وردی والے دوبارہ کالے چوغے والوں سے طاقتور کیسے نکلے؟

وردی والے ایک مرتبہ پھر کالے چوغے والوں سے تگڑے نکلے ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں راول ڈیم کے کنارے پاکستانی بحریہ کی جانب سے تعمیر کردہ نیول سیلنگ کلب Naval Sailing Club کی عمارت مسمار کرنے، نیول فارمز Naval Farms کو غیر قانونی قرار دینے اور سابق نیول چیف ایڈمرل ظفر محمود عباسی کے خلاف مس کنڈکٹ اور فوجداری کارروائی سے متعلق عدالتی فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس انعام امین منہاس اور جسٹس شاہ رخ ارجمند پر مشتمل دو رکنی بینچ نے وزارتِ دفاع، سابق نیول چیف ایڈمرل (ر) ظفر محمود عباسی اور دیگر کی جانب سے دائر انٹرا کورٹ اپیلیں منظور کرتے ہوئے 2022 میں سابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ کے سنگل بینچ کے فیصلے کو منسوخ کر دیا۔

یاد رہے کہ 2022 میں جسٹس اطہر من اللہ نے 45 صفحات پر مشتمل فیصلے میں راول ڈیم کے کنارے قائم نیول سیلنگ کلب کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس کی عمارت تین ہفتوں میں مسمار کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے سابق نیول چیف ایڈمرل ظفر محمود عباسی سمیت کلب کی تعمیر اور افتتاح میں ملوث افسران کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کرنے اور سابق نیول چیف کے خلاف مس کنڈکٹ کی کارروائی کی بھی ہدایت کی تھی۔

سنگل بینچ نے پاکستان نیول فارمز کے لیے جاری کردہ این او سی کو بھی غیر قانونی قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ وفاقی ترقیاتی ادارے یعنی سی ڈی اے کو یہ این او سی جاری کرنے کا اختیار حاصل نہیں تھا۔ عدالتی فیصلے میں پاکستان نیوی ہیڈکوارٹر کے نام زمین کی منتقلی کو بھی غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیا گیا تھا۔

جسٹس اطہر من اللہ کے فیصلے میں قرار دیا گیا تھا کہ کسی ریاستی ادارے، بالخصوص پاکستان نیوی، کا نام ریئل اسٹیٹ کاروبار کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ سابق نیول چیف نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک ایسی عمارت کا افتتاح کیا جسے عدالت نے غیر قانونی قرار دیا تھا۔ عدالت نے اس وقت آڈیٹر جنرل آف پاکستان کو نیول سیلنگ کلب اور نیول فارمز کا فورنزک آڈٹ کرنے اور قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ لگانے کی ہدایت بھی کی تھی۔ فیصلے میں کہا گیا تھا کہ اگر قومی خزانے کو نقصان پہنچا تو اس کی وصولی ذمہ دار افسران سے کی جائے۔

تاہم اب جبکہ پلوں کے نیچے سے ڈھیروں پانی بہہ چکا ہے اور وردی والوں کا دور دورہ یے تو اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے عمرانڈو قرار دیے جانے والے جسٹس اطہر من اللہ کے ان تمام احکامات کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ان کا عدالتی فیصلہ ختم کر دیا ہے۔ دونوں ججز نے اپنے ضمیر کی آواز پر فیصلہ سناتے ہوئے نیول فارمز کی پاکستان نیوی کو منتقلی اور زمین کو نیوی ہیڈکوارٹر کے نام منتقل کرنے کے سابقہ فیصلے بھی منسوخ کر دیے ہیں۔

وردی والے اپیل کنندگان کی جانب سے عدالت میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ نیول فارمز کے لیے زمین کسی سرکاری فنڈ سے نہیں خریدی گئی بلکہ نیوی افسران سے جمع کیے گئے فنڈز کے ذریعے زمین حاصل کی گئی تھی۔ ان کے مطابق ابتدائی طور پر تقریباً 2400 کنال زمین خریدی گئی اور بعد ازاں اسے متعلقہ اداروں کے نام منتقل کیا گیا۔ نیول سیلنگ کلب اور نیول فارمز کا معاملہ 2020 سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت تھا۔ کلب کی تعمیر کے خلاف درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ راول ڈیم کے کنارے تعمیرات ماحولیاتی اعتبار سے نقصان دہ ہیں، جبکہ راول ڈیم راولپنڈی کو پانی فراہم کرنے کا اہم ذریعہ ہے۔

ابتدائی مقدمے میں نیوی والوں کا یہ مؤقف تھا کہ حکومت پاکستان نے 1991 میں یہ جگہ سیلنگ کی مشق کے لیے بحریہ کو مختص کی تھی۔ بعد ازاں نیول سیلنگ کلب اور نیول فارمز سے متعلق قانونی حیثیت، زمین کی منتقلی اور تعمیرات کے اختیارات کا معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے زیر بحث رہا۔ حالیہ فیصلے کے بعد 2022 کے اس اہم عدالتی فیصلے کے وہ تمام بنیادی احکامات ختم ہوگئے ہیں جن کے تحت نیول سیلنگ کلب کی عمارت گرانے، نیول فارمز کو غیر قانونی قرار دینے اور سابق نیول چیف سمیت متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی گئی تھی۔

Back to top button