پاک فوج میں کونسا جرنیل آنے اور کون سا جانے والا ہے؟

حالیہ آئینی اور ادارہ جاتی تبدیلیوں کے بعد پاک فوج سمیت تینوں مسلح افواج میں اعلیٰ سطحی ترقیوں، تقرریوں اور ریٹائرمنٹس کا آئندہ مرحلہ شروع ہونے سے پہلے ہی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ دفاعی حلقوں میں اس وقت سب سے زیادہ توجہ اس سوال پر مرکوز ہے کہ تھری سٹار لیفٹیننٹ جنرلز کی ممکنہ ریٹائرمنٹس کے نتیجے میں خالی اسامیوں پر کن فوجی افسران کو ترقی دی جاتی ہے، کن افسران کو توسیع ملتی ہے اور کور کمانڈز اور دیگر اہم عسکری عہدوں پر کیا ردوبدل کیا جاتا ہے۔
یاد ریے کہ حالیہ عرصے میں اعلیٰ عسکری ڈھانچے میں ایک اہم تقرری پہلے ہی عمل میں آ چکی ہے۔ سابق چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل سید عامر رضا کو 24 جولائی 2026 کو فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ ارھارٹی کا پہلا کمانڈر مقرر کیا گیا تھا۔ جنرل عامر رضا نے 27 جولائی کو اپنے نئے عہدے کا چارج سنبھال لیا۔
ان کی تقرری کی سفارش چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کی تھی۔ جنرل عامر رضا کی فور سٹار ترقی کے بعد اب توجہ چیف آف جنرل سٹاف کی خالی ہونے والی پوسٹ اور ان کے بعد تھری سٹار لیول پر ہونے والی ممکنہ ترقیوں اور تقرریوں پر مرکوز ہے۔
چونکہ چیف آف جنرل سٹاف پاک فوج کے اہم ترین سٹاف عہدوں میں شمار ہوتا ہے، اس لیے اس عہدے پر اگلی تقرری کو بھی اعلیٰ عسکری کمان کے مستقبل کے انتظامی ڈھانچے کے حوالے سے اہم سمجھا جا رہا ہے۔
دفاعی حلقوں کے مطابق متعدد لیفٹیننٹ جنرلز کی چار سالہ مدت مکمل ہونے کے قریب آنے کے باعث آئندہ چند ہفتوں میں اعلیٰ فوجی قیادت میں تبدیلیوں کا قوی امکان ہے۔ ان تبدیلیوں میں ریٹائرمنٹ، ممکنہ توسیع، نئے تھری سٹار افسران کی ترقی اور کور کمانڈز میں ردوبدل شامل ہو سکتا ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ آئینی تبدیلیوں کے بعد اس پورے عمل کی اہمیت یہ ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اب صرف چیف آف آرمی سٹاف نہیں رہے بلکہ چیف آف ڈیفنس فورسز کی حیثیت سے بھی تینوں مسلح افواج کے اعلیٰ دفاعی نظام کا مرکز بن چکے ہیں۔ اس نئے انتظام کے تحت پاک فوج، پاکستان نیوی اور پاکستان ایئر فورس کی اعلیٰ سطحی قیادت سے متعلق فیصلوں میں چیف آف ڈیفنس فورسز کا کردار ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ چنانچہ آئندہ ہونے والی اہم عسکری ترقیوں، تقرریوں، کمانڈ تبدیلیوں اور ریٹائرمنٹس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سفارشات اور رائے کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہونے کا امکان ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اس نئے کمانڈ اینڈ کنٹرول سٹرکچر میں سب سے اہم تبدیلی یہ ہے کہ بری، بحری اور فضائی افواج کے ٹاپ لیول دفاعی معاملات میں ہم آہنگی اور مشترکہ منصوبہ بندی کے لیے ایک ذیادہ موئثر سنٹرل کمانڈ سسٹم تشکیل دیا گیا ہے۔ اس تناظر میں مستقبل کی اہم عسکری تقرریاں محض متعلقہ سروس کے داخلی فیصلے نہیں رہیں گی بلکہ مشترکہ دفاعی کمان کے وسیع تر تناظر میں بھی دیکھی جائیں گی۔
جنرل عامر رضا کی تقرری اس نئے نظام کی پہلی بڑی عملی مثال بھی قرار دی جا رہی ہے۔ حکومت نے انہیں فور سٹار جنرل بنا کر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کا پہلا کمانڈر مقرر کیا یے، یہ نیا عہدہ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد تشکیل دیا گیا۔ اس عہدے پر تقرری وزیراعظم، چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز کی سفارش پر کرتے ہیں جو کہ جنرل عاصم منیر ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ جنرل عامر رضا جنرل فیلڈ مارشل عاصم منیر کے سب سے قابل اعتماد ساتھی ہیں۔
جنرل عامر رضا کے فور سٹار جرنیل بننے کے بعد اعلیٰ فوجی کمان میں اگلا بڑا مرحلہ تھری سٹار افسران کی ترقیوں اور ریٹائرمنٹس کا ہے۔ اگر متعدد لیفٹیننٹ جنرلز اپنی مدت مکمل ہونے پر ریٹائر ہوتے ہیں تو ان کی3 جگہ میجر جنرلز کو ترقی دے کر تین ستارہ عہدوں پر لایا جائے گا، جس کے نتیجے میں فوج کی سینیارٹی اور مستقبل کی کمانڈ لائن میں بھی تبدیلی آئے گی۔ اس مرحلے میں دیکھنا ہو گا کہ موجودہ تھری سٹار افسران میں سے کسی کو توسیع دی جاتی ہے یا نہیں۔ ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک کی توسیعی مدت پہلے ہی ایک مثال بن چکی ہے، اس لیے دفاعی حلقوں میں یہ امکان زیرِ بحث ہے کہ مخصوص اہم عہدوں پر موجود بعض دیگر افسران کو بھی برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ تاہم کسی مخصوص افسر کی توسیع کا فیصلہ سرکاری اعلان سے قبل حتمی طور پر بیان نہیں کیا جا سکتا۔
یوں آنے والے ہفتے پاک فوج کے لیے محض معمول کی پوسٹنگز اور ریٹائرمنٹس کا دور نہیں بلکہ اعلیٰ عسکری کمان کے نئے ڈھانچے کے عملی استحکام کا مرحلہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ جنرل عامر رضا کی فور سٹار ترقی اور نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کی تشکیل کے بعد اب اصل توجہ اس بات پر ہے کہ تھری سٹار سطح پر ہونے والی اگلی تبدیلیاں مستقبل کی فوجی سینیارٹی، کور کمانڈز اور اعلیٰ عسکری قیادت کی تشکیل کو کس حد تک متاثر کرتی ہیں۔
مجموعی طور پر موجودہ صورتحال میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اعلیٰ دفاعی کمان کا مرکز ہیں جبکہ جنرل عامر رضا کی فور سٹار تقرری نے نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کے نئے ڈھانچے کو عملی شکل دے دی ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ کی فوجی ترقیوں، تقرریوں اور ریٹائرمنٹس کا مرحلہ اس نئے عسکری نظام کی سمت اور طاقت کے توازن کو مزید واضح کرے گا۔
