عمران کی فوج کو تازہ وارننگ بھی ضائع کیوں جائے گی؟


سابق وزیراعظم عمران خان نے ایک مرتبہ پھر طاقتور فوجی اسٹبلشمنٹ پر دباؤ ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے پاس آخری موقع ہے کہ وہ اپنی غلطی کو سدھار لے اور کرپٹ حکومت کا ساتھ چھوڑ کر فوری الیکشن کروائے تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان اپنی باری لے چکے ہیں اور اب وہ جتنی مرضی دھمکیاں دے یا منت ترلہ کریں، اگلے الیکشن اپنے وقت پر اگلے سال ہی ہوں گے۔

یاد رہے کہ اقتدار سے بے دخلی کے بعد سے عمران مسلسل نیوٹرلز پر موجودہ حکومت کو ہٹانے اور فوری نئے الیکشن کروانے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں، لیکن ملک کی معاشی صورتحال ایسی نہیں ہے کہ فوری الیکشن کروائے جا سکیں۔ ویسے بھی موجودہ پارلیمنٹ کی معیاد اگست 2023 میں ختم ہونی ہے اور نئے الیکشن اکتوبر 2023 میں متوقع ہیں لیکن عمران خان پچھلے چار ماہ سے مسلسل سڑکوں پر ہیں اور نیوٹرلز کو ہدف بنا کر ان سے اپنی بات منوانے کے لیے الزامات کی بوچھاڑ کیے جا رہے ہیں تاہم عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اب کسی صورت دوبارہ عمران خان پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں ہوگی۔
سینئر صحافی اور تجزیہ کار انصار عباسی کے مطابق فوج کا اصرار ہے کہ وہ نیوٹرل ہے اور اسکا سیاسی جوڑ توڑ کی ماضی کی غلطیاں دوبارہ دوہرانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ لیکن عمران خان نے 18 اگست کو ایک تقریر میں فوج کو واضح انداز سے ایک مرتبہ پھر مداخلت کی دعوت دی۔انہوں نے نیوٹرلز کو ہزیمت کا شکار کرنے کی کوشش بھی کی اور کچھ پرانے الزامات دہرانے کے علاوہ کچھ نئے الزامات بھی عائد کیے، انہوں نے فوجی قیادت کو خبردار کیا کہ آپ کے پاس اب بھی اپنی پالیسی کا جائزہ لینے کیلئے وقت موجود ہے، انہوں نے الزام عائد کیا کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ نے حکومت میں بیٹھے ہوئے کرپٹ لوگوں کی حمایت کی ہے اور اس کو درست کیا جا سکتا ہے۔

تاہم دوسری جانب اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے واضح سارے آرہے ہیں کہ فوج اپنی غیر جانبداری برقرار رکھے گی اور اسکے ادارے پر کیچڑ اچھالنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا، جیسا کہ شہباز گل کے معاملے میں کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب عمران خان کے لیے مسائل میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے، ایک جانب عمران خان توشہ خانہ نا اہلی ریفرنس میں الیکشن کمیشن کے رحم و کرم پر ہیں تو دوسری جانب فارن فنڈنگ نا اہلی کیس میں بھی ان کو 30 اگست کو طلب کر لیا گیا ہے، قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ کہ نواز شریف کی نااہلی کے فیصلے کے عین مطابق صادق اور امین نہ رہنے پر عمران کی نااہلی بھی یقینی ہے کیونکہ ان پر اپنی جماعت کے بینک اکاؤنٹس چھپانے کا الزام ثابت ہو چکا ہے۔

تاہم عمران خان اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کو اگر نااہلی سے کوئی ادارہ بچا سکتا ہے تو وہی ہے جس پر وہ مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں، گزشتہ چار ماہ کے دوران انہوں نے اپنی توقعات ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے وابستہ کر رکھی ہیں اور اس مقصد کیلئے وہ ہر چال استعمال کر رہے ہیں۔ 18 اگست کو عمران نے نیوٹرلز کو یاد دلایا کہ آئی ایس آئی اُنہیں موجودہ حکومت میں موجود کرپٹ لوگوں کے کیسز کے بارے میں بتاتی رہی ہے لیکن پھر انہیں اقتدار میں بھی آنے دیا۔

تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ آئی ایس آئی میں کون لوگ انہیں یہ سب کچھ بتاتے رہے ہیں، وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے عمران خان سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر وہ سچے ہیں تو اس بندے کا نام بتائیں، اس سے پہلے عمران نے کسی کا نام لیے بغیر نیوٹرلز پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے ہی چیف الیکشن کمشنر کے عہدے پر سکندر سلطان راجہ کو لگانے کیلئے نام دیا تھا اور ضمانت دی تھی کہ یہ شخص مسئلہ نہیں کرے گا لیکن سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان کو حکومت میں لانے والوں اور بعد میں انکی ہر طرح سے مدد کرنے والوں پر ایسی تنقید انہیں ناقابل بھروسہ شخص بنا دیتی ہے لہذا اب ان کا چانس ختم ہو گیا لگتا ہے۔

انصار عباسی کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران عمران خان نے دکھا دیا ہے کہ وہ اپنے فائدے اور دوسرے کے نقصان کیلئے ہر طرح کی توجیہات پیش کر سکتے ہیں چاہے اُن میں وہ لوگ ہی شامل کیوں نہ ہوں جنہوں نے عمران خان کو قانونی طور پر یا غیر قانونی طور پر ماضی کی طرح فائدہ پہنچایا ہو۔ مبصرین سمجھتے ہیں کہ چاہے اسٹیبلشمنٹ اپنے ماضی کے متنازع کردار کی طرف واپس کیوں نہ لوٹ آئے، عمران خان وہ شخص نہیں بن پائیں گے جن پر دوبارہ کبھی بھروسہ کیا جا سکے۔

کہا جاتا ہے کہ عمران خان اسٹیبلشمنٹ کیلئے بھی ایک بڑا سبق ثابت ہوئے ہیں۔ عمران کے بے لگام انداز سے فوجی اسٹیبلشمنٹ پر حملے ان کی اپنی پارٹی کے رہنمائوں کیلئے سنگین تشویش کا باعث بن چکے ہیں لیکن پارٹی کے لوگ بھی بے بس ہیں، وہ آپس میں اس بات پر بحث و مباحثہ کرتے ہیں کہ عمران کو کیسے روکا جائے، کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو ان سے انتہائی محتاط رہنے کو بھی کہتے ہیں لیکن عمران خان کا بھی یہی خیال ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ پر دباؤ ڈال کر اسے اپنی حمایت پر مجبور کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

Back to top button