عمران کیخلاف بغاوت کرنے والا KPK کا MPA مشکل میں


تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پر کرپشن کے الزامات عائد کرتے ہوئے پارٹی چھوڑنے والے خیبر پختونخوا اسمبلی کے پشاور سے باغی ایم پی اے محمد فہیم کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے اور اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ نے انہیں سرکاری زمین پر قبضے کے الزام میں چارج شیٹ کر دیا ہے۔ فہیم کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی وزیر اعلیٰ محمود خان کے احکامات پر شروع کی گئی ہے جو خود بھی کرپشن کرتے ہیں اور عمران خان کو بھی حصہ دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس جھوٹے الزام کا مقصد انہیں دباؤ میں لانا اور بلیک میل کرنا ہے لیکن وہ اپنے موقف پر ڈٹ کر کھڑے ہیں اور کسی دباؤ میں نہیں آئیں گے۔

محمد فہیم نے ایک روز پہلے پارٹی سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے ساتھ 20 اراکین اسمبلی رابطے میں ہیں۔ فہیم نے کہا تھا کہ ’میرا پی ٹی آئی سے اب کوئی تعلق نہیں اور نہ عمران خان میرے لیڈر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرے ساتھ اور بھی لوگ ہیں جو عمران کی قیادت اور انکی کرپشن سے نالاں ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ پہلے میں یہی سمجھتا رہا کہ وزیر اعلیٰ محمود خان کرپشن صرف اپنے لیے کرتے ہیں لیکن اب اس بات کی تصدیق ہوگئی ہے کہ اس کرپشن کے تانے بانے تو بنی گالہ جا کر ملتے ہیں، لہذا میں نے پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پارٹی کے مزید 20 اراکین بھی انکے ساتھ رابطے میں ہیں اور مناسب موقع پر ان کے ساتھ شامل ہو جائیں گے تاکہ ایک فارورڈ بلاک بنایا جا سکے۔

خیال رہے گزشتہ ایک ماہ سے پارٹی کے اندر گروپ بندی کی چہ مگوئیاں ہو رہی تھی جن کو پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے افواہیں کہہ کر رد کیا جا رہا تھا۔ تاہم اب پشاور سے رکن صوبائی اسمبلی اور پی ٹی آئی کے دیرینہ کارکن محمد فہیم کھل کر پارٹی چیئرمین عمران خان کے خلاف سامنے آ گئے ہیں۔ پشاور کے حلقہ پی کے 72 سے ایم پی اے محمد فہیم نے تحریک انصاف سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے کپتان کو چارج شیٹ کیا اور کہا کہ خان صاحب کے قول و فعل میں واضح تضاد ہے، وہ کہتے کچھ اور کرتے کچھ ہیں، عمران ویسے تو ریاست مدینہ کی باتیں کرتے ہیں مگر عملی طور پر سب کچھ اس کے برعکس کرتے ہیں۔ ناراض رکن اسمبلی فہیم نے کہا کہ عمران خان نے لوگوں کی منفی ذہن سازی کی ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ جھوٹ کو سچ کیسے بنانا ہے، انہوں نے کہا کہ میں ماضی میں عمران خان کا کارکن تھا اور 15 سال میں نے پارٹی کے لیے محنت کی، لیکن میرا سوال ہے کہ کیا ملکی اداروں کے خلاف باتیں کرنا حقیقی آزادی کی تحریک ہے، ہم نے ملک کو مضبوط بنانا ہے نہ کہ فوج کو کمزور کرنا ہے۔

فہیم کے مطابق وزیر اعلیٰ محمود خان کی جانب سے وسیع پیمانے پر کی جانے والی کرپشن کا علم ہونے کے بعد ہم 11 پی ٹی آئی ایم پی ایز نے عمران خان سے اسلام آباد میں ملاقات کی، میں نے خان صاحب کو بی آر ٹی میں کرپشن سے متعلق فائل دکھائی مگر بات اِدھر اُدھر کر دی گئی، اور میرے سوالات کو مذاق میں ٹال دیا، اس وقت مجھے احساس ہوا کہ یہ سب کچھ دکھاوا ہے۔فہیم نے دعویٰ کیا کہ محکمہ صحت ہو یا تعلیم ہر شعبے میں کرپشن کا بازار گرم ہے، رشوت کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا، لہذا اب میں مزید جھوٹ بول کر عوام کو دھوکہ نہیں دے سکتا، میرا پی ٹی آئی سے اب کوئی تعلق نہیں نہ عمران خان میرے لیڈر ہیں، میرے ساتھ باقی رہنما بھی ہیں جو عمران کی قیادت سے نالاں ہیں۔ ایم پی اے کا کہنا تھا کہ اگر عمران خان نااہل ہو جاتے ہیں تو ہم صرف پرویز خٹک کی قیادت کو تسلیم کریں گے ورنہ ہم کسی اور کو نہیں مانتے۔

ادھر چارسدہ سے منتخب رکن صوبائی اسمبلی اور سابق صوبائی وزیر قانون سلطان محمد خان نے بھی تحریک انصاف چھوڑنے کا اعلان کر دیا ہے حالانکہ وزیراعلیٰ محمود خان نے ان سے ملاقات کرکے انہیں منانے کی کوشش کی تھی۔ بتایا گیا ہے کہ سلطان محمود خان نے عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔تحریک انصاف خیبر پختون خوا چیپٹر میں دراڑیں پڑنے کے بعد وزیر اعلیٰ محمود خان کی ہدایت پر باغی ایم پی اے فہیم خان کے خلاف اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ نے کاروائی شروع کر دی ہے۔ فہیم کو بھیجے گئے نوٹس میں بتایا گیا ہے کہ ان کے خلاف پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی زمین پر غیر قانونی تعمیرات کے الزام پر انکوائری چل رہی ہے جس کے لیے ان کا پیش ہونا ضروری ہے۔

Back to top button