یاسین ملک کا مشعال ملک کو نکاح سے آزاد کرنے کا فیصلہ

بھارتی جیل میں قید جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما یاسین ملک نے اپنی اہلیہ مشعال ملک کو شادی کے بندھن سے آزاد کرتے ہوئے ان سے نئی زندگی شروع کرنے کی درخواست کی ہے۔
روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تحریر میں سینئر صحافی حامد میر نے دعویٰ کیا ہے کہ یاسین ملک نے یہ بات 24 اگست 2026 کو سرینگر کی ایک عدالت میں جمع کرائے گئے بیانِ حلفی میں لکھی ہے۔ ان کے مطابق یاسین ملک نے موقف اختیار کیا کہ ان کی رہائی کے امکانات معدوم ہوچکے ہیں، اس لیے وہ اپنی اہلیہ کو نکاح سے آزاد کرتے ہیں تاکہ وہ اپنی زندگی نئے سرے سے شروع کرسکیں۔
یاد رہے کہ یاسین ملک اور مشعال کی شادی فروری 2009 میں راولپنڈی میں ہوئی تھی۔ حامد میر کے مطابق 25 صفحات پر مشتمل بیانِ حلفی میں یاسین ملک نے عدالت کے سامنے اپنے مقدمے، اپنی طویل قید، بھارتی حکام سے ماضی میں ہونے والے رابطوں اور اپنی ذاتی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر تفصیل سے بات کی ہے۔ حامد میر نے اس دستاویز کو ایک ایسے قیدی کی آواز قرار دیا ہے جو عدالت سے اپنے لیے موت کی سزا مانگتے ہوئے بھی اپنی قوم کے لیے آزادی کا پیغام دے رہا ہے۔
حامد میر کے مطابق یاسین ملک کے اس بیان کا سب سے دردناک حصہ ان کی اہلیہ مشعال ملک اور بیٹی رضیہ سلطانہ سے متعلق ہے۔ یاسین ملک نے اپنی اہلیہ کو نہایت احترام اور محبت کے ساتھ نکاح سے آزاد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ابھی بہت عمر پڑی ہے اور انہیں ایک نئی زندگی کا آغاز کرنا چاہیے۔ اسی طرح انہوں نے اپنی بیٹی رضیہ سلطانہ سے کہا کہ وہ اپنی دادی کو روزانہ سرینگر فون کیا کرے تاکہ اس مشکل وقت میں انہیں تنہائی کا احساس نہ ہو۔ انکا کہنا یے کہ اس حصے میں یاسین ملک ایک سیاسی رہنما سے زیادہ ایک بے بس شوہر اور اپنی بیٹی سے دور جا چکے باپ کے طور پر نظر آتے ہیں۔
حامد میر نے بتاتے ہیں کہ اس بیانِ حلفی میں یاسین ملک کی شخصیت کے کئی پہلو سامنے آتے ہیں۔ کہیں وہ ایک وکیل کی طرح اپنے مقدمے کے قانونی نکات بیان کرتے ہیں، کہیں ایک انقلابی رہنما کی صورت میں اپنی سیاسی جدوجہد کا دفاع کرتے ہیں، کہیں اپنی بوڑھی والدہ کی فکر کرنے والے بیٹے دکھائی دیتے ہیں اور کہیں اپنی اہلیہ کے مستقبل کے بارے میں سوچنے والے ایک بے بس شوہر۔ ان کے مطابق یاسین ملک کی سب سے بڑی ذاتی محرومی یہ ہے کہ وہ طویل عرصے سے اپنی 8 سالہ بیٹی سے بھی ملاقات نہیں کر سکے۔
بیانِ حلفی کے حوالے سے حامد میر نے دعویٰ کیا کہ یاسین ملک نے 36 سال پرانے سرلا بھٹ قتل کیس میں اپنے خلاف عائد الزام کو مسترد کیا ہے۔ سرلا بھٹ نامی نرس کو 19 اپریل 1990 کو قتل کیا گیا تھا، جبکہ یاسین ملک کا مؤقف ہے کہ وہ 8 اپریل 1990 کو بھارتی سکیورٹی فورسز کے ایک چھاپے میں شدید زخمی ہوچکے تھے۔ ان کے مطابق 26 اپریل 1990 کو بھارتی ٹیلی وژن دوردرشن نے ان کی ہلاکت اور خفیہ تدفین کی خبر بھی نشر کی تھی، جبکہ انہیں بعد میں معلوم ہوا کہ ان پر سرلا بھٹ کے قتل کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔
حامد میر کے مطابق یاسین ملک نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ انہیں اگست 1990 میں گرفتار کیا گیا اور نومبر 1990 میں اس وقت کے بھارتی وزیراعظم چندر شیکھر نے ان سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی اور ڈنر کی دعوت بھی دی۔ یاسین ملک کے مطابق انہوں نے یہ دعوت اس بنیاد پر مسترد کردی کہ ایک قیدی کا وزیراعظم کے ساتھ ڈنر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ حامد میر کے مطابق اس انکار کے بعد یاسین ملک کو دہلی سے آگرہ جیل منتقل کردیا گیا۔ ملک کا کہنا یے کہ بعد کے برسوں میں مختلف بھارتی وزرائے اعظم کی جانب سے ان سے رابطے کیے گئے اور پاک بھارت امن مذاکرات میں کردار ادا کرنے کے لیے ان کی مدد طلب کی جاتی رہی۔
یاسین ملک نے بیانِ حلفی میں مزید لکھا ہے کہ 2000 میں تب کے بھارتی انٹیلی جنس بیورو کے ڈائریکٹر اجیت کمار دوول اور وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر برجیش مشرا نے جیل میں ان سے ملاقاتیں کیں۔ یاسین ملک ان دنوں شدید بیمار تھے، جس کے بعد بھارتی حکومت نے ان کے علاج کے لیے امریکا جانے کا انتظام کیا اور انہیں پاسپورٹ بھی جاری کیا۔ امریکا پہنچنے کے بعد برجیش مشرا نے واجپائی کی نیک خواہشات کے ساتھ علاج کے لیے 50 ہزار ڈالر بھی بھجوائے، تاہم یاسین ملک نے یہ رقم لینے سے انکار کردیا۔
یاسین ملک کے بیان کے مطابق امریکا میں تب کی پاکستانی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے بھی الطاف قادری کے ذریعے انہیں 30 ہزار ڈالرز بھجوائے، لیکن انہوں نے یہ رقم بھی وصول کرنے سے معذرت کرلی۔ حامد میر کے مطابق یاسین ملک نے اپنے بیان میں نریندر مودی کی حکومت پر الزام عائد کیا کہ 2019 اور 2024 کے بھارتی انتخابات کے دوران سابق وزیراعظم من موہن سنگھ کے ساتھ ان کی ملاقات کی ایک تصویر کو سیاسی پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا گیا، تاہم اجیت دوول کی جانب سے جیل میں ان سے ہونے والی ملاقاتوں کا ذکر نہیں کیا گیا۔
حامد میر کے مطابق پاکستان میں آج بعض حلقے جے کے ایل ایف کے بارے میں جو الزامات عائد کرتے ہیں، وہ بھارتی حکومت کے الزامات سے مماثلت رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق یاسین ملک کے بیان کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وہ اپنے سیاسی ماضی اور مختلف حکومتوں سے رابطوں کو ایک مخصوص تاریخی تناظر میں پیش کرتے ہیں۔ بیانِ حلفی کے آخری حصے میں یاسین ملک نے عدالت کو بتایا کہ وہ آئندہ اپنے مقدمے میں اپنا دفاع نہیں کریں گے۔ اگرچہ انہوں نے سرلا بھٹ کے قتل میں ملوث ہونے سے انکار کیا، تاہم حامد میر کے مطابق انہوں نے عدالت سے کہا کہ انہیں پھانسی دے دی جائے۔ حامد میر نے اسے ایک ایسے قیدی کی طرف سے اپنے دفاع سے دستبرداری قرار دیا ہے جو سمجھتا ہے کہ عدالت کا مقصد بالآخر اسے موت کی سزا دینا ہے۔ انہوں نے اس دستاویز کو محض ایک قانونی بیان نہیں بلکہ یاسین ملک کے ضمیر کی آواز اور ان کی ’’آخری وصیت‘‘ قرار دیا ہے۔
حامد میر کہتے ہیں کہ یاسین ملک کا بیانِ حلفی ایک طرف بھارتی عدالتی اور سیاسی نظام پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے تو دوسری طرف اس قیدی کی ذاتی زندگی کا المیہ بھی سامنے لاتا ہے۔ ان کے مطابق مشعال ملک کو نئی زندگی شروع کرنے کا پیغام، بیٹی کو دادی سے رابطے کی تاکید اور خود موت کی سزا قبول کرنے کا اعلان اس دستاویز کو ایک عدالتی بیان سے کہیں زیادہ جذباتی اور سیاسی اہمیت دیتا ہے۔ حامد میر کے بقول یاسین ملک کا یہ مؤقف اس بات کی علامت ہے کہ طویل قید کے باوجود وہ اپنے سیاسی مؤقف سے دستبردار نہیں ہوئے اور انہوں نے اپنے انجام کو بھی اپنی جدوجہد کے نتیجے کے طور پر قبول کر لیا ہے۔
