شاہ زیب خانزادہ کی عمران خان کے خلاف بھرپور چارج شیٹ


عمران خان کے حالیہ پاکستان مخالف بیانات پر رد عمل دیتے ہوئے جیو نیوز کے معروف اینکر پرسن شاہزیب خانزادہ نے سابق وزیراعظم کو ایک خود پسند انسان قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اصل میں اسٹیبلشمنٹ سے یہ کہہ رہے کہ ان کو کسی بھی طرح اقتدار میں واپس لایا جائے ورنہ پاکستان ٹوٹ کر تین حصوں میں بٹ جائے گا اور فوج تباہ و برباد ہو جائے گی۔شاہزیب کے بقول تحریک انصاف کے اندر شخصیت پرستی کا جو کلچر بن چکا ہے، اس میں بہت کم لوگ ایسے ہیں جو عمران خان سے اختلاف کر سکیں اور انہیں پاکستان مخالف گفتگو کرنے سے روک پائیں۔

جیو نیوز سے گفتگو میں شاہ زیب کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے چند ایک رہنما میڈیا کے سامنے یا آف دی ریکارڈ تو پھر بھی کھل کر بات کر لیتے ہیں لیکن وہ عمران کے سامنے سچ بولنے سے گھبراتے ہیں۔ انہوں نے اس طرح کے لوگوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے کپتان کے سامنے بھی سچ بولیں اور انہیں سمجھائیں کہ وہ ملک کو انتشار کی طرف دھکیلنے کی بجائے کچھ وقت انتظار کر لیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ عمران نے قومی مفادات کو اپنی ذات سے منسلک کر دیا ہو۔ بقول شاہزیب، آپ 2014 کا دھرنا یاد یکھ لیجئے، عمران خان اس وقت کہتے تھے کہ بیرون ملک پاکستانی ہنڈی اور حوالے کے ذریعے پاکستان رقم بھیجیں۔ تب انہوں نے نواز شریف حکومت کے خلاف بغاوت کا اعلان کرتے ہوئے عوام سے کہا تھا کہ وہ بجلی اور گیس کے بلوں کی ادائیگیاں نہ کریں بلکہ ان کو آگ لگا دیں، انہوں نے یہ بھی کہا کہ عوام ٹیکس دینا بند کر دیں۔ اب خان صاحب دوبارہ سے اسی روش پر چل نکلے ہیں۔

شاہزیب کے بقول 2014 میں بھی عمران کی جانب سے اس طرح کی گفتگو کے بعد یہ سوال اٹھایا گیا تھا کہ آیا وہ نواز شریف کیخلاف بغاوت کی کال دے رہے ہیں یا پاکستان سے باغی ہونے کا اعلان کر رہے ہیں چونکہ ان کے کہنے پر چلا جاتا تو ملک کے لئے مسائل پیدا ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بیرون ملک مقیم پاکستانی ہنڈی حوالے کے ذریعے رقم پاکستان بھیجیں گے، بجلی، گیس اور پانی کے بل اور ٹیکس دینا بند کردیں گے تو اس سے کسی اور کا نہیں بلکہ پاکستان کا نقصان ہوگا۔ شاہ زیب خانزادہ نے کہا کہ اب دوبارہ سے وہی مطالبات سامنے آ رہے ہیں لیکن عمران خان کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ آخر چاہتے کیا ہیں۔ وہ بار بار یہ باتیں تو دہراتے ہیں کہ مجھے اللہ تعالیٰ سب کچھ دے چکا ہے اور مجھے اقتدار کی قطعی ضرورت نہیں، مگر اس کے برعکس انہوں نے یہ بارہا ثابت کیا ہے کہ اس ملک میں اقتدار کی اگر کسی کو سب سے زیادہ چاہت ہے تو وہ خود عمران ہی ہیں جو اقتدار میں آنے کی خاطر کچھ بھی کرنے کیلئے تیار ہیں۔ بقول شاہزیب یہ بات انہوں نے 2014ء میں ثابت کی۔ وہ پارلیمنٹ پر چڑھ دوڑے، پی ٹی وی پر حملہ کیا۔ ان کی عارف علوی کیساتھ فون کال لیکڈ ہوئی جس میں وہ ریاستی اداروں پر حملہ آور ہونے کی منصوبہ بندی کرتے سنائی دیتے ہیں۔

شاہزیب کے بقول عمران خان اسٹیبلشمنٹ سے کہہ رہے کہ ان کو کسی بھی طرح اقتدار میں واپس لے کر آئے ورنہ ملک ٹوٹ جائے گا اور فوج تباہ و برباد ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ باتیں ملک و قوم کیلئے کسی طور پر ٹھیک نہیں۔ خاص طور پر ایسے سیاستدان کو یہ باتیں کرنا زیب نہیں دیتا جو کروڑوں ووٹ لے کر وزیر اعظم بھی بن چکا ہو۔ عمران خان کو سمجھنا چاہیے کہ اگر عوام نے ان پر اعتبار کیا ہے تو اس کو ٹھیس نہیں پہنچانی چاہیے۔ شاہ زیب نے کہا کہ عمران کو سٹیٹ ایکٹر کی طرح چلنا چاہیے نہ کہ نان سٹیٹ ایکٹرز والا رویہ اختیار کیا جائے جو آئین اور قانون کو تسلیم نہیں کرتے۔

شازیب خانزادہ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اقتدار سے بے دخل ہونے کے بعد دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کی خاطر عمران کھلم کھلا قومی اداروں سے سیاست میں مداخلت کرنے کا کہہ رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ جمہوری حکومت کسی طور بھی نہیں چلنی چاہیے، وہ اسٹیبلشمنٹ سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ پارلیمنٹ کے اندر سے تبدیلی لا کر اقتدار میں آنے والی جمہوری حکومت کا خاتمہ کر دیا جائے اور انہیں دوبارہ وزیراعظم کی کرسی پر بٹھا دیا جائے۔ موصوف یہ دھمکی بھی دے رہے ہیں کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو ملک تین ٹکڑے ہو سکتا ہے۔

شاہزیب نے کہا کہ عمران خان ملکی معیشت کی بربادی کا رونا روتے ہوئے اس کا ذمہ دار موجودہ حکومت کو قرار دے رہے ہیں حالانکہ حقیقت میں اس وقت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں جو ہوشربا اضافہ کیا جارہا ہے وہ اس معاہدے کی وجہ سے ہے جو عمران خان حکومت نے خود آئی ایم ایف کے ساتھ کیا تھا۔ عمران خان ملک کو آئی ایم ایف کے پروگرام میں چھوڑ کر چلے گئے لیکن اب دعویٰ یہ کرتے ہیں کہ میں نے بہترین معیشت چھوڑی تھی۔ بقول شاہزیب، خان صاحب جب اقتدار میں آئے تھے تو ملک کو معاشی مسائل ضرور درپیش تھے لیکن وہ آئی ایم ایف کے پروگرام میں نہیں تھا۔ تاہم اپنے پونے چار سالہ دور اقتدار میں آئی ایم ایف سے ریکارڈ قرضے لینے والے عمران خان آج اپنی ناکامیوں اور نااہلی کا مدعا موجودہ حکومت پر ڈالنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ شاہزیب کا کہنا تھا کہ عمران کو سب سے پہلے پاکستان کے نعرے پر عمل کرنا چاہیے بجائے کہ سب سے پہلے عمران کا نعرہ لے کر ریاست پاکستان پر چڑھ دوڑیں۔

Back to top button