سردار سپّاں والا

تحریر: سہیل وڑائچ
بشکریہ: روزنامہ جنگ
سیاست دان مداری نہیں ہوتا مگر مجمع لگانا، جھوٹی کہانیاں سنانا اور لوگوں کو اپنی داستان سے مسحور کرنا، دونوں میں قدرِ مشترک ہے۔ لڑکپن میں میرے آبائی شہر جوہر آباد میں سرگودھا سے آیا ہوا مداری’ سردار سانپوں والا‘ بہت مشہور تھا۔ اس کے کئی تماشوں میں اسے سننے اور اسکی گفتگو سے مسحور ہونے والوں میں یہ ناچیز بھی شامل تھا۔ایک دو دفعہ یہ ناچیز سبزی ،گوشت لینے بازار بھیجا گیا مگر سردار سانپوں والے کی مداری تماشے میں ایسا محو ہوا کہ وقت کا احساس ہی نہ رہا ، یہ الگ قصہ ہے کہ جب دیر سے گھر پہنچا تو خاصی مدارت ہوئی۔ مداری تماشے میں تماشائی ایسے کھوجاتے ہیں کہ چکنی چپڑی باتیں وقت کا احساس تک بھلا دیتی ہیں۔ سیاست میں بھی مداری تماشا شروع ہوجائے تو عوام وقت کے احساس سے عاری ہوکر خیالی دنیا میں کھوجاتے ہیں حالانکہ قوم کا ہر لمحہ قیمتی ہوتا ہے مداری قوم کے وقت کا ضیاع کرکے غائب ہوجاتے ہیں اور مسحور مجمع جب جادوئی گفتگو کے اثر سے باہر نکلتاہے تو تلخ حقائق پھر سے سامنے آجاتے ہیں۔ یادرکھیں طلسماتی افسانے قوموں کو افیون کی نیند سلائے رکھتے ہیں۔

مداری دیکھے برسوں گزر گئے مگر ماضی کا منظر آج بھی آنکھوں کے سامنے ہے سردار سرخ وسفید چہرے والا بارعب آدمی تھا ،سفید بال اور سفید مونچھیں اوپر سے سفید کے ٹی کا سوٹ اسے منفرد اور معتبر بناتا تھا سردار کمال کا مجمع باز تھا ڈسپلن اس قدر کہ تماشائی نہ بول سکتے تھے نہ ہل سکتے تھے، ایسا لگتا تھا کہ اس کی ہرتماشائی پر نظر ہے۔ سردار تقریر شروع کرتا تو ایسے لگتا تھا کہ مجمع بندھ گیا ہے گول دائرے میں بیٹھے چھوٹے بچوں میں کوئی دوسرے کے کان میں سرگوشی کرتا تو سردار کی گونج دار آواز آتی’’ بچہ چپ‘‘ اور بچے سمیت سارامجمع چپ سادھ لیتا۔ مجمع ہو، جلسہ ہو، کابینہ کا اجلاس ہو یا کوئی سرکاری میٹنگ، آغاز فائلیں کھولنے سے یا ایجنڈا بتانے سے ہوتا ہے۔سردار کی مداری کا آغاز سانپوں کی پٹاریاں کھولنے سے ہوتا تھا، سردار کے پاس کئی قسم کے سانپ تھے سب سے بڑا سانپ ’’شہزادہ‘‘ نام کا تھا، شہزادہ سست تھا آہستہ آہستہ پٹاری سے نکلتا، فربہ تھا اور کئی فٹ لمبا ، اسکی دہشت اسکے جثے میں تھی سردار اس سانپ کے پکڑنے کی کہانی سناتے سناتے شہزادے کو گلے میں ڈال لیتا بچوں کی آنکھوں میں خوف دیکھ کر سردار گویا ہوتا’ میرا شہزادہ کرانہ کی پہاڑیوں کا باسی تھا یہ انسانوں کا نہیں چوہوں کا شکار کرتا ہے‘۔ بچوں کی آنکھوں میں شہزادے کی دہشت ختم ہوتی اور چوہے کھانے پر ان کے چہروں پر استہزا نظر آتا تو سردار لہجہ بدل کر ایک چھوٹا سا سانپ باہر نکالتا اور بتاتا کہ یہ سانپوں میں سب سے زہریلا ہے اسے سنگ چور کہتے ہیں۔

سردار بتاتا کہ اس سنگ چور کا نام لاڈلا ہے اور اس کا ڈسا پانی بھی نہیں مانگتا۔پھر سردار اس چھوٹے سے سانپ کو ہاتھ میں پکڑ کر مجمعے کی طرف لہراتا تو مجمع ہیبت زدہ ہوجاتا۔ سردار اپنے ’’ لاڈلے‘‘ کو لیکر گول گول گھومتا اور اسکے زہر اور زہریلے پن سے اسقدر ڈراتا کہ یوں لگتا آج سانپ کے کاٹنے سے بچ نکلے تو خوش قسمت ترین ہونگے۔ لاڈلے کے بعد تیسری پٹاری کھلتی توکوبرا سانپ پھن پھیلائے باہر نکلتا ،سردار اس کے سامنے کبھی اپنا ہاتھ کرتا اور کبھی ڈنڈا،کو برا’’ ہس‘‘ کی آواز کے ساتھ بجلی کی کوند کی طرح سردار کے ہاتھ اور ڈنڈے پر کاٹنے کولپکتا۔خطرناک تو شاید سب سے زیادہ سنگ چور ہے، یہ زہریلا بھی زیادہ ہوتا ہے مگر دہشت کوبرے کی زیادہ ہوتی کیونکہ وہ پھن پھیلائے ہس کی آواز نکالتے ہوئے آگے بڑھتا تو جان نکل جاتی ، سردار کوبرے کو ’’بیٹا‘‘ کہہ کر بلاتا تھا۔ مداری تماشا عروج پر اس وقت ہوتا جب تینوں سانپ شہزادہ، لاڈلا، اور بیٹا، سردار کے گلے اور ہاتھوں میں لپٹے ہوتے اور وہ کہتا کبھی سنگ چور پر بھروسہ نہ کرنا۔یہ میرا لاڈلا ہےلیکن اسے موقع ملا تو یہ مجھے بھی کاٹ لے گا، یہ چھپ کروار کرتا ہے، یہ اس سیاستدان کی طرح ہے جوہر ایک کو کمزور،بےبس اور بے اختیار نظر آتا ہے بظاہر لگتا ہے کہ سنگ چور نے کاٹنا کہاں ہے؟ کوبرے کے پھن سے ہر کوئی ڈر جاتا ہے کوبرا منہ پھٹ سیاستدان کی طرح ہوتا ہے جو سیاست کے میدان میں گرجتا برستا ہے مگرکھڑکادَڑکا ہوتو جان بچا کر اور دم دباکر نکل جاتا ہے، سنگ چور بہت گہرا ہوتا ہے موقعے کی تلاش میں رہتا ہے اور جونہی موقع ملے خفیہ طور پر ڈنگ مارتا ہے، سنگ چور اس میٹھے اور ملنسار رشتہ دار کی طرح ہوتا ہے کہ جو مارتا توڈنک ہے مگر اسکا درد نہیں ہوتا مگر انجام خطرناک ہوتا ہے۔ سردار کہتا اردگرد دیکھو سنگ چور کون ہے؟ وہ تو نہیں جو کمزور نظر آتا ہے مگر کاٹ لے تو وہی سب سےزیادہ زہریلا ہے۔ اسکاماضی دیکھو اب تک اس نے کس کس کو میٹھے ڈنک مار کر کبھی زندگی اور کبھی سیاست وتجارت سے دیس نکالا دیا ہے۔

سردار،ہمارے علاقے میں ’’ سردار سپاں والا‘‘ کے نام سے مشہور ومعروف تھا سردار کی غزل کا مقطع بہت ہی دل چسپ ہوتا۔ مجمع سانپوں کے سحر اور انسانوں کے زہر کی کہانیوں میں زمانے کو بھول کر صرف اور صرف سردار کی طرف متوجہ ہوتا ایسے میں سردار اپنی جیب سے سرخ مومی لفافوں میں لپٹی دوشیشیاں نکالتا اور کہتا سانپ ڈنک مارے تب تریاق کی ضرورت پڑتی ہے ،انسان جو درد دیتے ہیں امراض جو دُکھ دیتے ہیں ان کا تریاق یہ شیشیاں ہیں ،پھر سردار شیشیاں لہراتا ہوا مجمع میں بتاتا کہ شوگر ہو یا بلڈ پریشر، جوڑوں میں درد ہو یا پیٹ میں مروڑ ہر ایک کا علاج اس سرخ شیشی میں موجود ہے مجمع میں پہلی دفعہ آنے والا کوئی نہ کوئی شیشی خرید لیتا مگر میرے جیسے پرانے تماشائی مقطع میںدل چسپی کھو بیٹھتے تھے اور سردار کی غزل اور بیانیے کو سانپوں اور انسانوں کی کہانیوں پر ہی ختم سمجھ لیتے تھے۔

علم نہیں سردار زندہ ہے یا نہیں اسکے سانپ کیا اب بھی انہی خوبیوں اور خامیوں کے ساتھ موجود ہیں یا نہیں ۔ چشم خیال میں آتا ہے کہ بچپن کا وہ مجمع، آج کا میدان سیاست ہے، مجمعے کو آج کا سردار سانپوں والا اپنا دلکش افسانوی بیانیہ سنارہا ہے لوگ Make Believeجیسی صورتحال میں ہیں مگر جب سردارمقطع میں وہی سرخ شیشیاں بیچنے کی بات کرتا ہے تو سحرٹوٹ جاتا ہے سردار جتنا بھی اچھا مقرر،مداری یا موٹیویشنل اسپیکر تھا، مائیک توڑتا تھا یا پٹاریاں کھولتا اور بند کرتا تھا، سانپ لہراتا تھا یا دکھاتا تھا، بار بار سرخ شیشیاں دکھائی جائیں یا ڈیفالٹ کے ٹالنے کا ذکرکیا جائے،یہ بات مجمعے پر اثر نہیں کرتی ۔ کاش سردار کی دوا بھی اتنی اثر انگیز ہوتی جتنی اسکی تقریر ہوتی تھی۔ اسی طرح حکومت سیاست اور معیشت میں بھی اتنی ہی بہتری دکھاتی جتنی سردار کے دعووں کی دلکشی تھی ….؟؟

 

Back to top button