آزاد کشمیر میں الیکشن کے بعد خونریز تصادم، صورت حال خراب تر

آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے پہلے مرحلے کے اگلے ہی روز راولاکوٹ میں سکیورٹی فورسز اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مظاہرین کے درمیان ہونے والے خونریز تصادم کے بعد پورے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے جوانوں سمیت کئی افراد کی ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم سرکاری اور غیر سرکاری دعووں میں واضح تضاد پایا جاتا ہے۔

یہ صورتحال ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور تحریک انصاف دونوں نے انتخابات کے بائیکاٹ کی کال دے رکھی تھی، لیکن اس کے باوجود حکومت نے 27 جولائی کو انتخابی عمل کا پہلا مرحلہ مکمل کروا دیا تھا۔ اب انتخابات کے فوراً بعد ہونے والی پرتشدد جھڑپوں نے نہ صرف امن و امان کی صورتحال کو سنگین بنا دیا ہے بلکہ آئندہ انتخابی مراحل پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
پرتشدد واقعات کے بعد راولاکوٹ، میرپور اور دیگر حساس علاقوں میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے جبکہ مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ اطلاعات کے مطابق راولاکوٹ میں پیر کی شام ہونے والی جھڑپوں کے ردعمل میں منگل کو میرپور میں بھی احتجاج ہوا جہاں پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم کے دوران کم از کم ایک شخص کے مارے جانے اور دو افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق سامنے آئی ہے۔

سرکاری حکام کے مطابق میرپور میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکن راولاکوٹ میں ہونے والے واقعات کے خلاف احتجاج کے لیے شہدا چوک اور مرکزی تجارتی علاقے میں جمع ہوئے اور مبینہ طور پر زبردستی بازار بند کرانے کی کوشش کی۔ پولیس کا مؤقف ہے کہ جب اہلکاروں نے انہیں روکنے کی کوشش کی تو مظاہرین کی جانب سے فائرنگ کی گئی، جس کے دوران ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔

دوسری جانب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کور کمیٹی کے رکن عابد شاہین نے سرکاری مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پرامن مظاہرین پر بلااشتعال فائرنگ کی۔ ان کے مطابق صرف میرپور میں ان کے چھ کارکن مارے گئے، تاہم مقامی ہسپتال انتظامیہ نے صرف ایک لاش اور دو زخمیوں کے لائے جانے کی تصدیق کی ہے۔ راولاکوٹ میں پیر کی شام ہونے والے تصادم کے حوالے سے بھی متضاد اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے ابتدا میں دعویٰ کیا کہ فائرنگ سے ان کے 14 کارکن مارے گئے، بعد ازاں یہی تعداد نو بتائی گئی جبکہ دو درجن سے زائد افراد کے زخمی ہونے کا دعویٰ بھی کیا گیا۔ تنظیم کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں اس کے بانی رکن عمر نذیر کشمیری کے بھائی عثمان نذیر بھی شامل ہیں۔

اس کے برعکس آزاد کشمیر پولیس کے سربراہ کیپٹن (ر) لیاقت علی ملک نے ان دعوؤں کی تصدیق سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ جب تک لاشیں سرکاری یا نجی ہسپتالوں میں نہیں لائی جاتیں یا ان کا قانونی ریکارڈ موجود نہیں ہوتا، اس وقت تک اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کی تصدیق ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی ہلاکتوں کے مبالغہ آمیز دعوے سامنے آتے رہے ہیں۔ تاہم حکام نے تصدیق کی ہے کہ راولاکوٹ میں ہونے والی جھڑپوں کے دوران رینجرز کا ایک اہلکار ہلاک جبکہ متعدد اہلکار زخمی ہوئے۔ پولیس حکام کے مطابق مظاہرین کی جانب سے فائرنگ کی گئی جس کے جواب میں سکیورٹی فورسز نے بھی جوابی کارروائی کی، اور اسی دوران مظاہرین کی ہلاکتوں کا امکان بھی موجود ہے، تاہم اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی جا سکی۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق تقریباً دو ہزار مظاہرین نے سنگولہ اور دریک کے راستوں سے راولاکوٹ شہر میں داخل ہونے کی کوشش کی، لیکن سکیورٹی فورسز نے انہیں روک دیا۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مظاہرین کی جانب سے پولیس پر فائرنگ کے بعد جوابی کارروائی کی گئی جبکہ دیگر مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال بھی کیا گیا۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کا لانگ مارچ مکمل طور پر پرامن تھا اور شرکا کے پاس لاٹھیوں کے علاوہ کوئی ہتھیار موجود نہیں تھا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے بغیر کسی اشتعال کے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں متعدد کارکن مارے گئے۔

ادھر پولیس اور سکیورٹی حکام کا دعویٰ ہے کہ مظاہرین جدید اسلحے سے لیس تھے اور انہوں نے نہ صرف پولیس اور رینجرز اہلکاروں پر فائرنگ کی بلکہ پولیس اور رینجرز کی گاڑیوں کو بھی آگ لگا دی۔ حکام کے مطابق ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کی ہر کوشش کا قانون کے مطابق جواب دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے 9 جون سے کشمیر اسمبلی میں کشمیری مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستوں کے خاتمے کے مطالبے پر احتجاجی تحریک شروع کر رکھی ہے۔ مذاکرات کی کئی کوششیں ناکام ہونے کے بعد تنظیم نے 27 جولائی کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔ حکومت نے بعد ازاں تنظیم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اس کے متعدد رہنماؤں کے خلاف انسداد دہشت گردی کے مقدمات درج کیے، جبکہ اہم رہنماؤں کی گرفتاری پر انعامات کا بھی اعلان کیا گیا۔

احتجاجی تنظیم کا مؤقف ہے کہ مہاجرین کی مخصوص نشستیں مقامی آبادی کی سیاسی نمائندگی کو کمزور کرتی ہیں اور اسمبلی کی تمام نشستیں آزاد کشمیر میں رہنے والے شہریوں کے لیے مختص ہونی چاہییں۔ دوسری جانب حکومت اور سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ یہ نشستیں تاریخی اور آئینی حیثیت رکھتی ہیں اور انہیں برقرار رکھنا ضروری ہے۔ اسی تنازعے اور احتجاجی تحریک کے باعث جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اسمبلی انتخابات کے مکمل بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا، جبکہ پاکستان تحریک انصاف نے بھی تنظیم سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے انتخابی عمل سے الگ رہنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے باوجود حکومت نے سخت سکیورٹی انتظامات میں میرپور ڈویژن میں انتخابات کا پہلا مرحلہ مکمل کروایا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق مجموعی طور پر پولنگ پرامن رہی، اگرچہ بعض مقامات پر تشدد کے واقعات بھی پیش آئے اور ووٹر ٹرن آؤٹ ماضی کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم رہا۔

ادھر چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) غلام مصطفیٰ مغل نے انتخابات کو آزاد کشمیر کی تاریخ کے مشکل ترین انتخابات قرار دیتے ہوئے کہا کہ سخت سکیورٹی، احتجاجی صورتحال، مواصلاتی پابندیوں اور حساس حالات کے باوجود انتخابی عمل مکمل کیا گیا۔ غیر سرکاری نتائج کے مطابق پہلے مرحلے میں مسلم لیگ (ن) کو برتری حاصل ہوئی ہے۔ آزاد کشمیر اسمبلی کے انتخابات کا دوسرا مرحلہ دو اگست کو مظفرآباد ڈویژن جبکہ تیسرا اور آخری مرحلہ 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں ہونا ہے۔ تاہم راولاکوٹ اور میرپور میں ہونے والی تازہ خونریز جھڑپوں کے بعد خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے اور سیاسی مبصرین کے مطابق اگر حکومت اور احتجاجی قیادت کے درمیان فوری مذاکرات نہ ہوئے تو آنے والے انتخابی مراحل مزید چیلنجز سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب ہلاکتوں کی اصل تعداد کے حوالے سے سرکاری اور احتجاجی قیادت کے متضاد دعووں کے باعث صورتحال اب بھی غیر واضح ہے اور آزادانہ ذرائع سے ان دعووں کی مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔

Back to top button