کیا یوتھیوں کے انقلاب کا راستہ پولیس نے روک رکھا ہے؟

ملک میں خونی انقلاب کب کا آ چکا ہوتا اور عمران خان بھی کب کے جیل سے باہر آ چکے ہوتے، مگر اصل مسئلہ یہ ہے کہ لٹھ بردار پولیس والے لاٹھی چارج سے انقلاب کا راستہ روک دیتے ہیں۔ کم از کم سوشل میڈیا پر عمران خان کے ہمدردوں کے طرزِ فکر کو دیکھا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انقلاب ہر وقت دہلیز پر کھڑا ہے، بس لٹھ بردار پولیس والوں کے ہٹنے کی دیر ہے۔
تحریک انصاف کے ناقدین کا کہنا ہے کہ یوتھہوں کو ہر لمحہ انقلاب کی امید لگی رہتی ہے لیکن اس انقلاب میں حصہ ڈالنے کے لیے وہ فیس بک پیجز سے آگے نہیں بڑھتے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی والے انقلاب کے لیے خود کوشش کرنے کی بجائے دوسری جماعتوں کی جانب دیکھتے رہتے ہیں۔ کبھی انہیں گوادر میں جماعت اسلامی کے ننھے منے اجتماع سے انقلاب کی امید لگ جاتی ہے تو کبھی انہیں انگلینڈ میں کرکٹ ٹیم کی شکست سے لگتا ہے کہ حکومت کا وقت پورا ہو گیا ہے اور صبح تک انقلاب آ جائے گا۔ حد تو یہ ہے کہ عمران خان کو طبی معائنے کے لیے پمز ہسپتال لے جایا جائے تو بھی سوشل میڈیا پر یہ اعلان کر دیا جاتا ہے کہ ’انقلاب آج رات ہی آ جائے گا جسکا راستہ کوئی نہیں روک پائے گا۔
تحریک انصاف کے ناقدین کہتے ہیں کہ عمران خان کے چند بھگوڑے جان نثار ایسے بھی ہیں جو بیرون ملک فرار ہونے کے بعد روزانہ سوشل میڈیا پر بیٹھ کر تیزی سے آنے والے انقلاب کی کہانیاں سناتے ییں۔ ان لوگوں میں سر فہرست شہباز گل ہیں جنہوں نے بھری عدالت میں شرماتے ہوئے سر جھکا کر اعتراف کیا تھا کہ بھائی لوگوں کی حراست میں ان کی آبرو ریزی کی گئی۔ موصوف امریکہ میں بیٹھ کر سوشل میڈیا پر اب بھی یہ دعوی کرتے ہیں کہ کسی بھی رات انقلاب آ سکتا ہے لہذا جاگتے رہیے گا۔ گویا انقلاب نہ ہوا خواب ہو گیا جو کسی بھی وقت آ سکتا ہے لیکن اسکے لیے سوئے رہنا ضروری ہے۔
خان صاحب کی انقلابی جماعت کے ناقدین کے مطابق مسئلہ یہ ہے کہ انقلاب کے منتظرین خود بھی اس کا انتظار عموماً فیس بک اور دوسرے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بیٹھ کر کرتے ہیں۔ جیسے ہی کسی شہر میں معمول سے بڑا اجتماع دکھائی دیتا ہے، اسے ایک بڑے عوامی انقلاب کی علامت قرار دے دیا جاتا ہے جس کا انتظار کئی برس سے کیا جا رہا ہے۔ اسی حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک چکنے یوتھیے کی ویڈیو بھی وائرل ہے جس میں موصوف پیٹھ پر ایک ڈنڈا کھانے کے بعد گلہ کرتے ہیں کہ اگر پولیس والے لوگوں کا راستہ روکیں گے تو پاکستان میں انقلاب کیسے آئے گا؟
ناقدین کے مطابق عمران کی رہائی کا خواب دیکھنے والے یوتھیے سمجھتے ہیں کہ انقلاب اچانک اٹھنے والے عوامی طوفان کا نام ہے، جس میں مظاہرین پارلیمنٹ یا کسی سرکاری عمارت پر قبضہ کر لیں، تو حکمران اقتدار چھوڑ کر بھاگ جائیں گے اور مرشد کے ساتھی اقتدار سنبھال لیں گے۔ لیکن ایسی صورت حال کو انقلاب کہنا درست نہیں، کیونکہ محض حکومت کی تبدیلی یا اقتدار کی منتقلی بنیادی سماجی و سیاسی انقلاب نہیں ہوتی۔
سچ تو یہ ہے کہ حقیقی انقلاب محض حکمرانوں کے چہرے تبدیل نہیں کرتا بلکہ اقتدار کے بارے میں معاشرے کے تصورات، ریاستی اداروں کی ترتیب، سیاسی اختیار کی تقسیم اور معاشرے کے باہمی تعلق میں بنیادی تبدیلی پیدا کرتا ہے۔ کسی بھی معاشرے میں انقلاب کے لیے صرف عوامی بے چینی کافی نہیں ہوتی۔ غربت، مہنگائی، ناانصافی، طبقاتی تفریق، سیاسی جبر اور حکمرانوں سے ناراضی اگرچہ انقلابی کیفیت کے لیے ضروری محرکات تو ہو سکتے ہیں، مگر ان میں سے کوئی ایک عنصر بذاتِ خود انقلاب پیدا نہیں کرتا۔ دنیا بھر کی بڑی انقلابی تبدیلیوں کا جائزہ لیا جائے تو ان کے پیچھے گہرا سیاسی، سماجی اور ریاستی بحران موجود تھا۔
یوتھیوں کی جانب سے انقلاب کے لیے پہلا مرحلہ عوامی بے چینی کو قرار دیا جاتا ہے، لیکن محرومی اور بے چینی انقلاب کی ایک شرط تو ہوسکتی ہے، لیکن لازمی وجہ نہیں۔ عوام اگر مشکلات کا شکار ہوں تو بھی اگر ریاستی نظام کے بارے میں اجتماعی سوال ہی پیدا نہ ہوا ہو تو محض مہنگائی یا سیاسی ناراضی انقلاب نہیں لا سکتی۔ انقلاب کا دوسرا مرحلہ انفرادی شکایت کا اجتماعی شکایت میں تبدیل ہونا ہے۔ یعنی مسئلہ صرف ایک فرد کی محرومی نہ رہے بلکہ معاشرے کا ایک بڑا حصہ اسے اجتماعی محرومی تصور کرنے لگے۔ اس مرحلے پر عوامی سوچ محض کسی ایک حکمران کی نااہلی یا کرپشن تک محدود نہیں رہتی بلکہ سوال یہ کھڑا ہو جاتا ہے کہ کیا پورا نظام ہی ایسی خرابیوں کو جنم دے رہا ہے؟
ویسے بھی نظریاتی طور پر دیوالیہ پن کا شکار قیادت کسی انقلاب کا باعث کیوں کر بن سکتی ہے۔ تیسرا اور فیصلہ کن مرحلہ تب آتا ہے جب نظام اپنی اخلاقی اور سیاسی حیثیت کھونے لگتا ہے اور لوگ یہ سوال اٹھانا شروع کر دیتے ہیں کہ آخر انہیں اس نظام اور اس سے فائدہ اٹھانے والوں کا حکم کیوں ماننا چاہیے۔ جب ریاستی اختیار کا قانونی وجود تو برقرار رہے مگر اس کا اخلاقی جواز معاشرے کے بڑے حصے کی نظر میں ختم ہوجائے تو یہ کسی بھی ریاست کے لیے خطرے کی بڑی علامت ہوتی ہے۔
تحریک انصاف کے ناقدین کے مطابق پاکستان میں فی الحال وہ زمین ہی تیار نہیں ہے جہاں انقلاب کی فصل کاشت ہو سکے۔ ویسے بھی شخصیت پرستی انتشار کا باعث تو ہو سکتی ہے لیکن انقلاب نہیں لا سکتی۔ عوام حکومت سے ناراض ضرور ہو سکتے ہیں، اس کی کارکردگی پر سوال بھی اٹھاتے ہیں لیکن مجموعی طور پر معاشرے میں ریاستی اور سیاسی نظام پر عدم اعتماد کی صورت حال نظر نہیں آتی۔ اسیلیے محض احتجاج، جلوس یا پولیس سے تصادم کو انقلاب قرار دینا حقیقت سے زیادہ جذباتی خواہش معلوم ہوتی ہے۔
انقلاب کا چوتھا مرحلہ ایک نظریاتی اساس کا تقاضا کرتا ہے جس کی بنیاد پر بحرانی کیفیت کا اجتماعی فائدہ اٹھایا جا سکے۔ جب نظام اپنی اخلاقی حیثیت کھونے لگے تو طبقاتی کشمکش، سیاسی عدم اعتماد، معاشی بحران، ریاستی اداروں کی کمزوری، حکمران طبقے کی اندرونی تقسیم، عوامی غیض و غضب اور متبادل سیاسی تصور ایک دوسرے سے جڑ کر ایسا ماحول بنا دیتے ہیں جسے ایک معمولی واقعہ بھی بھڑکا سکتا ہے۔
لیکن یاد رہے کہ کوئی واقعہ انقلاب پیدا نہیں کرتا بلکہ پہلے سے تیار انقلابی ماحول کو متحرک کرتا ہے۔ جنگ، سیاسی قتل، انتخابی دھاندلی، معاشی بحران یا کوئی بڑی ریاستی غلطی ایک چنگاری کا کردار تو ادا کر سکتی ہے، لیکن اگر سماج میں پہلے سے انقلابی ’لاوا‘ موجود نہ ہو تو کوئی ایک واقعہ انقلاب برپا نہیں کر سکتا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بڑا مسئلہ یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کے کارکن عموماً اپنے اپنے قائد کو نجات دہندہ سمجھتے ہیں۔ ہر جماعت کے حامی کا بنیادی خواب یہ ہوتا ہے کہ اگر اس کا لیڈر اقتدار میں آ جائے تو ملک کے تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔ یہ رویہ بظاہر تو انقلابی دکھائی دے سکتا ہے لیکن حقیقت میں انقلاب کے تصور کی نفی کرتا ہے، کیونکہ اس میں نظام تبدیل کرنے کے بجائے اسی نظام پر اپنے پسندیدہ لیڈر کے ذریعے قبضہ حاصل کرنے کی خواہش زیادہ نمایاں ہوتی ہے۔ حقیقی انقلابی کا سوال یہ ہوتا ہے کہ ’’نظام کیسے بدلے گا‘‘ جبکہ ہمارے یوتھیے یہ مطالبہ کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ ’’نظام کو بدلنے کے لیے میرے لیڈر کو گیٹ نمبر چار سے اقتدار میں لے آؤ‘‘۔ اس لیے یوتھیوں کی انقلاب کی خواہش دراصل شخصی اقتدار کے حصول کی جنگ کے سوا کچھ بھی نہیں۔
