الیکشن ہارنے والے کو آزاد کشمیر کا وزیراعظم کیوں بنایا گیا؟

آزاد جموں و کشمیر میں اپنے ہی حلقے سے حالیہ انتخابات ہارنے والے مسلم لیگ (ن) کے نومولود رہنما بیرسٹر افتخار گیلانی کو وزیراعظم بنانے کے فیصلے نے احتجاج کی لپیٹ میں آئے خطہ کشمیر میں ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق افتخار گیلانی کا انتخاب جمہوری نمائندگی کے اصولوں پر سوال اٹھانے کے ساتھ اس تاثر کو بھی تقویت دیتا ہے کہ آزاد کشمیر میں اہم سیاسی فیصلے عوام کے بجائے طاقتور حلقوں کے زیر اثر کیے جا رہے ہیں۔
یاد ریے کہ افتخار گیلانی حالیہ عام انتخابات میں اپنے حلقے کے ووٹروں سے مسترد ہونے کے باوجود مخصوص نشست پر ٹیکنوکریٹ کی حیثیت سے ایوان میں پہنچے اور پھر وزیراعظم کے منصب تک جا پہنچے۔ ناقدین کے مطابق جس سیاسی رہنما کو اسخے اپنے حلقے کے عوام نے مسترد کر دیا ہو، وہ پورے خطے کی قیادت کے لیے عوامی مینڈیٹ رکھنے کا دعویٰ کیسے کرسکتا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق افتخار گیلانی کو وزیراعظم بنانے کے فیصلے نے مسلم لیگ (ن) کے مقامی رہنماؤں کو بھی حیران کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ووٹ کو عزت دو کے دعویدار میاں نواز شریف نے ووٹ کی عزت کا جنازہ نکال دیا ہے اور ایک ایسے شخص کو وزیراعظم بنوا دیا ہے جس سے عوام نے ووٹوں کے ذریعے مسترد کر دیا تھا۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں حکومتوں کی تشکیل اور تبدیلی میں عسکری اثر و رسوخ کا تاثر نیا نہیں، تاہم موجودہ صورتحال اس لیے زیادہ حساس ہے کہ وزیر اعظم کا انتخاب ایسے وقت میں ہوا جب آزاد کشمیر میں احتجاج جاری ہے، انتخابی عمل متنازع قرار دیا جا رہا ہے اور عوامی نمائندگی کے موجودہ ڈھانچے پر سیاسی جماعتیں بھی سوال اٹھا رہی ہیں۔ حالیہ انتخابات میں مسلم لیگ (ن) سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی، تاہم پنجاب میں مقیم کشمیری مہاجرین کے لیے مخصوص آٹھ نشستوں نے بھی حکومت سازی میں اہم کردار ادا کیا۔ ناقدین کے مطابق ریزرو نشستوں کا یہ نظام طویل عرصے سے تنقید کی زد میں ہے اور اسے سیاسی جوڑ توڑ اور حکومت سازی کے لیے استعمال ہونے والا راستہ سمجھا جاتا ہے۔
کشمیر کی سیاسی صورتحال تب مزید پیچیدہ ہوگئی جب راولاکوٹ اور دیگر اضلاع کی سات نشستوں پر امن و امان کی خراب صورتحال کے باعث انتخابات نہ ہوسکے۔ قانون ساز اسمبلی کا ایوان مکمل نہ ہونے کے باوجود حکومت سازی کا عمل آگے بڑھایا گیا، جس سے انتخابی عمل کی ساکھ کے بارے میں سوالات مزید گہرے ہوئے۔
آزاد کشمیر میں جاری عوامی احتجاج کے اہم مطالبات میں مخصوص نشستوں کا خاتمہ بھی شامل ہے۔ عوامی ایکشن کمیٹی سے وابستہ مظاہرین کا مؤقف ہے کہ بیرونِ خطہ مقیم مہاجرین کے لیے مخصوص نشستیں مقامی سیاسی نمائندگی کے اصول سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ ماضی میں مختلف سیاسی جماعتیں بھی اس نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کرتی رہی ہیں، تاہم مطالبات نظر انداز کیے جانے سے عوامی بے چینی میں اضافہ ہوا۔
موجودہ بحران کو صرف انتخابی تنازع قرار دینا بھی کافی نہیں۔
یاد ریے کہ گزشتہ کئی ماہ سے آزاد کشمیر کے نوجوانوں، تاجروں اور معاشرے کے مختلف طبقات پر مشتمل احتجاجی تحریک بنیادی حقوق کے حصول اور سیاسی نمائندگی جیسے مطالبات سامنے لا رہی ہے۔ ریاستی اداروں اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی نے معاملے کو بڑے سیاسی بحران میں تبدیل کردیا ہے۔
صورتحال کا ایک تشویش ناک پہلو اطلاعات اور ذرائع ابلاغ تک رسائی پر پابندیاں بھی ہیں۔ متاثرہ اضلاع میں میڈیا کی محدود رسائی، بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کو علاقے میں جانے سے روکنے اور انٹرنیٹ و موبائل سروسز کی بندش نے شکوک و شبہات کو مزید بڑھایا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی متاثرہ علاقوں تک رسائی کے حوالے سے سوالات اٹھائے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اگر ایک طرف عوامی احتجاج کو طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش کی جائے اور دوسری جانب ایسے شخص کو حکومت سونپ دی جائے جسے اس کے اپنے حلقے کے ووٹروں نے مسترد کیا ہو تو حکومت کی نمائندگی اور سیاسی جواز دونوں متاثر ہوسکتے ہیں۔ ایسے اقدامات عوامی غصہ کم کرنے کے بجائے اسے مزید بڑھا سکتے ہیں۔
مبصرین کے مطانق سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ آزاد کشمیر کے سیاسی بحران کو محض امن و امان کا معاملہ سمجھ کر طاقت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، حالانکہ اس کے بنیادی محرکات سیاسی اور انتظامی نوعیت کے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گیلانی کی نئی حکومت کو احتجاجی مظاہرین کے مطالبات کا جائزہ لینے اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عوامی احتجاج کرنے والوں کو ریاست مخالف قرار دینا یا عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی جیسے اقدامات مسئلے کو حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ کرسکتے ہیں۔ چنانچہ زیادہ مؤثر راستہ یہ ہوگا کہ احتجاج کرنے والے گروہوں سے بات چیت کی جائے، ان کے قابلِ قبول مطالبات تسلیم کیے جائیں اور انتخابی و سیاسی نظام کی خامیوں کو دور کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کیا ہے افتخار گیلانی کی وزارتِ عظمیٰ ایسے وقت میں شروع ہوئی ہے جب نئی حکومت کو انتظامی امور کے ساتھ اپنی سیاسی ساکھ اور عوامی قبولیت کا بھی امتحان درپیش ہے۔ ایسے میں اگر حکومت یہ تاثر ختم کرنے میں ناکام رہی کہ اسے عوامی مینڈیٹ کے بجائے مرکز کی حمایت سے اقتدار ملا ہے تو موجودہ بحران پر قابو پانا مزید مشکل ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق کشمیر کے معاملے پر پاکستان کا بنیادی مؤقف کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے گرد گھومتا ہے، اس لیے آزاد کشمیر میں جمہوری حقوق اور مقامی خودمختاری کا احترام اس مؤقف کی اخلاقی برتری کے لیے بھی اہم ہے۔ انکے مطابق لائن آف کنٹرول کے دوسری جانب مقیم کشمیری بھی پاکستان کو اپنی حقِ خودارادیت کی جدوجہد میں اہم ترین سہارا سمجھتے ہیں، لہٰذا آزاد کشمیر میں بڑھتی ہوئی بے چینی کو نظر انداز کرنا پاکستان کے مقبوضہ کشمیر بارے اپنائے گئے بیانیے کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔
