عمران کے بنی گالہ گھرپرتعینات مشکوک لوگ کون ہیں؟


وفاقی وزارت داخلہ نے چاروں صوبوں کے علاوہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی حکومتوں سے کہا ہے کہ وہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں قائم اپنے ہائوسز پر تعینات قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کریں کیونکہ ان کے مشکوک سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی اطلاعات آ رہی ہیں۔ اس کے علاوہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائش گاہ بنی گالہ کے باہر دوسرے صوبوں سے بلائی گئی سکیورٹی کے نام پر ڈیوٹی دینے والے اہلکاروں کے بارے میں بھی معلومات فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ عمران خان کے گھر کے باہر صوبہ خیر پختونخوا اور گلگت بلتستان کی پولیس کے علاوہ فرنٹیئر کانسٹیبلری کے درجنوں اہلکار بھی تعینات ہیں جن کے بارے میں وزارت داخلہ کو مکمل معلومات چاہییں۔ وزارت داخلہ کی طرف سے یہ اقدام اسلام آباد پولیس اور انتظامیہ کی طرف سے ان ہائوسز پر تعینات قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کچھ اہلکاروں کی تحریک انصاف کے 25 مئی کے احتجاج کے دوران مظاہرین کو مبینہ طور پر مدد فراہم کرنے اور مشکوک سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی اطلاعات کی بنیاد پر اٹھایا گیا ہے۔ یاد رہے کہ اسلام آباد میں پنجاب ہائوس، سندھ ہائوس، خیبر پختونخوا ہاؤس، بلوچستان ہاؤس، گلگت بلتستان ہاؤس اور کشمیر ہاؤس واقع ہیں اور ان ہاؤسز پر متعلقہ علاقوں کے پولیس اہلکار ہی تعینات ہوتے ہیں۔

اسلام آباد پولیس کے سربراہ ڈاکٹر اکبر ناصر نے وزارت داخلہ کو ایک خط لکھا ہے جس میں بالخصوص عمران خان کی رہائشگاہ کے باہر ملک کے دیگر حصوں سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی موجودگی سے متعلق رائے طلب کی گئی ہے۔

اسلام آباد پولیس کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اس خط کا مقصد یہ ہے کہ وہ اس بارے میں سرکاری طور پر معلومات حاصل کر سکیں کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کے اہلکار اسلام آباد پولیس کی اجازت اور ان کو مطلع کیے بغیر کیسے بنی گالہ میں جمع ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم کے گھر کے باہر خیبر پختونخوا پولیس، گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر پولیس کے جو اہلکار موجود ہیں، کم از کم انھیں وفاقی حکومت نے اسلام آباد پولیس کی معاونت کے لیے طلب نہیں کیا۔

اسکے علاوہ پولیس حکام کو یہ معلومات بھی درکار ہیں کہ ان میں سے کتنے پولیس اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کے اہلکار مختلف ہاؤسز پر کتنے عرصے سے تعینات ہیں۔ اس کے علاوہ ان اہلکاروں کے سروس ریکارڈ کے بارے میں بھی معلومات فراہم کی جانی چاہیے۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق خفیہ اداروں کی طرف سے کچھ ایسی رپورٹس بھی وزارت داخلہ کو بھیجی گئی ہیں کہ پنجاب اور سندھ کے علاوہ دیگر ہاؤسز اور بنی گالہ میں تعینات قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے 25 مئی کو تحریک انصاف کے لانگ مارچ میں اس جماعت کے کارکنوں کو ریڈ زون اور بلیو ایریا تک رسائی میں مدد فراہم کی تھی۔ واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے مختلف عوامی جلسوں میں اس بات کا برملا اظہار کیا تھا کہ ان کی جان کو خطرہ ہے جس کے بعد خیبر پختونخوا پولیس کے علاوہ گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی پولیس کے اہلکاروں کو سابق وزیر اعظم کی بنی گالہ رہائش گاہ کے باہر تعینات کر دیا گیا۔ ملک کے ان حصوں میں اس وقت تحریک انصاف کی حکومت ہے۔

قانون نافذ کرنے والے ان اداروں کے اہلکاروں کے علاوہ تحریک انصاف کے کارکنوں کی ایک قابل ذکر تعداد بھی بنی گالہ میں موجود ہے تاکہ اگر کوئی عمران کو گرفتار کرنے آئے تو اس کو روکا جا سکے۔ چند روز قبل اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں کی ایک قابل ذکر تعداد نے بنی گالہ اور اس کے گردونواح کے علاقوں میں سرچ آپریشن شروع کیا تھا تو پی ٹی آئی کے ان کارکنوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار بڑی تعداد میں وہاں پر اکٹھے ہو گئے تھے، جن میں زیادہ تر سادہ کپڑوں میں ملبوس تھے اور جس کے بعد اسلام آباد پولیس نے یہ سرچ آپریشن مؤخر کر دیا تھا۔

اسلام آباد پولیس کے ذرائع بتاتے ہیں کہ پولیس اور ایف سی نے وزارت داخلہ کی اجازت اور اسلام آباد پولیس کو مطلع کیے بغیر سابق وزیر اعظم عمران خان کے گھر کے باہر کیمپ لگائے ہوئے ہیں۔اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ اگر سابق وزیر اعظم کسی مقدمے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب ہوں اور پولیس اہلکار انھیں گرفتار کرنے کے لیے بنی گالہ جائیں تو کم از کم پولیس اہلکاروں کو یہ تو معلوم ہو کہ وہاں پرسکیورٹی کے نام پر تعینات قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار کون ہیں اور وہ کتنے عرصے سے یہاں پر تعینات ہیں۔ پولیس ذرائع یہ بھی خدشتہ ظاہر کر رہے ہیں کہ ایسے حالات میں کہیں یہ نہ ہو کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار ایک دوسرے پر ہی اسلحہ تانے ہوئے کھڑے ہوں۔

یاد رہے کہ عمران خان کے خلاف اسلام آباد کے مختلف تھانوں میں دس سے زائد مقدمات درج ہیں جن میں انھوں نے پشاور ہائی کورٹ سے راہدری ضمانت حاصل کر رکھی ہے۔ یاد رہے کہ 25 مئی کے لانگ مارچ کے بعد عمران پشاور میں خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کے سرکاری گھر میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ عمران خان کی اپنی جان کو درپیش مبینہ خطرے کے دعوے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے وزارت داخلہ کو کپتان کو فول پروف سکیورٹی فراہم کرنے کا حکم دیا تھا جس کے بعد وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے درجنوں پولیس اہلکاروں کو سابق وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے باہر تعینات کیا جبکہ رینجرز کے اہلکار اس کے علاوہ ہیں۔

Back to top button