عمران اور علی وزیر کے لیے انصاف کا دوہرا معیار کیوں؟

پاکستان میں طاقتور اور کمزور کے لیے انصاف کے دوہرے معیار کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان روز منہ بھر کر فوج کو گالیاں دینے کے باوجود آزاد ہیں جب کہ پشتون تحفظ موومنٹ کے رکن قومی اسمبلی علی وزیر فوج پر تنقید کے جرم میں اپنے خلاف دائر تمام مقدمات میں ضمانت ہو جانے کے باوجود کراچی کی سینٹرل جیل میں قید ہیں۔ علی وزیر کے خلاف دائر چار مقدمات میں سے آخری مقدمے میں کراچی کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے ان کی ضمانت 14 ستمبر کو منظور کرلی تھی۔ علی وزیر کے وکیل قادر خان ایڈووکیٹ کے مطابق کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ تمام کیسوں میں ضمانت ملنے کے باجود ان کو کیوں رہا نہیں کیا جا رہا۔ انکے مطابق ہمیں یہ بتایا گیا تھا کہ علی وزیر کے خلاف میران شاہ تھانے میں دائر ایک کیس پر وزیرستان کی عدالت نے گرفتاری وارنٹ جاری کیے ہیں اس لیے ان کو کراچی کی جیل سے رہائی کے بعد میران شاہ پولیس کے حوالے کیا جائے گا۔ ہم نے وزیرستان کی عدالت سے معلوم کیا تو انہوں نے انکار کر دیا کہ ان کی جانب سے علی وزیر کی گرفتاری کا کوئی وارنٹ جاری نہیں ہوا ہے۔
اس سلسلے میں سندھ حکومت کا موقف جاننے کے لیے وزیراعلیٰ ہاؤس رابطہ کیا گیا تو وزیراعلیٰ سندھ کے ترجمان عبدالرشید چنا نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’علی وزیر کو تمام کیسوں میں ضمانتوں کے باوجود سندھ حکومت نے جیل میں نہیں رکھا ہے، بلکہ میران شاہ پولیس کی درخواست پر رکھا ہے تاکہ وہ آئیں تو ان کے حوالے کیا جائے، وہاں پر ان کے خلاف ایک مقدمہ دائر ہے۔
جنوبی وزیرستان سے رکن قومی اسمبلی علی وزیر پر چھ دسمبر 2020 کو کراچی منعقد ہونے والی پشتون تحفظ موومنٹ کی ریلی میں ریاستی اداروں کے سیاسی کردار کے خلاف اشتعال انگیز تقریر کرنے کے الزام میں مقدمہ دائر کیا گیا تھا۔ علی وزیر کو 16 دسمبر 2020 کو سندھ پولیس کی درخواست پر پشاور میں گورنر ہاؤس کے سامنے سے گرفتار کیا گیا تھا جہاں وہ آرمی پبلک سکول کے سانحے کے متاثرین کی برسی کے موقع پر علامتی احتجاجی دھرنے میں شرکت کر رہے تھے۔ بعد میں انہیں بذریعہ ہوائی جہاز کراچی لایا گیا اور ایئرپورٹ پر سندھ پولیس کے اہلکاروں کے حوالے کیا گیا۔
علی وزیر کے خلاف کراچی میں دائر چار مقدمات میں سے ایک کیس میں سپریم کورٹ، دوسرے کیس میں سندھ ہائی کورٹ، تیسرے کیس میں ٹرائل کورٹ اور چوتھے اور آخری کیس میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے 14 ستمبر کو ان کی ضمانت منظور کر لی تھی۔ تب علی وزیر پیٹ کی تکلیف کے باعث کراچی جناح ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ صحت یاب ہونے کے بعد انہیں دوبارہ کراچی کی سینٹرل جیل منتقل کیا گیا جہاں وہ تاحال موجود ہیں۔
پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین نے اپنے بیان میں تمام کیسوں میں ضمانت کے باوجود علی وزیر کی رہائی نہ ہونے کو ’ظلم کی انتہا‘ قرار دیتے ہوئے کہا: ’علی وزیر سندھ حکومت کے ماتحت کراچی جیل میں مکمل حبسِ بے جا میں بند ہے۔‘
ٹوئٹر پر اپنے بیان میں منظور پشتین نے لکھا: ’علی وزیر پر سندھ میں جتنے بھی مقدمات تھے، سب میں ضمانت ہو گئی، ضمانتی مچلکے جمع کیے اور رہائی کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے ہونے کے باوجود علی کو رِہا نہیں کیا گیا۔ عدالتی ضمانتوں کے باوجود علی وزیر اس وقت سندھ حکومت کے ماتحت کراچی جیل میں مکمل حبسِ بے جا میں بند ہیں۔ انکےمطابق ہمیں بتایا گیا کہ علی وزیر میران شاہ پولیس کو ایک ایف آئی آر میں مطلوب ہیں۔ ظلم کی انتہا ہے کہ علی وزیر کو نہ تو میران شاہ پولیس کے حوالے کیا جاتا ہے اور نہ ان کو کراچی جیل سے رہا کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ علی وزیر کے ساتھ انصاف کا دوہرا معیار بنایا جارہا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان میں طاقتور اور کمزور کے لیے مختلف قوانین ہیں۔
