عمران کی اہلیہ کا سابقہ شوہر خاور دوبارہ ڈان بن گیا


چودھری پرویزالٰہی کے وزیر اعلیٰ پنجاب بننے کے بعد سے ایک مرتبہ پھر عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے پہلے شوہر خاور مانیکا ایک مرتبہ پھر سے پاکپتن کے ڈان بن چکے ہیں اور ان کے علاقے میں تمام سرکاری افسران کی پوسٹنگ اور ٹرانسفرز انہی کی مرضی سے ہو رہی ہیں۔

اس حوالے سے تازہ واقعہ یہ سامنے آیا ہے کہ خاور مانیکا کے غیر قانونی احکامات نہ ماننے کی وجہ سے سیکرٹری فوڈ نادر چٹھہ کو فوری طور پر عہدے سے ہٹا کر او ایس ڈی بنا دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ ماضی میں بھی جب نادر چٹھہ کمشنر ساہیوال تھے، تب بھی خاور مانیکا کے غیر قانونی احکامات نہ ماننے کی وجہ سے ان کا ساہیوال سے تبادلہ کر دیا گیا تھا۔ دوسری جانب نادر چٹھہ کا موقف ہے کہ انہوں نے خاور مانیکا کے غیر قانونی احکامات نہ کبھی پہلے مانے تھے اور نہ ہی اب مانیں گے، چاہے وہ ان کی سو مرتبہ ٹرانسفر کروا لیں۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے عثمان بزدار کے دور حکومت میں خاور مانیکا نے ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل کا تبادلہ کروا دیا تھا۔ رضوان گوندل کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ خاور مانیکا کے ڈیرے پر جا کر ان سے معافی مانگیں لیکن انہوں نے انکار کر دیا تھا جس کے بعد ان کا تبادلہ کروا دیا گیا تھا۔ اس معاملے کا ایک سکینڈل بن گیا تھا اور کیس سپریم کورٹ تک چلا گیا تھا جہاں خاور مانیکا کو جاکر خود معافی مانگنا پڑی۔ تاہم خاور مانیکا نے اپنی روش برقرار رکھی اور پھر ایک وقت ایسا بھی آیا جب انہیں نیلی بار کا ڈان قرار دیا جانے لگا۔ یاد رہے کہ پاکپتن اور ساہیوال پر مشتمل علاقے کو نیلی بار کہا جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بنی گالا میں موجود خاور مانیکا کی سابقہ اہلیہ بشریٰ بی بی عمران خان کے عقد میں جانے کے باوجود اپنے پہلے شوہر سے مسلسل رابطے میں رہتی تھیں اور ان کی چوہدراہٹ قائم کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔

عمران خان کے دور حکومت میں پنجاب کا بچہ بچہ اس حقیقت سے واقف تھا کہ عثمان بزدار صرف نام کے وزیر اعلیٰ تھے اور ان کے اختیارات بشریٰ بی بی کی یار غار اور انکی فرنٹ ویمن کہلانے والی فرح خان عرف گوگی استعمال کرتی تھیں۔ بحریہ ٹاؤن کے ارب پتی مالک ملک ریاض سے ہیرے بطور رشوت وصول کرکے بشریٰ بی بی تک پہنچانے ہوں یا عمران خان کو اسلام آباد میں 458 کنال اراضی الاٹ کروانی ہو، یہ تمام گندے دھندے فرح گوگی اور انکے دوسرے شوہر احسن جمیل گجر کے ذمے تھے۔ بشری ٰبی بی اور فرح خان کے قریبی تعلق کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ عمران اور بشری ٰکا خفیہ نکاح ڈیفنس لاہور میں فرح اور ان کے شوہر احسن جمیل گجر کے گھر پر ہوا تھا۔ گجر دراصل بشریٰ کے پہلے شوہر خاورمانیکا کے عزیز ترین دوست ہیں ۔

فرح خان گوگی کا نام سب سے پہلے میڈیا پر تب آیا جب عمران خان کی تیسری شادی کی خبریں جنوری 2018 میں آنا شروع ہوئیں۔ یکم جنوری 2018 کو لاہور کے علاقے ڈی ایچ اے میں عمران خان نے بشریٰ بی بی سے خفیہ نکاح کیا۔ یہ تقریب بشریٰ بی بی کی دوست فرح خان کے گھر پر منعقد ہوئی۔ ابتدا میں تحریک انصاف کی لیڈرشپ نے ان خبروں کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا۔ تاہم ایک مہینے بعد تحریک انصاف نے کچھ تصاویر جاری کیں۔ شادی کی ایسی ہی ایک تصویر میں نوبیاہتا جوڑے کے پیچھے فرح خان کھڑی نظر آ رہی تھیں۔ تب ان کا تعارف بشریٰ بی بی کی قریبی دوست کے طور پر سامنے آیا۔ تاہم میڈیا میں فرح خان کا نام باقاعدہ طور پر اگست 2018 میں پاکستان میں تحریک انصاف کی حکومت بننے کے بعد تواتر سے آنا شروع ہوا۔

اس دوران یہ الزامات بھی سامنے آنا شروع ہوئے کہ احسن جمیل گجر اور فرح خان عثمان بزدار کے ذریعے پیسے پکڑ کر پوسٹنگز اور ٹرانسفرز کرواتے ہیں اور اربوں روپے کے سرکاری ٹھیکے بھی دلواتے ہیں۔ یہ الزام بھی لگایا گیا کہ دونوں میاں بیوی خاورمانیکا اور بشری ٰبی بی کے لئے کام کرتے ہیں اور انھیں رشوت کا پیسہ پہنچاتے ہیں۔ تاہم عمران کی حکومت ختم ہونے سے چند روز پہلے فرح گوگی اور ان کا شوہر احسن جمیل گجر ملک سے فرار ہوگئے تھے اور تاحال واپس نہیں آئے۔

Back to top button