سعودی عرب کے بعد کویت سے معاہدہ پاکستان کے لیے امتحان کیوں؟

امریکہ اور ایران کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنے والے پاکستان کو سعودی عرب کے بعد کویت سے بھی دفاعی معاہدہ کرنے کے نتیجے میں ایک نئے اور حساس امتحان کا سامنا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے بعد کویت کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے کو بھی قانونی حیثیت ملنے سے پاکستان کی خلیجی سلامتی کے ڈھانچے میں اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، تاہم اگر مستقبل میں امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ فوجی تصادم ہوتا ہے تو ایران ماضی کی طرح سعودی عرب اور کویت میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا سکتا ہے، جس سے پاکستان ایک نہایت نازک سفارتی پوزیشن میں آ سکتا ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے لیے یہ شراکت داریاں معاشی لحاظ سے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہیں کیونکہ سعودی عرب اور کویت دونوں پاکستان کو ایک ایٹمی طاقت کے طور پر تسلیم کرتے ہیں، جبکہ ان ممالک کے ساتھ مضبوط دفاعی تعلقات کے نتیجے میں پاکستان کو سرمایہ کاری، تیل کی فراہمی، دفاعی تعاون، روزگار کے نئے مواقع اور قیمتی غیر ملکی زرِ مبادلہ حاصل ہونے کی توقع بھی ظاہر کی جا رہی ہے۔

کویت نے پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے کو باضابطہ طور پر اپنے ملکی قانون کا حصہ بنا دیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک شاہی فرمان جاری کیا گیا ہے جس کے ذریعے دفاعی معاہدے کی توثیق کر دی گئی ہے۔ کویتی حکام اور پاکستانی سفارت خانے کے مطابق اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان ایک جامع ادارہ جاتی فریم ورک قائم کیا جائے گا، جس میں فوجی تربیت، پیشہ ورانہ تعلیم، انٹیلی جنس تعاون، لاجسٹکس، دفاعی ٹیکنالوجی، سائنسی تحقیق، مہارت کے تبادلے اور دفاعی صنعت کے مختلف شعبوں میں اشتراک کو فروغ دیا جائے گا۔

کویت میں پاکستان کے سفیر ظفر اقبال نے کویتی اخبار الجریدہ کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ یہ معاہدہ 11 جون 2023 کو طے پایا تھا، تاہم اب شاہی فرمان کے ذریعے اسے مکمل قانونی حیثیت دے دی گئی ہے۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد فوجی اداروں کے درمیان پیشہ ورانہ روابط، صلاحیت سازی اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ میں تعاون کو وسعت دینا ہے۔

ادھر پاکستانی دفتر خارجہ نے بھی اعلان کیا ہے کہ کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح 28 اور 29 جولائی کو اسلام آباد کا سرکاری دورہ کریں گے، جہاں دوطرفہ تعلقات، دفاعی تعاون اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف امور پر بات چیت متوقع ہے۔
پاکستان اور کویت کے درمیان یہ دفاعی تعاون کا معاہدہ 11 جون 2023 کو کویت میں پاکستانی سفیر ملک محمد فاروق اور کویتی وزارت دفاع کے جوائنٹ پلاننگ ڈائریکٹر بریگیڈیئر جنرل فواز خضیر محمد الحربی نے دستخط کر کے طے کیا تھا۔ اس وقت بھی دونوں ممالک نے امید ظاہر کی تھی کہ یہ معاہدہ دفاعی تعلقات کو نئی وسعت دے گا۔

کویتی اخبار النبا کے مطابق شاہی فرمان میں واضح کیا گیا ہے کہ حکومتِ کویت پاکستان کے ساتھ دفاعی شعبے میں تعاون سے متعلق اس معاہدے کی منظوری دیتی ہے اور متعلقہ وزرا اپنے اپنے دائرہ اختیار میں اس پر عمل درآمد کے پابند ہوں گے۔
یہ معاہدہ مجموعی طور پر 12 شقوں پر مشتمل ہے۔ پہلی شق دفاع اور فوجی تربیت میں تعاون کی بنیاد فراہم کرتی ہے، جبکہ دوسری شق فوجی تربیت، لاجسٹکس، دفاعی ٹیکنالوجی، سائنس، انٹیلی جنس، مہارت کے تبادلے اور اہلکاروں کی تربیت جیسے شعبوں میں اشتراک کی راہ ہموار کرتی ہے۔

تیسری سے آٹھویں شقوں میں سالانہ منصوبہ بندی، مشترکہ فوجی کمیٹی، وزارت دفاع کی ذمہ داریاں، حساس معلومات کے تحفظ، دانشورانہ املاک کے حقوق اور مالیاتی انتظامات کی وضاحت کی گئی ہے تاکہ تعاون کا طریقہ کار واضح اور منظم رہے۔ لیکن معاہدے کی نویں شق کو خاص اہمیت حاصل ہے کیونکہ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ معاہدہ کسی بھی فریق کی دیگر بین الاقوامی معاہدوں کے تحت موجود ذمہ داریوں یا حقوق پر اثر انداز نہیں ہوگا۔ دسویں شق کے مطابق کسی بھی اختلاف یا تنازع کو دونوں ممالک باہمی مشاورت سے حل کریں گے اور اسے کسی بین الاقوامی عدالت یا تیسرے فریق کے سپرد نہیں کیا جائے گا۔

معاہدے کی گیارہویں شق دونوں ممالک کو باہمی رضامندی سے مستقبل میں ترمیم کا اختیار دیتی ہے، جبکہ بارہویں شق اس کی مدت، تجدید اور خاتمے کے طریقہ کار کی وضاحت کرتی ہے۔ اس میں یہ بھی درج ہے کہ یہ معاہدہ کویت کی عرب اور بین الاقوامی ذمہ داریوں سے متصادم نہیں ہوگا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس معاہدے کو پاکستان اور سعودی عرب کے ستمبر 2025 کے جوائنٹ سٹریٹجک ڈیفنس ایگریمنٹ سے الگ کر کے دیکھنا ضروری ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ معاہدے میں واضح طور پر درج ہے کہ کسی ایک ملک پر بیرونی حملہ دونوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا، جبکہ کویت کے ساتھ معاہدہ صرف دفاعی تعاون، تربیت، لاجسٹکس، انٹیلی جنس، دفاعی صنعت، ٹیکنالوجی اور ادارہ جاتی روابط تک محدود ہے اور اس میں مشترکہ دفاع کی کوئی شق شامل نہیں۔

دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر) محمود شاہ کے مطابق سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ اجتماعی دفاع کی بنیاد پر قائم ہے، جبکہ کویت کے ساتھ معاہدہ بنیادی طور پر پیشہ ورانہ تعاون اور دفاعی استعداد بڑھانے کے لیے ہے۔ ان کے مطابق دونوں معاہدوں کی نوعیت میں نمایاں فرق موجود ہے۔ سفیر ظفر اقبال کا کہنا ہے کہ پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعلقات 1980 کی دہائی سے قائم ہیں، تاہم موجودہ علاقائی حالات کے تناظر میں انہیں ایک باضابطہ ادارہ جاتی فریم ورک دے دیا گیا ہے تاکہ تعاون کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے اس معاہدے کی اہمیت مزید بڑھا دی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ کے دوران ایران نے متعدد مواقع پر خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، جبکہ کویتی حکام نے کئی ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں کو ناکام بنانے کا اعلان بھی کیا تھا۔ بین الاقوامی امور کے ماہر عبدالباسط کے مطابق خلیجی ریاستیں اب صرف امریکی سکیورٹی ضمانتوں پر انحصار نہیں کر رہیں بلکہ وہ دفاعی شراکت داریوں کو متنوع بنا رہی ہیں تاکہ کسی ایک طاقت پر مکمل انحصار ختم کیا جا سکے۔ ان کے مطابق پاکستان اس نئی علاقائی حکمت عملی میں ایک اہم شراکت دار کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔

ادھر بھارتی دفاعی تجزیہ کار پراوین سواہنی کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک اب سکیورٹی کے نئے علاقائی ڈھانچے کی جانب بڑھ رہے ہیں جہاں پاکستان، سعودی عرب اور دیگر اسلامی ممالک کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہوتا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی ایران اور امریکہ دونوں کے ساتھ بات چیت کی صلاحیت اسے ایک منفرد سفارتی حیثیت فراہم کرتی ہے۔ بریگیڈیئر محمود شاہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان 2025 کی مختصر جنگ کے بعد پاکستانی افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیت کا تاثر مزید مضبوط ہوا، جس کے بعد متعدد خلیجی ممالک نے اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون میں دلچسپی بڑھائی۔
تاہم وہ تسلیم کرتے ہیں کہ سعودی عرب کے بعد کویت کے ساتھ دفاعی معاہدہ مستقبل میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کا سب سے بڑا امتحان ثابت ہو سکتا ہے۔

Back to top button