سہیل وڑائچ نے فیصل واوڈا کو اقتدار سونپنے کی تجویز کیوں دی؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے فوجی اسٹیبلشمنٹ سے قربت کا تائثر دینے والے سینیٹر فیصل واوڈا کو پاکستان کے سیاسی اور انتظامی مسائل کا ’’واحد حل‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک چلانے کے لیے مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف تینوں کو آزمایا جا چکا لیکن کامیابی نہیں ہوئی، ان کا کہنا ہے کہ ایسے میں اب فیصل واوڈا کو حکومت دینے میں بھی کوئی حرج نہیں کیونکہ ہو سکتا ہے کہ وہ ملکی مسائل حل کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔
روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے میں سہیل وڑائچ نے طنزیہ پیرائے میں فیصل واوڈا کی شخصیت اور ان کی خدمات پر روشنی ڈالی ہے۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور فیصل واوڈا کا دلچسپ تقابل کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ کے پاس ڈونلڈ ٹرمپ ہے تو پاکستان کے پاس بھی ان کی ٹکر کا ’’فیصل واوڈا‘‘ موجود ہے۔ انہوں نے ٹرمپ کی ایک جنگی لباس میں ملبوس تصویر کا حوالہ دیتے ہوئے اسے واوڈا کی ماضی کی ایک تصویر سے مشابہ قرار دیا۔ سہیل وڑائچ نے لکھا کہ فیصل واوڈا کچھ عرصے سے ٹی وی سکرینوں سے غائب ہیں اور انکی غیر موجودگی کے باعث سیاسی منظرنامے میں ’’بے رونقی‘‘ پیدا ہوگئی ہے۔ ان کے بقول واوڈا کے ٹی وی پر نہ آنے سے نہ کوئی نیا کرپشن سکینڈل سامنے آرہا ہے اور نہ حکومت جانے کی نئی تاریخیں سننے کو مل رہی ہیں۔
جیو نیوز سے وابستہ معروف اینکر پرسن نے کراچی میں ایک غیر ملکی قونصل خانے پر دہشت گرد حملے کے موقع پر واوڈا کے جانب سے موٹر سائیکل پر سوار ہو کر جائے وقوعہ پر پہنچنے اور پستول لہرانے کے عمل کو موصوف کی ’’بہادری‘‘ سے تعبیر کیا۔ سہیل وڑائچ نے مزاحیہ انداز میں لکھا کہ اگر کوئی دہشت گرد زندہ واوڈا کے ہاتھ لگ جاتا تو شاید اس کے ساتھ ایسی ’’پہلوانی‘‘ ہوتی کہ رستم و سہراب اور برصغیر کے معروف پہلوانوں کی داستانیں بھی بھلا دی جاتیں۔
سہیل وڑائچ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور فیصل واوڈا کے درمیان ایک اور فرضی تقابل بھی کیا۔ ان کے مطابق واوڈا کے چہرے پر غصہ، جذبہ، حب الوطنی اور طاقت امڈ آتی ہے جبکہ ان کے مقابلے میں صدر ٹرمپ کی طاقت اور جذبہ حب الوطنی مصنوعی لگتے ہیں۔ انہوں نے واوڈا کو مخلص اور ٹرمپ کو مفاد پرست قرار دیا ہے۔ انہوں نے فیصل واوڈا کے سیاسی دعوؤں پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ واوڈا جو کچھ ہیں وہ درست ثابت ہوتا ہے، وہ ہمیشہ کامیاب ہوتے ہیں اور ان کی پیش گوئیاں درست نکلتی ہیں، جبکہ ٹرمپ کے دعوے عملی طور پر پورے نہیں ہوتے۔
سہیل وڑائچ نے لکھا کہ فیصل واوڈا اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ جتنا بڑا عہدہ اور اختیار نہیں رکھتے، لیکن فیصل واوڈا کا ’’کردار اور مقام‘‘ ٹرمپ سے کہیں بلند ہے۔ انہوں نے نسیم حجازی کے ناولوں، انگریزی کہانیوں کے جنگجو کرداروں اور الف لیلہ کے عمرو عیار کا حوالہ دیتے ہوئے فیصل واوڈا کو بھی ایک ایسے فرضی ہیرو کے طور پر پیش کیا جو ہر مشکل کو حل کرنے کا ہنر جانتا ہے۔ سہیل وڑائچ نے فیصل واوڈا کے مال و دولت اور طرزِ زندگی کو بھی طنز کا موضوع بنایا۔ انہوں نے لکھا کہ دونوں دولت مند ہیں، تاہم ٹرمپ ارب پتی ہونے کے باوجود لالچی ہیں جبکہ واوڈا نسبتاً کم دولت مند ہونے کے باوجود ’’لالچ سے بالکل خالی‘‘ اور مکمل طور پر مطمئن شخص ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جہاں ٹرمپ کے بڑے بڑے سکینڈلز سامنے آئے، وہیں واوڈا کسی بڑے سکینڈل میں نہیں پھنسے۔ سہیل وڑائچ لکھتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کو آزمایا جا چکا، پیپلز پارٹی کو بھی دیکھا جا چکا اور تحریک انصاف بھی اقتدار میں آکر اپنا وقت گزار چکی۔ ان کے بقول جب ملک میں مختلف سیاسی تجربات کیے جاچکے ہیں تو فیصل واوڈا کو بھی اقتدار میں آزمانے میں کوئی مضائقہ نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق اگر فیصل واوڈا کو اقتدار مل جائے تو ملک کے تقریباً تمام بڑے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ واوڈا کے اقتدار میں آنے سے کرپشن ختم ہوگی، ملک میں امن قائم ہوگا، صوبوں اور قوموں کے درمیان ہم آہنگی پیدا ہوگی، پانی اور وسائل کی تقسیم کے مسائل حل ہوں گے اور بیوروکریسی کی طاقت کم ہوجائے گی۔
انہوں نے طنزیہ دعویٰ کیا کہ واوڈا کے اقتدار میں آنے سے سول اور فوجی ادارے ہمیشہ کے لیے ایک صفحے پر آجائیں گے، مشرق وسطیٰ اور امریکہ کے خزانے پاکستان کے لیے کھل جائیں گے، کانوں سے سونا، تانبا اور دوسری قیمتی دھاتیں نکلنا شروع ہوجائیں گی اور موجودہ نظام ملک کو بہتر انداز میں خدمات فراہم کرنے کے قابل ہوجائے گا۔ سہیل وڑائچ نے واوڈا کو پاکستان کے لیے ایک ایسے ’نجات دہندہ‘ کے طور پر پیش کیا ہے جس کے اقتدار میں آتے ہی تمام مشکلات ختم ہوجائیں گی۔ انہوں نے لکھا کہ اب ملک کے تمام مسائل کا حل ایک ہی ہے کہ فیصل واوڈا کو تلاش کرکے، منت سماجت یا خوشامد کے ذریعے راضی کیا جائے اور انہیں اقتدار سونپ دیا جائے۔
سہیل وڑائچ نے اپنی تحریر کے اختتام پر ریڈیو پاکستان کے ایک پرانے پنجابی اشتہار کے مشہور جملے ’’سارے مسئلیاں دا اکوں ای حل‘‘ کی طرز پر نیا طنزیہ نعرہ پیش کیا کہ ’’سارے مسئلیاں دا اکوں ای حل، واوڈا دی گل، واوڈا دی گل‘‘۔
