6 ماہ سے امریکہ کا مقابلہ کرنے والے ایران نے نئی تاریخ لکھ ڈالی

محدود جنگی وسائل کے باوجود ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے سامنے مزاحمت کرتے ہوئے ایسی جنگی تاریخ رقم کر دی ہے جس کی پچھلے 50 برس میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ گزشتہ چھ ماہ کے دوران ایران نے نہ صرف دنیا کی سب سے بڑی جنگی مشینری رکھنے والی سپر پاور امریکہ اور اس کے اتحادی اسرائیل کے خلاف اپنی ریاستی اور عسکری صلاحیت کو برقرار رکھا ہے بلکہ جنگ کو ایسے مرحلے تک پہنچا دیا ہے جہاں واشنگٹن کے لیے واضح اور فیصلہ کن فتح کے بغیر باعزت واپسی ایک مشکل مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔
تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جنگ میں ایرانی عوام، اسکی فضائیہ، بحریہ، میزائل تنصیبات اور دفاعی ڈھانچے کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے، اس کے باوجود تہران کا میدان جنگ میں ڈٹے رہنا، ہر امریکی حملے کا جواب دینا اور آبنائے ہرمز کو عالمی تجارت کے لیے خطرے کا مرکز بنائے رکھنا کسی معجزے سے کم نہیں ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اس صورت حال کو سمجھنے کے لیے ایران کی موجودہ جنگی حکمت عملی کو 1979 کے انقلاب ایران کے بعد ہونے والی فوجی تبدیلیوں کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔
انقلاب سے قبل شاہ ایران کے دور میں ایرانی فضائیہ خطے کی طاقتور ترین فضائی افواج میں شمار ہوتی تھی۔ ایران نے امریکہ سے 80 جدید ٹام F-14 Tomcat طیارے خریدنے کا معاہدہ کیا تھا اور انقلاب آن تک 79 طیارے ایران پہنچ چکے تھے۔ امریکہ نے ایران کو ان طیاروں کے ساتھ فیونکس میزائل بھی فراہم کیے گئے تھے۔ لیکن انقلاب کے بعد امریکہ سے تعلقات ختم ہونے اور پابندیوں عائد ہونے کے باعث ایران کے لیے جدید جنگی طیاروں، ان کے سپیئر پارٹس اور دیگر فوجی ساز و سامان کی فراہمی تقریباً بند ہو گئی۔ اسکے بعد ایران عراق جنگ شروع ہوئی تو ایرانی فضائیہ کو پائلٹوں اور تکنیکی عملے کی گرفتاریوں، برطرفیوں اور ملک چھوڑنے کے باعث شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے باوجود F-14 طیاروں نے جنگ کے ابتدائی مرحلے میں عراقی طیاروں کے خلاف مؤثر کارروائیاں کیں۔
اسی جنگ نے ایران کے دفاعی منصوبہ سازوں کو یہ بنیادی سبق سکھایا کہ امریکہ یا اس کے اتحادیوں جیسی فضائی طاقت کا مقابلہ روایتی جنگی طیاروں کی تعداد بڑھا کر کرنا ممکن نہیں۔ چنانچہ ایران نے ایسے ہتھیاروں پر توجہ مرکوز کی جو نسبتاً کم قیمت، بڑی تعداد میں تیار اور زیر زمین یا منتشر مقامات پر محفوظ کیے جا سکیں۔ یہی سوچ آگے چل کر ایرانی میزائل اور ڈرون پروگرام کی بنیاد بنی۔
ایرانی ڈرون پروگرام دراصل اسی جنگ کے دوران وجود میں آیا۔ امریکی اور دیگر مغربی انٹیلی جنس ذرائع سے عراقی فوج کو حاصل ہونے والی معلومات کے مقابلے میں ایران کو سخت نگرانی کا سامنا تھا۔
امریکی تحقیقات کے مطابق ایران نے 1980 کی دہائی کے وسط میں چھوٹے بغیر پائلٹ طیاروں کے ذریعے عراقی فوجی پوزیشنوں کی نگرانی شروع کی۔ ابتدائی ڈرون انتہائی سادہ تھے، مگر وقت کے ساتھ یہی پروگرام ایک وسیع دفاعی صنعت میں تبدیل ہوگیا۔ یونیورسٹیوں، انجینئرز اور دفاعی اداروں کی مدد سے تیار کیے جانے والے ابتدائی ڈرونز نے ایران کو ایک ایسا متبادل فراہم کیا جس میں قیمتی پائلٹ اور جنگی طیارے خطرے میں ڈالے بغیر دشمن کی پوزیشنوں کی نگرانی ممکن تھی۔ یہی چھوٹے ڈرون بعد میں ایرانی دفاعی صنعت کے بڑے پروگراموں کی بنیاد بنے۔ یوں عالمی پابندیوں نے جس ایران کو جدید جنگی طیارے خریدنے سے روکا، اسی پابندی نے اسے کم قیمت بغیر پائلٹ نظام میں خود انحصاری کی طرف دھکیل دیا۔ آج اس حکمت عملی کی اہم ترین خصوصیت لاگت کا فرق ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق ایران کے سستے شاہد ڈرون کی تیاری پر تقریباً 20 ہزار سے 50 ہزار ڈالر خرچ ہوتے ہیں، جبکہ انہیں روکنے کے لیے استعمال ہونے والے امریکی پیٹریاٹ انٹرسیپٹر کی قیمت 4 ملین ڈالرز بتائی جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ایک سستا ایرانی ڈرون تباہ کرنے کے لیے کروڑوں روپے مالیت کا امریکی میزائل استعمال کیا جائے تو طویل جنگ میں دفاع کرنے والے ملک کے لیے گولہ بارود کی لاگت خود ایک مسئلہ بن سکتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ایران کی حکمت عملی کا مقصد ہر ڈرون یا میزائل کا اپنے ہدف تک پہنچنا نہیں بلکہ دشمن کے دفاعی نظام کو مسلسل مصروف رکھنا اور اس کے مہنگے انٹرسیپٹرز خرچ کروانا بھی ہے۔
امریکی دفاعی حلقوں میں ایران کے شاہد نامی ڈرون کو سستا لیکن موثر توڑ قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ حملہ آور نسبتاً سستے ہتھیار استعمال کرتا ہے جبکہ دفاع کرنے والے کو ہر حملے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مہنگا دفاعی میزائل داغنا پڑتا ہے۔ ایران نے اسی فلسفے کو بیلیسٹک میزائل پروگرام میں بھی استعمال کیا ہے۔ ایران عراق جنگ کے دوران عراقی میزائل حملوں کا جواب دینے اور اپنی فضائی کمزوری کاونٹر کرنے کے لیے تہران نے میزائل پروگرام شروع کیا تھا جو بعد میں مقامی پیداوار اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی تیاری تک پہنچا۔ یوں ایران نے روایتی فضائیہ کی کمی کو ایک ایسے ہتھیار سے پورا کرنے کی کوشش کی جسے زمین سے لانچ کیا جا سکتا تھا اور جس کے لیے مہنگے جنگی طیاروں اور پائلٹوں کی ضرورت نہیں تھی۔
ایران اور امریکہ کے مابین چھ ماہ سے مسلسل جاری جنگ میں یہی میزائل اور ڈرون صلاحیت ایران کے لیے سب سے اہم فوجی اثاثہ ثابت ہوئی ہے۔ اگرچہ امریکہ اور اسرائیل نے ایرانی فضائیہ، بحریہ اور دفاعی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچایا ہے، لیکن ایران کی میزائل صلاحیت مکمل طور پر ختم نہیں کی جا سکی۔ یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن کے ابتدائی فوجی اہداف کے باوجود ایران کے خلاف شروع کی جانے والی جنگ ابھی تک کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکی۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی بحری حکمت عملی بھی اسی غیر روایتی سوچ پر مبنی ہے۔ تہران نے امریکی طرز کی بڑی بحری جنگی طاقت کھڑی کرنے کے بجائے تیز رفتار چھوٹی کشتیوں، ساحلی میزائلوں، ڈرونز، آبدوزوں اور سمندری بارودی سرنگوں کو اپنی دفاعی حکمت عملی کا اہم حصہ بنایا۔ امریکی دفاعی ماہرین کے مطابق ایرانی بحری نظریہ بڑے سائز کی جنگی کشتیوں کے بجائے چھوٹی تیز رفتار کشتیوں کے جھنڈ استعمال کرنے اور ساحلی میزائلوں اور بارودی سرنگوں کے استعمال پر زور دیتا ہے۔ یہ حکمت عملی آبنائے ہرمز میں سب سے زیادہ موثر ثابت ہوئی ہے۔ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ایران نے اپنی بحری صلاحیت کا بڑا حصہ کھو دیا، لیکن اس کے باوجود ایران چھوٹی کشتیوں، ساحلی میزائلوں اور بارودی سرنگوں کے ذریعے تجارتی جہاز رانی کے لیے خطرہ برقرار رکھ سکتا ہے۔
چھ ماہ کی طویل جنگ کے بعد امریکی عوام کے جنگ مخالف جذبات میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے، ٹرمپ کی عوامی مقبولیت کی شرح 33 فیصد تک گر گئی ہے، جبکہ امریکی فوج پر بھی طویل جنگ کے منفی اثرات پڑ رہے ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق 6 ماہ طویل جنگ میں ایران کی اصل کامیابی یہ ہے کہ اس نے شدید ترین نقصانات کے باوجود دنیا کی نمبر ون سپر پاور کہلانے والے امریکہ کو فیصلہ کن جنگی فتح حاصل نہیں کرنے دی۔ اگر یہ حکمت عملی طویل عرصے تک برقرار رہتی ہے تو جنگ کا فیصلہ میزائلوں اور بموں سے نہیں بلکہ اس بات سے ہوگا کہ امریکہ اور ایران میں سے کون پہلے یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ جنگ جاری رکھنے کی قیمت اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والے فائدے سے زیادہ ہوچکی ہے۔
