عمران کی رہائی کے لیے گولڈ سمتھ خاندان کی کوششیں تیز

عمران خان کی پہلی اہلیہ جمائمہ گولڈ سمتھ اور ان کے بھائی برطانوی سیاست دان لارڈ زیک گولڈ سمتھ نے بین الاقوامی سطح پر عمران کی رہائی کے لیے کوششیں تیز تر کر دی ہیں، تاہم تمام سیاسی و سفارتی تگ و دو کے باوجود فی الحال کوئی حوصلہ افزا نتیجہ سامنے نہیں آ رہا۔
یاد رہے کہ جمائمہ نے عمران کی رہائی کے لیے کوششوں کا اغاز کرتے ہوئے حال ہی میں سکائی سپورٹس والوں سے پاکستان اور انگلینڈ کے چلتے ٹیسٹ میچ کے دوران اپنے دونوں بیٹوں سلمان اور سلیمان کا انٹرویو کروایا تھا۔ عمران کے دونوں بیٹوں نے اس انٹرویو میں پاکستانی فیصلہ سازوں پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ان کے والد کو جیل میں ہی مار دینا چاہتے ہیں۔ حکومت پاکستان نے اس انٹرویو پر سخت احتجاج کیا تھا۔ اگلے مرحلے میں برطانیہ کے سابق وزیر، ہاؤس آف لارڈز کے رکن لارڈ زیک گولڈ سمتھ نے کامن ویلتھ کے سیکریٹری جنرل سے عمران کی رہائی کے لیے حکومتِ پاکستان سے بات کرنے اور تنظیم کے انسانی حقوق کے چارٹر کے تحت اپنا کردار ادا کرنے کی اپیل کی تھی۔ تاہم دولتِ مشترکہ کی جانب سے ملنے والے جواب نے انہیں شدید مایوس کیا ہے۔
زیک گولڈ اسمتھ نے کامن ویلتھ کے ردعمل کو ’شرمناک‘ قرار دیتے ہوئے شکوہ کیا کہ سیکریٹری جنرل نے مہذب انداز میں یہ بتا دیا ہے کہ وہ اس معاملے میں کچھ نہیں کر سکتے۔
زیک گولڈ سمتھ کے مطابق انہوں نے دولتِ مشترکہ کے سیکریٹری جنرل سے اپیل کی تھی کہ وہ عمران کے معاملے پر حکومتِ پاکستان سے بات کریں۔ ان کا مؤقف تھا کہ دولتِ مشترکہ کے اپنے انسانی حقوق کے اصول اور چارٹر ایسے معاملات میں تنظیم کو اپنا کردار ادا کرنے کا تقاضا کرتے ہیں۔ تاہم دولتِ مشترکہ کی جانب سے ملنے والے جواب نے برطانوی سیاست دان کو مزید مایوس کر دیا ہے۔
زیک گولڈ سمتھ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری اپنے بیان میں تنظیم کے ردعمل پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں جس جواب کا سامنا کرنا پڑا، اس کا بنیادی مفہوم یہی تھا کہ دولتِ مشترکہ اس معاملے میں کوئی عملی قدم نہیں اٹھائے گی۔ زیک گولڈ سمتھ کی جانب سے دولتِ مشترکہ سے مداخلت کی اپیل ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عمران خان کی گرفتاری، مقدمات اور سیاسی مستقبل کا معاملہ پاکستان کی داخلی سیاست کے ساتھ ساتھ بیرونِ ملک بھی بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ عمران خان کے حامی مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ ان کے خلاف مقدمات اور قانونی کارروائی سیاسی نوعیت کی ہے، جبکہ حکومت اور متعلقہ ریاستی ادارے ان الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔
اس تنازع میں بین الاقوامی شخصیات اور اداروں کی جانب سے سامنے آنے والے بیانات اس معاملے کو مزید عالمی توجہ فراہم کرتے ہیں۔ زیک گولڈ سمتھ کا حالیہ مؤقف بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس میں انہوں نے دولتِ مشترکہ کے انسانی حقوق کے چارٹر کا حوالہ دیتے ہوئے تنظیم سے عملی کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔
دولتِ مشترکہ کا ردعمل یہ سوال بھی اٹھاتا ہے کہ ایسے معاملات میں عالمی اور بین الاقوامی تنظیموں کی عملی حدود کیا ہیں۔ کسی رکن ملک کے اندر جاری سیاسی یا عدالتی معاملے میں براہِ راست مداخلت کرنا آسان نہیں ہوتا، خصوصاً جب معاملہ ملکی عدالتوں اور قانونی نظام سے متعلق ہو۔ اسی لیے بین الاقوامی تنظیمیں اکثر تشویش، سفارتی رابطے یا اصولی مؤقف تک محدود رہتی ہیں۔
تاہم زیک گولڈ سمتھ نے اس طرزِ عمل کو ناکافی قرار دیا ہے۔ ان کی ناراضی کی بنیادی وجہ یہی دکھائی دیتی ہے کہ انہوں نے دولتِ مشترکہ سے محض ایک رسمی ردعمل کے بجائے عمران خان کے معاملے میں عملی سفارتی کردار کی توقع کی تھی۔ یہ معاملہ اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ دولتِ مشترکہ کے انسانی حقوق کے اصول اور رکن ممالک میں جمہوری اقدار اس تنظیم کے بنیادی حوالوں میں شامل ہیں۔ چنانچہ زیک گولڈ سمتھ کا سوال یہ ہے کہ اگر انسانی حقوق اور جمہوری اصولوں کا حوالہ تنظیم کے بنیادی ڈھانچے کا حصہ ہے تو پھر کسی رکن ملک میں پیدا ہونے والے ایسے متنازع سیاسی اور قانونی معاملے پر تنظیم کی ذمہ داری کہاں سے شروع اور کہاں ختم ہوتی ہے۔
دوسری جانب دولتِ مشترکہ کے ردعمل سے یہ تاثر سامنے آتا ہے کہ تنظیم عمران خان کے معاملے میں براہِ راست مداخلت سے گریزاں ہے کیونکہ یہ ایک سیاسی معاملہ ہے اور بانی تحریک انصاف ویسے بھی ایک سزا یافتہ مجرم ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان کی رہائی کے لیے عالمی سطح سے اٹھنے والی یہ آوازیں کس حد تک آگے بڑھتی ہیں اور کیا دولتِ مشترکہ یا کامن ویلتھ مستقبل میں اس معاملے پر کوئی قدم اٹھاتی ہے، یا یہ معاملہ بیانات تک ہی محدود رہتا ہے۔ فی الحال زیک گولڈ سمتھ اور جمائمہ کی جانب سے مسلسل کوششوں کے باوجود دولتِ مشترکہ کے ردعمل نے بانی تحریک انصاف کی رہائی کی راہ میں درپیش بین الاقوامی چیلنجز کو مزید واضح کر دیا ہے۔
