ڈرامہ ساز خلیل الرحمن قمر بھی جورو کے غلام نکلے

میڈٰیا پر اپنے رعب اوردبدبے سے خواتین کو ڈانٹ پلانے والے معروف ڈرامہ ساز خلیل الرحمن قمر بھی ’’جورو کے غلام‘‘ نکلے، انہوں نے ایک ٹی وی انٹرویو میں برملا اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ اہلیہ اور بیٹی سے ڈرتے ہیں، اور بیوی کے سامنے ان کی کوئی اوقات اور حیثیت نہیں ہوتی، انہوں نے بتایا کہ مجھے تو خرچے کے پیسے تک اہلیہ سے مانگنے پڑتے ہیں۔ انٹرویو کے دوران خلیل الرحمن قمر نے پہلی بار اپنی گھریلو زندگی سے متعلق بات کرنے کے علاوہ بیوی اور بیٹی کو بھی ساتھ بٹھایا، خلیل الرحمٰن قمر نے بتایا کہ جب وہ کم عمر تھے تو انہیں ذوالفقار علی بھٹو بہت ذہادہ پسند تھے اور ان کا لباس انہیں خصوصی طور پر پسند ہوتا تھا، ان کی خواہش ہوتی تھی کہ بھٹو جیسا کوٹ انہیں مل جائے تو ان کے مزے آ جائیں۔
ڈرامہ ساز نے بتایا کہ ان کے گھر میں صرف انکی اہلیہ کی حکمرانی چلتی ہے، انہوں نے بتایا کہ ماضی میں ان پر ان کی اہلیہ کافی سختیاں کرتی تھیں اور ان کے پاس سے کسی لڑکی کو گزرنے کی اجازت تک نہیں ہوتی تھی۔ مگر اب ایسا نہیں ہے، ان کے مطابق وہ کماتے ضرور ہیں مگر پیسے کا حساب کتاب ان کی اہلیہ رکھتی ہیں اور وہ ان سے اپنے اخراجات مانگتے ہیں۔ خلیل الرحمن قمر کا کہنا تھا کہ مہنگائی کے حساب سے ان کے اخراجات بڑھ چکے ہیں اور وہ اہلیہ سے ہر وقت پیسے مانگتے رہتے ہیں، ڈراما ساز کے مطابق اہلیہ کے سامنے ان کی کوئی عزت و اوقات نہیں، گھر میں ان کی اہلیہ کی مکمل حکمرانی چلتی ہے۔
دوران انٹرویو ان کی اہلیہ روبی خلیل نے بھی بات کی اور بتایا کہ پہلے دونوں ایک بینک میں ملازمت کرتے تھے، جس کے بعد شادی کرلی جسے اب 20 سال گزر چکے ہیں، روبی خلیل کے مطابق ان کے شوہر کی آئیڈیل عورت وہ خود ہیں اور انہیں دیکھ کر ہی شوہر خود مختار اور بولڈ عورت کا کردار تخلیق کرتے ہیں، انہوں نے بتایا کہ خلیل الرحمن قمر عورتوں کے موضوع پر لکھنے سے پہلے مجھ سے بھی مشورہ کرتے ہیں۔
ڈراما ساز کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ پہلے وہ زیادہ سخت ہوتی تھیں مگر اب وہ کچھ نرم مزاج کی ہوچکی ہیں جس وجہ سے اب عورتیں آ کر ان کے شوہر کے کندھوں پر بیٹھ جاتی ہیں، انہوں نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ عورتیں ان کے شوہر سے چپک جاتی ہیں۔ پروگرام کے دوران خلیل الرحمٰن کی اکلوتی بیٹی نوشاب خلیل نے بتایا کہ کسی بھی خاتون کا کردار لکھنے کے بعد والد انہیں وہ کہانی سناتے ہیں، انکشاف کیا کہ ان کے والد لکھتے وقت روتے رہتے ہیں اور ٹشو پیپر ہر وقت اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں خلیل الرحمٰن قمر نے بتایا کہ مستقبل میں ان کا پروڈکشن ہاؤس کھولنے کا ارادہ ہے اور اگر ایسا ہوا تو اس کی سربراہی ان کی بیٹی ہی کریں گی۔
