ضمنی انتخابات تحریکِ انصاف اور حکومت کے لیے بڑا امتحان


16 اکتوبر کو قومی اسمبلی کے آٹھ اور صوبائی اسمبلی کے تین حلقوں میں ضمنی انتخابات کو عمران خان کی تحریک انصاف اور حکمران اتحاد کے لیے ایک بڑا امتحان قرار دیا جا رہا ہے۔ دونوں اطراف ان انتخابات میں کامیابی کے دعوے کر رہی ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان انتخابات کے نتائج ملکی سیاست پر اثرانداز ہوں گے۔ خیبر پختونخوا اور پنجاب میں قومی اسمبلی کی تین، تین جب کہ سندھ میں دو نشستوں پر انتخابات ہو رہے ہیں، پنجاب میں صوبائی اسمبلی کی تین نشستوں پر ضمنی انتخابات کے لیے پولنگ بھی اتوار کو ہی ہو رہی ہے۔قومی اسمبلی کی یہ نشستیں تحریکِ انصاف کے اراکینِ قومی اسمبلی کے استعفے منظور ہونے کے بعد خالی ہوئی تھیں۔

پاکستان کی انتخابی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہو رہا ہے، جب سابق وزیرِ اعظم عمران خان بیک وقت سات نشستوں سے تحریکِ انصاف کے اُمیدوار ہیں۔ اس سے قبل سابق وزیرِ اعظم نواز شریف، بینظیر بھٹو، شہباز شریف اور مخدوم جاوید ہاشمی سمیت دیگر سیاست دان بھی ایک سے زائد نشستوں سے انتخابات میں حصہ لے چکے ہیں۔بعض حلقوں میں عمران خان نے خود انتخابی جلسوں سے خطاب کیا، تاہم کچھ حلقوں میں پی ٹی آئی کے مقامی عہدے دار وں نے اپنے سربراہ کی انتخابی مہم چلائی۔
جن حلقوں میں اتوار کو پولنگ ہو رہی ہے، ان میں این اے 22 مردان، این اے 24 چارسدہ، این اے 31 پشاور، این اے 108 فیصل آباد، این اے 118 ننکانہ صاحب، این اے 237 ملیر کراچی اور این اے 239 کورنگی کراچی شامل ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے کراچی کے حلقے این اے 246 میں تحریکِ انصاف کے رُکن قومی اسمبلی شکور شاد کی درخواست پر ضمنی الیکشن کرانے کا نوٹی فکیشن معطل کر دیا تھا۔این اے 22 مردان میں عمران خان کا اصل مقابلہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مولانا قاسم اور جماعتِ اسلامی کے عبدالواسع سے ہو گا۔ یہ نشست پی ٹی آئی کے علی محمد خان کا استعفیٰ منظور ہونے پر خالی ہوئی تھی۔این اے 24 چارسدہ کی نشست پر عمران خان کے مدِ مقابل نمایاں اُمیدواروں میں عوامی نیشنل پارٹی کے ایمل ولی خان اور جماعتِ اسلامی کے مجیب الرحمان ہیں۔ یہ نشست تحریکِ انصاف کے رُکن اسمبلی فضل محمد کے استعفے کے بعد خالی ہوئی تھی۔

این اے 31 پشاور میں عمران خان کا مقابلہ اے این پی کے سینئر رہنما غلام احمد بلور سے ہو گا۔ دونوں اُمیدوار اس سے قبل 2013 کے عام انتخابات میں بھی آمنے سامنے آئے تھے، جس میں غلام احمد بلور کو شکست ہوئی تھی۔ سیاسی ماہرین اس نشست پر اس بار کانٹے کے مقابلے کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔این اے 108 فیصل آباد میں عمران خان کا مقابلہ مسلم لیگ (ن) کے اُمیدوار عابد شیر علی کے ساتھ ہو گا۔ یہ نشست تحریکِ انصاف کے رہنما فرخ حبیب کے استعفے سے خالی ہوئی تھی۔این اے 157 ملتان کی نشست پر بھی کانٹے کا مقابلہ ہے، جہاں پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما اور سابق وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کی بیٹی مہربانو قریشی کا مقابلہ حکمراں اتحاد کے مشترکہ اُمیدوار علی موسیٰ گیلانی سے ہو گا۔علی موسیٰ گیلانی سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے ہیں۔ یہ نشست تحریکِ انصاف کے زین قریشی کی جانب سے صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑنے کے باعث خالی ہوئی تھی۔ این اے 239 میں عمران خان کا مقابلہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے نیئر رضا اور تحریکِ لبیک پاکستان کے محمد یاسین سے ہو گا۔ عمران خان نے کامیابی کی صورت میں قومی اسمبلی کی رُکنیت کا حلف نہ لینے کا اعلان کر رکھا ہے۔

سیاسی مبصرین کہتے ہیں کہ ان حلقوں میں حکمراں اتحاد کے اُمیدواروں کی کامیابی سے اسے سیاسی فائدہ ہو گا اور اگر تحریکِ انصاف ان ضمنی انتخابات میں کامیابی حاصل کرتی ہے تو عمران خان اسے اپنے بیانیے کی فتح قرار دیں گے۔اس سے قبل جولائی میں صوبائی اسمبلی کی 20 نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات میں تحریکِ انصاف نے 15 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ اس کامیابی سے نہ صرف پی ٹی آئی نے پنجاب حکومت بنالی تھی، بلکہ عمران خان نے اسے اپنے بیانیے کی فتح قرار دیا تھا۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ تحریکِ انصاف اگر یہ نشستیں جیت بھی جاتی ہے تو پارلیمان میں اس کی نشستوں میں اضافہ نہیں ہو گا۔ کیوں کہ یہ نشستیں تحریکِ انصاف کی ہی تھیں۔ لیکن اگر حکمراں اتحاد کا اُمیدوار کامیاب ہوتا ہے، تو قومی اسمبلی میں ان کی عددی اکثریت میں اضافہ ہو گا۔ انکا کہنا تھا کہ اگر عمران خان یہ ضمنی الیکشن جیت بھی جاتے ہیں تو پھر بھی اُن کا اعلان کردہ لانگ مارچ کامیاب نہیں ہو گا، کیوں کہ حکومت نے اسے روکنے کے لیے پوری تیاری کر رکھی ہے۔سیاسی ماہرین کے مطابق کامیابی کی صورت میں عمران خان کو حکومت کے خلاف اعلان کردہ لانگ مارچ میں کارکنوں کو متحرک کرنے میں مدد ملے گی جب کہ ناکامی صورت میں ان کے بیانیے کو بڑا دھچکا لگے گا۔

Back to top button