہا ہے؟

سابق وزیراعظم عمران خان کا سیاسی مستقبل ہر گزرتے دن کے ساتھ گل ہوتا نظر آ رہا ہے جس کی بنیادی وجہ ان کے خلاف زیر التوا کیسز ہیں جو اب فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور عمران خان کو انتخابی سیاست سے باہر کر سکتے ہیں۔ عمران خان کے خلاف اس وقت سب سے اہم کیس اسلام آباد کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت میں ہے جو الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے بھجوایا گیا ہے۔ اس کیس میں عمران پر توشہ خانہ سے مہنگی گھڑیوں سمیت کئی قیمتی تحائف کی خرید و فروخت میں بدعنوانی کے الزامات ہیں۔
الیکشن کمیشن نے رواں سال اکتوبر میں توشہ خانہ ریفرنس میں عمران کو کرپٹ پریکٹسز کا مرتکب ٹھہراتے ہوئے نااہل کر دیا تھا۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے فوجداری کارروائی کے لیے یہ کیس اسلام آباد کی عدالت کو بھجوایا گیا تھا جسے عدالت نے قابلِ سماعت قرار دے کر عمران کو نو جنوری کو ذاتی حیثیت میں طلب کر رکھا ہے۔ اس دوران توشہ خانہ کے حوالے سے بشریٰ بی بی کی کئی آڈیوز سامنے آ چکی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ غیر ملکی تحائف لوٹنے میں سابقہ خاتون اول اکیلی ملوث نہیں تھیں بلکہ انہیں اپنے وزیراعظم شوہر کی بھرپور مدد حاصل تھی۔
سابق وزیرِاعظم کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں ٹیریان وائٹ کیس بھی زیرِ التوا ہے جس میں الزام ہے کہ عمران خان نےالیکشن کمیشن میں جمع کرائے گئے کاغذات میں اپنی مبینہ بیٹی ٹیریان کا نام ظاہر نہیں کیا۔ لہٰذا انہیں غلط بیانی پر سزا دی جائے۔ یہ کیس 20 دسمبر کو سماعت کے لیے مقرر ہے۔عمران خان کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ ہی میں ممنوعہ فنڈنگ کیس کا معاملہ بھی زیرِ التوا ہے جس پر سماعت جاری ہے۔ الیکشن کمیشن نے آٹھ سال کے بعد رواں برس اس کیس کا فیصلہ سنایا تھا۔ اسکے علاوہ عمران کے خلاف سائفر معاملے سے متعلق بھی ایف آئی اے میں انکوائری جاری ہے۔ اگر اس معاملے میں عمران خان کے خلاف شواہد پائے گئے تو انھیں قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس کے علاوہ الیکشن کمیشن کی توہین، پارٹی چیئرمین شپ سے ہٹانے کے معاملے اور انتخابی اخراجات جمع نہ کرانے کے کیسز بھی الیکشن کمیشن آف پاکستان میں 20 دسمبر کو سماعت کے لیے مقرر کیے گئے ہیں۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا عمران خان کو عدالتوں سے ریلیف مل سکتا ہے؟ پی ٹی آئی کے وکلا کہتے ہیں کہ سابق وزیرِ اعظم کو ان کیسز سے کوئی خطرہ نہیں اور عدالتوں سے ریلیف مل سکتا ہے۔ وکیل اظہر صدیق ایڈووکیٹ کا۔کہنا ہے کہ تاثر یہ دیا جا رہا ہے کہ عمران شدید مشکلات میں ہیں اور انہیں بہت جلد نااہلی کا سامنا کرنا ہوگا۔ لیکن حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ ٹیریان وائٹ کیس کو اسلام آباد ہائی کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ سمیت کئی عدالتیں مسترد کر چکی ہیں اور اس میں مزید کچھ بھی نہیں ہوگا۔
توشہ خانہ کیس سے متعلق اظہر صدیق نے کہا کہ الیکشن کمیشن عمران کو اسی کیس میں ایک ٹرم کے لیے نااہل کر چکا ہے۔ ایک شخص کو ایک ہی کیس میں دو عدالتوں سے سزا نہیں سنائی جا سکتی۔ لہٰذا ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں اس کیس کا چلنا بنتا ہی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ 9 جنوری کو عمران کی طلبی کو اسلام آباد ہائی کورٹ یا لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج بھی کیا جاسکتا ہے اور اس بارے میں غور کیا جا رہا ہے۔
اظہر صدیق ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ توہینِ الیکشن کمیشن کیس میں اگر عمران خان کو سزا بھی دی جائے تو ان کی نااہلی صرف ایک لمحے کے لیے ہوگی۔ عمران ویسے بھی اسمبلی سے جا چکے ہیں اور واپس آنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ لہٰذا اس سے عمران کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمران کے خلاف بنائے گئے زیادہ تر کیسز سیاسی نوعیت کے ہیں جن میں جان نہیں۔ ہمیں عدالتوں سے امید ہے کہ وہ انصاف کے تقاضوں کے مطابق کارروائی کریں گی۔
لیکن الیکشن کمیشن کے سابق سیکریٹری کنور دلشاد عمران کے وکیل اظہر صدیق سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کے خیال میں عمران خان کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔کنور دلشاد نے کہا کہ عمران کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس بہت اہمیت کا حامل ہے جس میں الیکشن کمیشن تمام تحقیقات مکمل کرچکا ہے۔ اسی لیے کمیشن نے حکم نامہ جاری کیا اور فوجداری کارروائی کے لیے ڈسٹرکٹ عدالت کو کیس بھجوایا۔
ان کے بقول الیکشن کمیشن نے تمام شواہد عدالت میں پہلے ہی جمع کرا دیے ہیں اور مجھے امید نہیں کہ اس میں زیادہ وقت لگے گا۔ عمران کو کسی بھی وقت نااہل قرار دیا جاسکتا ہے۔ کنور دلشاد کا کہنا تھا کہ عمران کی پارٰٹی چیئرمین شپ سے متعلق کیس اور توہینِ الیکشن کمیشن کیس میں تو زیادہ نقصان کا خطرہ نہیں ہے کیوں کہ عام طور پر ایسے کیسز میں کمیشن سے معافی مانگ لی جاتی ہے اور کمیشن بھی درگزر کرتا ہے، لیکن ٹیریان وائٹ کیس میں انہیں مشکلات درپیش ہو سکتی ہیں۔
کنور دلشاد کے بقول ٹیریان والا کیس اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت کے لیے مقرر ہے جس میں بیرونِ ملک عدالتوں کے تحریری تصدیق شدہ فیصلے پیش کیے جارہے ہیں۔ اگر عدالت اس بارے میں کوئی حکم جاری کرے تو عمران خان کے لیے کو مشکل صورتِ حال کا سامنا ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے خلاف اس وقت جو کیسز ہیں، ان میں اگر ان کے خلاف بھی فیصلے آتے ہیں تو شاید انہیں قانونی طور پر زیادہ نقصان نہ ہو۔ لیکن اخلاقی طور پر خاصا نقصان ہوسکتا ہے جو ان کے ووٹ بنک پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔
