صدر زرداری اور بلاول کی نئے صوبوں کے خلاف بغاوت

پیپلز پارٹی کی قیادت بشمول صدر آصف زرداری اور بلاول بھٹو نے نئی صوبوں کی تشکیل کے لیے فوجی اسٹیبلشمنٹ کا بڑھتا ہوا دباؤ مسترد کرتے ہوئے سندھ اسمبلی کے ذریعے اعلان بغاوت کر دیا ہے۔ ایک جانب آصف زرداری نے اسٹیبلشمنٹ کو یہ واضح پیغام بھجوا دیا ہے کہ پیپلز پارٹی کسی صورت سندھ کی تقسیم کی حمایت نہیں کرے گی جبکہ دوسری جانب سندھ اسمبلی نے نئے صوبوں کی تشکیل کی کھلی مخالفت کرتے ہوئے اس معاملے پر بحث شروع کروا رکھی ہے جو چار روز سے جاری ہے۔
پیپلز پارٹی کا نئے صوبوں کی مخالفت کا بیانیہ آگے بڑھاتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے 3 ستمبر کو فلور آف دی ہاؤس پر واضح کیا کہ سندھ کے مستقبل کا فیصلہ کوئی اور کہیں اور بیٹھ کر نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ وہ سندھ اسمبلی کے پلیٹ فارم سے قومی اسمبلی کو خبردار کرتے ہیں کہ ’تم سندھ کی تقسیم کی بات بھی نہیں کر سکتے۔‘ یاد رہے کہ اس سے پہلے سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے رہنما نثار خان کھوڑو نے سندھ کی تقسیم اور نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے خلاف قرارداد پیش کی تھے، جس پر ایوان میں مسلسل چوتھے روز بحث جاری رہی۔ قرارداد میں سندھ کی وحدت اور جغرافیائی سالمیت کے تحفظ کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ سندھ میں نئے صوبے نہیں بننے چاہئیں اور سندھ کے مستقبل سے متعلق فیصلہ سندھ ہی میں ہونا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر واضح ہوجائے گا کہ کون سندھ کے ساتھ کھڑا ہے اور کون دوغلا پن کر رہا ہے۔ سندھ کے عوام کے جذبات اور احساسات کو نظرانداز کرنا کسی صورت درست نہیں۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ ماضی میں ون یونٹ کے قیام پر بھی سندھ کے عوام کے جذبات کو نظرانداز کیا گیا تھا، تاہم اب سندھ کے مستقبل کا فیصلہ کسی دوسرے مقام پر بیٹھ کر نہیں کیا جاسکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ سندھ اسمبلی کے پلیٹ فارم سے قومی اسمبلی کو خبردار کرتے ہیں کہ ’’تم سندھ کی تقسیم کی بات بھی نہیں کر سکتے۔‘‘ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اب پاکستان کو نچوڑنے والے ارب پتی بزنس مین نئے صوبوں کا فیصلہ کریں گے؟ ان کا اشارہ اسلام آاباد میں چند ہفتے پہلے ہونے والی بزنس کمیونٹی کی جانب سے منعقدہ اس تقریب کی جانب تھا جس میں وزیر داخلہ محسن نقوی نے نئے صوبوں کے قیام کی تجویز پیش کی تھی۔ مراد علی شاہ نے نئے صوبوں کے قیام کے مطالبے کو صرف آبادی کے حجم سے جوڑنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اگر مسئلہ گورننس کا ہے تو انتظامی اصلاحات کے ذریعے اسے بہتر بنانے پر بات ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کے معاملے پر تفصیلی بحث کی جاسکتی ہے، تاہم محض آبادی کو بنیاد بنا کر نئے صوبوں کی تشکیل کا مطالبہ قابل قبول نہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے متحدہ قومی موومنٹ کے رہنماؤں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ مصطفیٰ کمال ایک طرف انتظامی یونٹس کی بات کرتے ہیں جبکہ ایم کیو ایم کے ارکان سندھ اسمبلی میں سندھ کی تقسیم نہ کرنے کی بات کرتے ہیں۔ ان کے بقول یہ دوغلا پن ہے اور ایم کیو ایم والے عوام کو بیوقوف بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ ایم کیو ایم کے ارکان عوام کے براہ راست ووٹ سے منتخب ہو کر ایوان میں نہیں آئے بلکہ جھرلو طریقہ کار کے تحت اسمبلی کا حصہ بنے ہیں۔
اس کے بعد صدر آصف زرداری کی ہمشیرہ، پیپلز پارٹی کی رہنما اور رکن سندھ اسمبلی فریال تالپور نے سندھ کی تقسیم پر انتہائی سخت اور جذباتی مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ کو کسی صورت تقسیم نہیں ہونے دیا جائے گا اور اس معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سندھ کے مفاد کے لیے پیپلز پارٹی والوں کو استعفیے دینا پڑے، اسمبلی کی رکنیت چھوڑنا پڑی یا جان بھی دینی پڑی تو وہ یہ سب کر گزریں گے، لیکن سندھ کی تقسیم پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
ادھر صدر آصف زرداری نے بھی نئے صوبوں کے معاملے پر اپنے اصولی مؤقف پر قائم رہنے کا واضح پیغام دیا ہے۔ لندن میں صدر زرداری اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے درمیان تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی ملاقات میں ملکی اور سیاسی صورتحال سمیت مختلف اہم معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں دونوں رہنماؤں کے درمیان ون آن ون گفتگو بھی ہوئی۔
نئے صوبوں کی بحث کے تناظر میں صدر زرداری کا مؤقف خاص اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق صدر مملکت نے اس معاملے پر اپنے مؤقف سے پیچھے نہ ہٹنے کا پیغام دیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے اس مؤقف کے بعد سندھ کی تقسیم اور نئے صوبوں کی تشکیل کا معاملہ ایک مرتبہ پھر قومی سیاست میں نمایاں ہوگیا ہے۔ یاد ریے کہ پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ کوئی نیا معاملہ نہیں۔ انتظامی بنیاد پر نئے صوبے بنانے کی تجاویز وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہی ہیں، تاہم کسی نئے صوبے کے قیام کے لیے صرف سیاسی اعلان کافی نہیں بلکہ اسکے لیے آئینی اور قانونی مراحل کے ساتھ وسیع سیاسی اتفاق رائے بھی درکار ہوتا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے سندھ کی تقسیم کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیے جانے اور سندھ اسمبلی میں قرارداد کی منظوری کے بعد ملک کی طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ مشکل میں پڑ گئی ہے۔ خاص طور پر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے قومی اسمبلی کو دیے گئے سخت پیغام اور صدر آصف علی زرداری کے اپنے مؤقف پر قائم رہنے سے واضح ہوگیا ہے کہ پیپلز پارٹی اس معاملے کو سندھ کی سیاسی خودمختاری اور وحدت کے سوال کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
