نواز شریف کو عمران کی نااہلی کی مخالفت کیوں کرنی چاہیے؟


سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے کہ عمران خان کو یہ تسلیم کرنا چاہئے کہ ان کی جانب سے میاں نواز شریف کی نااہلی کی حمایت کرنا ایک غلطی تھی اور نواز شریف کو بھی عمران خان کی نااہلی کی مخالفت کرنی چاہئے۔
معروف امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے لیے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں حامد میر کہتے ہیں کہ پاکستان 75 برس کا ہو گیا، یہ سالگرہ باعثِ مسرت ہونی چاہئے لیکن ساتھ ہی ہمیں اپنا محاسبہ بھی کرنا ہوگا، بہت سے پاکستانی ہماری اس کامیابی کو فخریہ بیان کرتے ہیں کہ ہم دنیا کی پہلی مسلمان ایٹمی طاقت ہیں لیکن یہ ایٹمی ہتھیار پاکستان کو کیسے بچائیں گے اگر ہمارے ادارے ہی برباد ہو رہے ہیں؟ فوج یقیناً طاقتور ہے لیکن ہماری پارلیمان، عدلیہ اور میڈیا دن بدن کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔
یہ ہمارے لئے باعثِ شرم ہے کہ 75 میں سے 32 سال ہم پر چار فوجی آمر حکمران رہے، باقی کے 43 برس میں 29 وزرائے اعظم نے حکومت کی، آج تک کسی وزیراعظم نے 5 برس پورے نہیں کیے، آزادی سے اب تک 3 مختلف آئین 5 مرتبہ توڑے جا چکے ہیں۔
حامد میر کہتے ہیں کہ یہ درست ہے کہ پاکستان 2007 کے بعد سے فوجی آمریت سے بچا ہوا ہے لیکن جمہوریت اب بھی انتہائی کمزور ہے، وہ کہتے ہیں کہ یہ کوئی راز نہیں کہ 2018 میں جرنیلوں نے الیکشن میں دھاندلی کر کے عمران خان کو اقتدار دیا۔
جب عمران خان سے پاکستان نہیں چل پایا تو فوج غیر جانبدار ہوگئی، رواں برس عمران خان نے اپنی حکومت بچانے کے لئے اسمبلی تحلیل کر کے ایک آئینی بحران کھڑا کر دیا لیکن بالآخر اسے ایک پارلیمانی تحریکِ عدم اعتماد کے ذریعے اقتدار سے علیحدہ کر دیا گیا چنانطہ اس نے امریکہ کو اپنی حکومت کے خاتمے کا ذمہ دار ٹھہرانا شروع کر دیا، خان نے فوجی قیادت کی غیر جانبداری کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور انہیں غدار قرار دیا، اس نے انہی جرنیلوں کو بلیک میل کر کے اقتدار میں واپس آنے کی کوشش کی جنہوں نے ماضی میں اس کو وزیراعظم بنایا تھا لیکن یہ حربہ کارگر نہ ہوا لیکن امریکہ مخالف بیانیے اور معاشی بحران نے اسے اپنی کھوئی ہوئی مقبولیت کو کسی حد تک بحال کرنے میں مدد ضرور دی۔
حامد میر کہتے ہیں کہ اب عمران کے سیاسی مخالفین انہیں توشہ خانہ ریفرنس اور ممنوعہ فنڈنگ کیس میں نااہل کرانا چاہتے ہیں، اس سے پہلے 2017 میں سپریم کورٹ نے تب کے وزیراعظم نواز شریف کو نااہل کر کے عمران کی وزارتِ عظمیٰ کے لئے راہ ہموار کی تھی چنانچہ موجودہ حکومت اب وہی سب کچھ دہرانا چاہتی ہے۔ اگر یہ جائز ہے تو بھی ایک اور مقبول رہنما کی نااہلی مزید سیاسی عدم استحکام پیدا کرے گی۔
پاکستانی عدلیہ کی ساکھ کوئی متاثر کن نہیں۔ پاکستان قانون کی حکمرانی کے اعتبار سے دنیا کے 139 میں سے 130ویں نمبر پر ہے۔ تاریخی طور پر آمروں اور ججوں کے اکٹھ نے ہماری جمہوریت کو کمزور کیا ہے۔ پاکستانی ججوں کو خود کو سیاست سے دور رکھنے کی ضرورت ہے۔
حامد میر کہتے ہیں کہ ایک جانب عمران خان فوج کی ‘غیر جانبداری’ کو چیلنج کر رہا ہے اور دوسری طرف حکومت عدالتوں سے عمران کو نااہل کروانے کی کوشش کر رہی ہے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں اداروں ہی سے لڑ رہے ہیں، طاقت کے کھلاڑیوں میں اس جنگ کی زد میں میڈیا کی آزادی بھی آ چکی ہے اور پاکستان آزسدی صحافت کے معاملے میں دنیا کے 180 ممالک میں 157ویں نمبر پر ہے۔ 2018 میں عمران خان کے حکمران بننے کے بعد اگلے چار سال میں پاکستان 18 پوائنٹس نیچے گر گیا تھا، ٹی وی چینل بند کیے گئے، حکومت کے ناقد صحافیوں پر حملے کیے گئے، ان کی گرفتاریاں ہوئیں اور ان پر پابندیاں بھی لگیں۔ عمران خان کے اقتدار سے نکلنے کے بعد بھی میڈیا کی آزادی کو خطرات لاحق ہیں۔
حامد میر یاد دلاتے ہیں کہ انہیں عمران دور حکومت میں جیو ٹی وی سے اف ایئر کر دیا گیا تھا کیونکہ انہوں نے اپنے ایک ساتھی صحافی پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے اس پر حملہ آور ہونے والوں کے خلاف سخت تقریر کی تھی، حامد کہتے ہیں کہ اس کے باوجود میں نے کبھی ملک نہیں چھوڑا۔ ماضی کے میرے نقاد آج خود ایسے ہی الزامات کی زد میں ہیں لیکن میں ابھی بھی ان کو خاموش کرانے کے حق میں نہیں۔ میڈیا کی آزادی جمہوریت کا ایک لازمی ستون ہے۔ ایسی جمہوریت کا تصور محال ہے کہ جس میں سماجی اور سیاسی مسائل کے حل کے لئے بڑے پیمانے پر مباحث نہ ہوتے ہوں۔ اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ انتقام ہمارے مسائل کا حل ہے۔ میں سمجھتا ہوں عمران خان کو یہ تسلیم کرنا چاہئے کہ نواز شریف کی نااہلی کی حمایت کرنا ایک غلطی تھی اور نواز شریف کو بھی عمران خان کی نااہلی کی مخالفت کرنی چاہئے۔

Back to top button