امریکہ پیچھے ہٹ گیا یا ایران جیت گیا؟ معاہدے کے خفیہ نکات منظرعام پر

مشرقِ وسطیٰ میں کئی ماہ سے جاری خوفناک کشیدگی، میزائل حملوں، بحری محاصروں اور عالمی دباؤ کے بعد اب ایک ایسی پیش رفت سامنے آئی ہے جس نے پوری دنیا کی نظریں اپنی جانب کھینچ لی ہیں۔ پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ جنگ بندی اور امن معاہدے کا ابتدائی خاکہ منظرعام پر آ چکا ہے، جس کے بعد سوال یہ پیدا ہو گیا ہے کہ آخر اس سفارتی جنگ میں سبقت کس نے حاصل کی اور کس فریق کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا؟آبنائے ہرمز کی بحالی، امریکی فوجی موجودگی میں کمی، ایران کی بحری نگرانی، اور اقوام متحدہ کے ذریعے معاہدے کو قانونی تحفظ دینے جیسے نکات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ صرف جنگ بندی نہیں بلکہ پورے خطے کے اسٹریٹجک مستقبل کا معاہدہ بن سکتا ہے۔بظاہر امریکہ اور ایران دونوں اپنی اپنی کامیابی کے دعوے کر رہے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ معاہدہ کئی پیچیدہ سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ کیا امریکہ واقعی خطے سے پیچھے ہٹ رہا ہے؟ کیا ایران نے اپنی مزاحمتی پوزیشن برقرار رکھتے ہوئے سفارتی فتح حاصل کر لی؟ اور سب سے بڑھ کر، کیا پاکستان واقعی ایک بڑے عالمی ثالث کے طور پر ابھر رہا ہے؟
پاکستان کی ثالثی میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری خفیہ سفارتکاری اب ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کی جانب سے مفاہمتی یادداشت کے ابتدائی حصے کو منظرعام پر لانے کے بعد خطے میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے کہ آخر اس ممکنہ معاہدے سے حقیقی فائدہ کس کو ہوگا۔
منظرعام پر آنے والے نکات کے مطابق ایران نے اس بات پر آمادگی ظاہر کی ہے کہ وہ ایک ماہ کے اندر آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال کرے گا۔ یہ دنیا کے لیے سب سے اہم نکتہ سمجھا جا رہا ہے کیونکہ عالمی تیل تجارت کا بڑا حصہ اسی سمندری راستے سے گزرتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش نے نہ صرف عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ تیل کی قیمتوں میں بھی شدید اضافہ ہوا۔
دوسری جانب امریکہ نے ایران کے اطراف اپنی فوجی موجودگی کم کرنے یا ختم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ اگر یہ شق عملی شکل اختیار کرتی ہے تو یہ ایران کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی سمجھی جائے گی کیونکہ تہران مسلسل امریکی فوجی دباؤ کو خطے کے عدم استحکام کی بنیادی وجہ قرار دیتا رہا ہے۔
تاہم اس معاہدے کا سب سے اہم اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ امریکی جنگی بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز میں مکمل آزادانہ رسائی نہیں دی جائے گی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اپنی اسٹریٹجک برتری مکمل طور پر چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔ مجوزہ منصوبے کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کی نگرانی ایران اور عمان مشترکہ طور پر کریں گے، جو ایران کے مؤقف کو تقویت دیتا ہے۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق تہران اب صرف وعدوں پر یقین کرنے کے بجائے عملی ضمانتیں چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی معاہدے پر عمل درآمد سے قبل تمام نکات کی “عملی اور قابل تصدیق یقین دہانی” ضروری ہوگی۔ اس مؤقف سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایران ماضی کے جوہری معاہدوں کی طرح دوبارہ دھوکہ کھانے سے بچنا چاہتا ہے۔
معاہدے کا ایک اور بڑا نکتہ یہ ہے کہ اگر 60 روز کے اندر حتمی اتفاق رائے ہو جاتا ہے تو اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے ذریعے قانونی تحفظ دیا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ مستقبل میں کسی بھی فریق کے لیے یکطرفہ طور پر معاہدہ توڑنا آسان نہیں رہے گا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اس معاہدے میں دونوں فریقوں نے جزوی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ امریکہ کے لیے سب سے بڑی کامیابی آبنائے ہرمز کی بحالی اور عالمی تجارتی راستوں کا کھلنا ہے، جبکہ ایران کے لیے امریکی فوجی دباؤ میں ممکنہ کمی اور خطے میں اپنی اسٹریٹجک حیثیت برقرار رکھنا ایک بڑی سفارتی جیت تصور کی جا رہی ہے۔
لیکن اس پوری صورتحال میں سب سے زیادہ توجہ پاکستان کے کردار پر مرکوز ہے۔ اگر یہ معاہدہ کامیابی سے مکمل ہو جاتا ہے تو پاکستان پہلی بار مشرقِ وسطیٰ کی بڑی طاقتوں کے درمیان ایک مؤثر ثالث کے طور پر عالمی سطح پر ابھر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خطے کی سفارتی سیاست میں اسلام آباد کا نام غیر معمولی اہمیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
اب سوال صرف یہ نہیں کہ معاہدہ ہوگا یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ معاہدہ واقعی مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن لا سکے گا یا پھر یہ صرف ایک عارضی جنگ بندی ثابت ہوگا۔
