عمران کی گھڑی خریدنے والا ابFIAکے ریڈار پر

تحریک انصاف کی جانب سے عمر فاروق ظہور پر حکومت کے ہاتھوں عمران خان کے خلاف استعمال ہونے کا الزام تو عائد کیا جا رہا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ دبئی میں مقیم پاکستانی بزنس مین کے خلاف ایف آئی اے میں دائر کردہ کیسز ابھی تک زیرالتوا ہیں۔ ذرائع کے مطابق پاکستان سمیت ناروے، سوئٹزرلینڈ اور ترکی کو مختلف مالیاتی جرائم میں سال 2010 سے مطلوب عمر فاروق کے خلاف ایف آئی اے کی تحقیقات اب بھی جاری ہیں۔ سرکاری ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ایف آئی اے نے عمر فاروق ظہور کے خلاف فوجداری مقدمے ختم نہیں کیے ہے۔
یاد رہے کہ عمر فاروق ظہور نے سعودی ولی عہد کی جانب سے عمران خان کو تحفہ میں دی جانے والی گراف برانڈ کی قیمتی گھڑی 20 لاکھ ڈالرز میں خریدنے کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم عمران نے اس الزام کی تردید کی ہے اور خریدار اور جیو نیوز کے خلاف برطانیہ اور متحدہ عرب امارات کی عدالتوں میں مقدمہ دائر کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں ایف آئی اے عمر فاروق کے خلاف دائر کیسوں کی پیروی میں کافی سرگرم رہی لیکن اپریل میں مسلم لیگ(ن) کے برسراقتدار آنے کے بعد سے ایف آئی اے کی ان کیسز میں دلچسپی کم ہو گئی ہے۔ لیکن ابھی ان میں سے کوئی بھی کیس ختم نہیں ہوا اور ان میں پیش رفت جاری ہے۔ اس سے پہلے جنوری 2022 میں ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے نے شہزاد اکبر کے دباؤ پر عمر فاروق کو عالمی مالیاتی جرائم میں ملوث ہونے کے الزام پر متحدہ عرب امارات سے وطن واپس لانے کے لیے چار رکنی جے آئی ٹی تشکیل دی تھی۔ اسکے علاوہ ایف آئی اے کے دو سابق سربراہان بشیر میمن اور سعود مرزا سے بھی عمر فاروق کو سہولت فراہم کرنے کے الزام میں پوچھ گچھ کی گئی تھی۔ ایف آئی اے کو ڈائریکٹر انٹرپول نیشنل سینٹرل بیورو جوائنٹ سیکریٹری داخلہ اور وزارت خارجہ میں مشرق وسطیٰ کے ڈائریکٹر سے مل کر متحدہ عرب امارات کی حکومت کے ساتھ عمر ظہور اور شریک ملزم محمد زبیر کی حوالگی اور 2 کم سن بچیوں کی وطن واپسی کے حوالے سے اقدامات کرنا تھے۔
دوران تفتیش انٹرپول اسلام آباد کے ریکارڈ سے یہ بات سامنے آئی کہ ایف آئی اے کے اعلیٰ افسر نے اغوا ہونے والی کمسن بچیوں زینب عمر اور زونیرہ عمر کی تلاش اور وطن واپسی کے لیے جاری کیے گئے انٹرپول کے نوٹس واپس لے لیے ہیں۔ زینب عمر اور زنیرہ عمر کو ان کی والدہ ماڈل صوفیہ مرزا کی قانونی تحویل سے غیر قانونی طور پر نکال کر سفری دستاویزات پر بیرون ملک منتقل کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔
ایف آئی اے لاہور کی تحقیقات کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ عمر فاروق سے اس حوالے سے تفتیش کی جانی چاہیے تھی لیکن انٹرپول کے ریڈ وارنٹ کی واچ لسٹ میں ہونے کے باوجود انہیں 19-2018 میں ایف آئی اے کی جانب سے غیر قانونی طور پر پاکستان آنے اور جانے میں سہولت فراہم کی گئی۔ ایف آئی اے نے اس حوالے سے بھی تحقیقات کیں کہ سوئٹزرلینڈ میں ایک کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی رقم یا نورڈیا بینک فراڈ اوسلو 2010 سے حاصل کردہ 8 کروڑ 90 لاکھ کرونر کی رقم کا کوئی حصہ انہوں نے پاکستان میں منی لانڈرنگ کے ذریعے منتقل کیا یا نہیں۔
ایف آئی اے اس بات کی بھی تحقیقات کر رہا ہے کہ عالمی سطح پر مطلوب مفرور ملزم عمر ظہور 2017 سے 2019 کے درمیان کم از کم 32 بار پاکستان آنے میں کیسے کامیاب ہوا حالانکہ اس کے خلاف 2015 میں ریڈ نوٹس جاری کیا گیا تھا۔ تاہم یہ ریڈ نوٹس اب ختم ہو چکا ہے۔
