صدر زرداری کسی وجہ سے ملک سے باہر جا بیٹھے؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار حفیظ اللہ خان نیازی نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ کہیں صدر آصف زرداری فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اختلافات کے بعد اپنے خاندان سمیت کچھ عرصے کے لیے بیرونِ ملک تو نہیں چلے گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو یہ پاکستان کی سیاست کے ’’بے تاج بادشاہ‘‘ آصف زرداری کی ایک بڑی سیاسی چال ثابت ہو سکتی ہے۔

حفیظ اللہ نیازی نے اس حوالے سے تفصیلی ٹویٹس میں کہا ہے کہ یہ بات اب زبان زدِ عام ہو چکی ہے کہ فوجی قیادت اور سیاست دانوں کے درمیان معاملات پہلے جیسے نہیں رہے اور ایسے میں انہیں یہ وسوسہ لاحق ہے کہ صدر آصف زرداری کسی منصوبہ بندی کے تحت اپنے پورے خاندان کے ساتھ طویل رخصت یا ’’نیم جلاوطنی‘‘ پر تو نہیں چلے گئے۔ انہوں نے لکھا کہ 27 اگست 2026 کو آصف زرداری اپنے اہلِ خانہ سمیت نجی دورے پر یورپ روانہ ہوئے تو بظاہر یہ ایک معمول کی کارروائی دکھائی دی، تاہم ان کے بقول جیسے ہی صدر کا طیارہ فضا میں بلند ہوا، سندھ میں سیاسی درجہ حرارت اچانک بڑھ گیا، جسے وہ ایک سوچی سمجھی حکمتِ عملی کا سمجھتے ہیں۔

نیازی کے مطابق اگلے ہی روز، 28 اگست کو سندھ حکومتِ اپنی اسمبلی میں صوبے کی تقسیم کے خلاف قرارداد لے آئی۔ ان کے خیال میں اس کا مقصد آئین کے آرٹیکل 239 کی شق 4 کے تحت دستیاب آئینی راستہ اختیار کرتے ہوئے صوبوں کی تقسیم کے کسی بھی منصوبے کو ناکام بنانا تھا۔ حفیظ اللہ نیازی نے پیپلز پارٹی کی جانب سے صوبوں کی تقسیم کے معاملے پر اختیار کیے گئے سخت مؤقف کو بھی اہم قرار دیا۔ ان کے مطابق فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے موجودہ صوبوں کی تقسیم کے مبینہ منصوبے کو پیپلز پارٹی کی قیادت نے جس انداز میں براہِ راست چیلنج کیا، اسے خصوصی اہمیت دی جانی چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے 31 اگست کو کراچی میں سول سوسائٹی اور وکلا کے بڑے احتجاج کے ذریعے بھی اپنا مؤقف واضح کیا، جبکہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، نثار کھوڑو اور دیگر پارٹی رہنماؤں نے سندھ اسمبلی میں صوبوں کی تقسیم کے حامیوں کے خلاف سخت اور دوٹوک مؤقف اختیار کیا۔

حفیظ اللہ نیازی نے دعویٰ کیا کہ زرداری خاندان آئندہ چند ہفتے برطانیہ میں مزید قیام کرے گا، تاہم ان کے بقول انہیں خدشہ ہے کہ صدر آصف زرداری کی وطن واپسی اب اتنی آسان نہیں ہوگی اور ممکن ہے کہ واپسی کسی فیصلہ کن مذاکرات یا نتیجہ خیز بات چیت کے بعد ہی ہو۔ انہوں نے موجودہ صورتِ حال کا موازنہ 2015 کے واقعات سے کرتے ہوئے یاد دلایا کہ 16 جون 2015 کو پشاور میں آصف زرداری نے اداروں کو مخاطب کرتے ہوئے سخت زبان استعمال کی تھی۔ نیازی کے مطابق زرداری نے اس وقت کہا تھا کہ جرنیل تین سال کے لیے آتے ہیں جبکہ سیاسی جماعتیں ہمیشہ موجود رہتی ہیں لہذا پیپلز پارٹی کی کردار کشی بند کی جائے، بصورتِ دیگر وہ ایسی پریس کانفرنس کریں گے کہ ’’اینٹ سے اینٹ بج جائے گی‘‘۔

حفیظ اللہ نیازی کے مطابق اس تقریر کے چند روز بعد، 25 جون 2015 کو آصف زرداری دبئی چلے گئے تھے اور تقریباً ڈیڑھ سال بعد، 23 دسمبر 2016 کو جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ کے بعد وطن واپس آئے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا تاریخ ایک مرتبہ پھر خود کو دہرانے جا رہی ہے؟ ان کے بقول کیا ایک مرتبہ پھر صدر زرداری کے سامنے ’’ہتھیار ڈالے‘‘ جائیں گے تاکہ وہ وطن واپس آ سکیں اور پاکستان کو کسی ممکنہ سیاسی یا بین الاقوامی شرمندگی سے بچایا جا سکے؟ حفیظ اللہ نیازی نے زرداری کی موجودہ سیاسی پوزیشن کو بھی ان کی حکمتِ عملی کا اہم حصہ قرار دیا۔ ان کے مطابق آصف زرداری کی غیر موجودگی میں قائم مقام صدر کا منصب بھی پیپلز پارٹی کے پاس ہے کیونکہ چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی قائم مقام صدر کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

حفیظ نیازی کا کہنا ہے کہ آصف زرداری کی سیاسی چالوں پر ’’دل عش عش کر اٹھتا ہے‘‘۔ ان کے بقول زرداری نے پہلے صدر کا منصب حاصل کیا اور بعدازاں اپنے لیے تاحیات صدارتی استثنیٰ بھی حاصل کیا۔ تجزیہ کار کے مطابق صدرِ مملکت اور چیئرمین سینیٹ جیسے دو اہم آئینی عہدوں کا پیپلز پارٹی کے پاس ہونا شاید اسی امکان کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا تھا کہ پاکستان کی سیاست میں حالات تیزی سے بدلتے رہتے ہیں اور اچھے یا برے دنوں کے بارے میں کوئی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی۔

حفیظ اللہ نیازی نے دعویٰ کیا کہ اگر زرداری خاندان کی جانب سے بیرونِ ملک قیام طویل کر دیا گیا یا پھر ’’نیم جلاوطنی‘‘ اختیار کی جاتی ہے تو اس کے نتیجے میں ریاست پر سیاسی دباؤ بڑھ جائے گا۔ ان کا کہنا یے کہ صدرِ زرداری کی طویل یا غیر معمولی بیرونِ ملک موجودگی ایک بین الاقوامی سیاسی معاملہ بن سکتی ہے اور موجودہ گھمبیر حالات میں ریاست شاید ایسے کسی اسکینڈل کی متحمل نہ ہو سکے۔ انہوں نے تاہم واضح کیا کہ وہ آصف زرداری کو ذاتی طور پر بہت زیادہ نہیں جانتے، لیکن ان کے سیاسی تجزیے اور فہم کے مطابق سندھ سے متعلق اہم معاملات، بالخصوص صوبے کی تقسیم اور چھ نئی نہروں کے معاملے پر زرداری کسی سودے بازی کا حصہ نہیں بنیں گے اور نہ ہی کسی ایسی ڈیل کو اپنے قریب آنے دیں گے۔

حفیظ نیازی کے مطابق جس طرح چھ نہروں کے معاملے پر پیپلز پارٹی نے مزاحمت کی، اسی طرح نئے یا چھوٹے صوبے بنانے کی کسی تجویز پر بھی اسٹیبلشمنٹ کو پیپلز پارٹی کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فوجی قیادت کو نئے صوبے بنانے کے منصوبے سے پیچھے ہٹنا ہوگا، جبکہ اس معاملے کو آگے بڑھانے کے لیے مبینہ طور پر میدان میں اتارے گئے سیاسی کرداروں کو بھی پیچھے ہٹانا پڑے گا۔ نیازی کے مطابق یہ لوگ ’’سیاسی ریس کے گھوڑے‘‘ نہیں اور سیاسی میدان میں ان کی کوئی خاص حیثیت نہیں، جبکہ ایسے معاملات پر عوامی حمایت بھی حاصل ہونا مشکل ہے۔

حفیظ اللہ نیازی نے 2015 سے 2017 کے سیاسی واقعات کو بھی موجودہ صورتِ حال سے جوڑا ہے۔ ان کے مطابق جب آصف زرداری 2015 میں کچھ عرصے کے لیے ملک سے باہر گئے تو 2017 میں وہ اپنی شرائط پر واپس آئے۔ نیازی کے مطابق اس عرصے میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کو عمران خان کو اقتدار کی مسند تک پہنچانے کے لیے آصف زرداری کی حمایت درکار تھی، جس کے بعد زرداری اور عمران نے مل کر کرپشن کے خلاف تحریک چلائی اور بعدازاں سینیٹ کے الیکش میں بھی مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کی۔
ان کے مطابق اسی سیاسی تعاون کے نتیجے میں ’’ایک زرداری سب پر بھاری‘‘ کے نعرے کے تحت سلیم مانڈوی والا کو سینیٹ میں کامیاب کرایا گیا۔

حفیظ اللہ نیازی نے پاکستان کی موجودہ سیاست کو انتہائی متحرک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملکی سیاست میں کوئی چیز بورنگ نہیں، کیونکہ ہر سیاسی رہنما کی حمایت یا مخالفت کے لیے مختلف حلقوں کے پاس اپنے اپنے دلائل موجود ہیں۔ ان کے مطابق اسٹیبلشمنٹ کو یہ سہولت ضرور حاصل ہے کہ وہ جس سیاسی رہنما کی انگلی پکڑ لے، وہ اس کے ساتھ چل پڑتا ہے، تاہم ان کے بقول عمران خان اور نواز شریف سیاسی طور پر ہمیشہ آسانی سے دستیاب رہیں گے، جبکہ آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمان کی ’’قیمت‘‘ ماضی میں بھی زیادہ رہی ہے اور مستقبل میں بھی انہیں سستا سیاسی فریق سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ نیازی کے اس تجزیے میں موجودہ سیاسی کشیدگی، سندھ کے مستقبل، صوبوں کی ممکنہ تقسیم اور صدر آصف زرداری کے بیرونِ ملک قیام کو ایک دوسرے سے جوڑتے ہوئے یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ آیا زرداری کا موجودہ یورپی دورہ محض نجی مصروفیات تک محدود ہے یا اس کے پس پردہ ملکی سیاست کے حوالے سے کوئی بڑی حکمتِ عملی بھی کارفرما ہے۔

Back to top button