عمران خان کو علاج کی آڑ میں لندن بھیجنے کی تجویز

تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ نواز شریف کی طرح عمران خان کو بھی جیل سے رہائی دے کر لندن بھجوانے کی تجویز زیر غور ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ حال ہی میں عدالتی حکم پر اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کے دوران ان کی بہنوں نے اس تجویز کے حوالے سے مشاورت کی ہے۔ عمران کی مجوزہ رہائی اور لندن روانگی کا فارمولا کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر ڈسکس کیا جا رہا ہے۔

تحریک انصاف کے ایک سینیئر رکن قومی اسمبلی کے مطابق رہائی اور بیرون ملک روانگی کے عوض عمران خان کو اپنا فوج مخالف بیانیہ ترک کرنا ہوگا اور وہ سیاسی سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہوں گے ۔ یاد رہے کہ پہلے جنرل مشرف کے دور حکومت میں اور بعد ازاں عمران خان کے دور اقتدار میں نواز شریف کو جیل سے رہا کر کے بیرون ملک روانہ کیا گیا تھا جس کے بدلے میں انہوں نے سیاسی سرگرمیاں ترک کر دیں اور مکمل خاموشی اختیار کیے رکھی۔

تاہم حکومتی ذرائع کے مطابق اصل فیصلہ ساز اسٹیبلشمنٹ کو یہ یقین نہیں کہ بیرون ملک بھجوائے جانے کے بعد عمران خان ڈیل پر عمل کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کسی تگڑے بین الاقوامی ضامن کے بغیر عمران خان کو بیرون ملک بھیجنا ممکن نہیں ہوگا۔ اسی لیے عمران کی پہلی اہلیہ جمائمہ گولڈ سمتھ نے اپنے سابقہ شوہر کی رہائی کے لیے برطانوی حکومت کو ضامن بنانے کی کوششوں کا اغاز کر دیا ہے۔

تاہم دستیاب اطلاعات کے مطابق یہ تجویز ابھی ڈسکس ہو رہی ہے اور کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچی۔ معتبر انگریزی اخبار ڈان کی 2 ستمبر کی رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کے ایک سینئر رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان کی ممکنہ رہائی اور برطانیہ منتقلی کے حوالے سے یہ تجویز زیرِبحث ہے کہ سابق وزیراعظم کو بیرونِ ملک جانے کی اجازت ملنے کی صورت میں وہ سیاسی بیانات دینے سے گریز کریں گے۔ ذرائع کے مطابق عمران خان کی بیرونِ ملک منتقلی کے لیے کسی بین الاقوامی ضمانت یا گارنٹی کا معاملہ بھی زیرِغور ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس سلسلے میں عمران خان کی سابق اہلیہ جمائما گولڈ سمتھ، ان کے صاحبزادوں اور برطانوی حکومت کے ذریعے ایسی ضمانت حاصل کرنے کی کوششوں کا دعویٰ سامنے آیا ہے کہ اگر عمران خان کو برطانیہ منتقل کیا جائے تو وہ وہاں سیاسی بیان بازی نہیں کریں گے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ معاملے کو اس وقت کسی حتمی ڈیل کے طور پر دیکھنا درست نہیں ہو گا۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عمران کے خاندان اور پارٹی کی جانب سے ان کی جیل سے ہسپتال منتقلی کے لیے مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے یکم ستمبر کو عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تنہائی میں رکھنے سے روکنے، اہل خانہ سے ملاقاتوں، اخبارات و کتابوں کی فراہمی اور دیگر سہولیات کے حوالے سے احکامات جاری کیے تھے۔
اس سے پہلے 18 اگست کو سپریم کورٹ نے عمران خان کو طبی معائنے کے لیے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے ان کے اہل خانہ سے ہفتہ وار ملاقاتوں اور صاحبزادوں سے ہفتے میں دو مرتبہ فون پر بات کرانے کی ہدایت بھی کی تھی۔ تاہم عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان نے بعد ازاں عدالتی احکامات پر عمل نہ ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے توہینِ عدالت کی درخواست دائر کی، جس کی سماعت اب 16 ستمبر کو مقرر ہے۔

تازہ ترین صورتحال میں عمران خان کی بہنوں کو ایک مرتبہ پھر اڈیالہ جیل میں ان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ ڈان کے مطابق تینوں بہنیں 2 بجے سے ساڑھے 6 بجے تک جیل کے باہر موجود رہیں لیکن ملاقات نہ ہوسکی۔ پی ٹی آئی نے اسے اعلیٰ عدالتوں کے احکامات کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ اسی رپورٹ میں ایک سینئر پارٹی رہنما نے کہا کہ عمران خان نے واضح کیا ہے کہ ہسپتال منتقل کیے جانے کے باوجود 27 ستمبر کا لانگ مارچ منسوخ نہیں کیا جائے گا۔ انکے مطابق 27 ستمبر کا لانگ مارچ اب پی ٹی آئی کی سیاسی حکمت عملی کا مرکزی نکتہ بن چکا ہے۔

خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کو مارچ کی بھرپور تیاریوں کی ہدایت کی ہے اور اسے عمران خان کی رہائی کے لیے فیصلہ کن سیاسی اقدام قرار دیا ہے۔ پارٹی کی جانب سے ملک بھر میں تنظیمی سرگرمیوں اور عوامی رابطہ مہم شروع کرنے کی ہدایات بھی دی گئی ہیں۔ یوں ایک طرف عمران خان کے خاندان کی جانب سے طبی سہولتوں اور ملاقاتوں کے لیے قانونی جنگ جاری ہے، دوسری طرف پی ٹی آئی سڑکوں پر سیاسی دباؤ بڑھانے کی تیاری کر رہی ہے اور تیسری طرف عمران خان کی ممکنہ بیرونِ ملک بھجوائے جانے کی ڈیل کے حوالے سے دعوے سامنے آ رہے ہیں۔ یہی تضاد اس سوال کو اہم بناتا ہے کہ کیا پسِ پردہ کسی سیاسی مفاہمت کے امکانات تلاش کیے جا رہے ہیں یا یہ محض دباؤ بڑھانے کے لیے مختلف حلقوں کی جانب سے پیش کیے جانے والے فارمولے ہیں۔

اس سارے معاملے میں جمائما گولڈ سمتھ کا کردار بھی ایک مرتبہ پھر زیرِبحث ہے۔ حالیہ دنوں میں عمران کے صاحبزادوں کی جانب سے اپنے والد کی صحت پر تشویش کا اظہار عالمی سطح پر نمایاں ہوا، جب ان کا انٹرویو لارڈز میں پاکستان اور انگلینڈ کے دوسرے ٹیسٹ کے دوران سکائی سپورٹس پر نشر کیا گیا۔ پاکستانی کرکٹ بورڈ نے اس انٹرویو پر سکائی سپورٹس سے باضابطہ احتجاج کیا۔ اس انٹرویو میں عمران خان کے بیٹوں نے اپنے والد کی صحت، خصوصاً ان کی بینائی کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا تھا۔ اس کے بعد یہ معاملہ محض پاکستانی سیاست تک محدود نہیں رہا بلکہ عالمی کرکٹ اور بین الاقوامی میڈیا میں بھی زیرِبحث آیا۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی نے اس صورت حال کو پی ٹی آئی کی ایک وسیع تر بین الاقوامی حکمت عملی سے جوڑا ہے۔ ان کے مطابق عمران خان کی صحت سے متعلق عالمی سطح پر پیدا ہونے والی بحث نے پی ٹی آئی کو اپنا سیاسی پیغام پاکستان سے باہر پہنچانے کا موقع فراہم کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان کی جانب سے سی این این کو وضاحت بھیجنے اور پی سی بی کی جانب سے سکائی سپورٹس سے رابطے کے باوجود عالمی سطح پر عمران خان کی صحت کا معاملہ نمایاں ہوچکا ہے۔
نجم سیٹھی کے مطابق اس معاملے کا سیاسی فائدہ پی ٹی آئی کو ضرور ملا کیونکہ عمران خان کی صحت اور قید ایک مرتبہ پھر عالمی میڈیا کا موضوع بن گئی۔ ان کے مطابق بیرونِ ملک موجود عمران خان کے صاحبزادے، جمائما گولڈ سمتھ اور ذلفی بخاری سمیت دیگر افراد عالمی سطح پر رابطوں اور دباؤ کی کوششوں میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔

دوسری جانب معروف تجزیہ کار نصرت جاوید کے مطابق بیرونِ ملک سے ہونے والی ایسی سرگرمیاں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ پر براہِ راست اثر انداز ہونے کے بجائے الٹا سخت ردعمل پیدا کرسکتی ہیں۔ ان کے مطابق عمران کے بیٹوں کا انٹرویو پاکستانی فیصلہ سازوں کو دباؤ میں لانے یا بلیک میل کرنے کی کوشش کے طور پر محسوس ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں ان کے لیے کسی فوری رعایت کے بجائے ان پر مزید سختی کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔ انکا کہنا یے کہ اگر واقعی ایسی کوئی تجویز زیرِغور ہے جس کے تحت عمران کو بیرونِ ملک جانے کی اجازت کے بدلے سیاسی خاموشی اختیار کرنا ہوگی تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ فریقین کسی ایسے فارمولے پر غور کر رہے ہیں جس میں خان کی سیاسی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے بدلے انہیں جیل سے باہر آنے کا راستہ فراہم کیا جائے۔

لیکن موجودہ شواہد اس بات کی تصدیق نہیں کرتے کہ ایسا کوئی معاہدہ طے پاچکا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کے ایک سینئر رہنما کا کہنا تھا عمران خان نے ابھی تک برطانیہ جانے کے لیے رضامندی ظاہر نہیں کی۔ اس لیے فی الحال اسے ایک زیرِبحث تجویز یا غیر رسمی رابطوں کا حصہ کہا جائے تو زیادہ مناسب ہو گا۔ دوسری طرف پی ٹی آئی کی 27 ستمبر کے لانگ مارچ کی تیاری یہ اشارہ دے رہی ہے کہ پارٹی کم از کم عوامی سطح پر مزاحمتی سیاست سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔

یوں عمران خان کی صحت، جیل میں ملاقاتوں، عدالتی احکامات اور 27 ستمبر کے لانگ مارچ نے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے کئی محاذ کھول دیے ہیں۔ ایک طرف عدالتیں عمران کے بنیادی حقوق، طبی سہولتوں اور خاندان سے رابطے کا حکم دے رہی ہیں، تو دوسری جانب پی ٹی آئی اندرونِ ملک احتجاج اور بیرونِ ملک سے سیاسی دباؤ بڑھانے کے دونوں راستے بیک وقت استعمال کرتی دکھائی دے رہی ہے۔

Back to top button