عمران کے مستقبل کا فیصلہ نواز اور زرداری کرینگے

ملکی سیاسی حلقوں میں آئندہ انتخابات میں پیپلزپارٹی اور نون لیگ میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی بازگشت سنائی دے رہی ہے جبکہ یہ خبریں بھی زیر گردش ہیں کہ پیپلز پارٹی اور نون لیگ کے قائدین دبئی میں یہ طے کرینگے کہ آیا تحریک انصاف پر آئندہ انتخابات میں پابندی عائد کرنی ہے یا انھیں الیکشن لڑنے کی اجازت ہو گی۔ یعنی عمران خان کے آئندہ کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ نواز شریف اور آصف زرداری باہمی مشاورت سے کرنے جا رہے ہیں۔ تاہم دوسری طرف سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہےکہ پیپلز پارٹی اورن لیگ میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی خبریں غلط ہیں.شاہزیب خانزادہ سے دبئی میں اہم سیاسی ملاقاتوں پر گفتگو کرتے ہوئے حامد میر نے کہا کہ دبئی میں اہم سیاسی ملاقاتیں پاکستان میں مس انڈراسٹینڈنگ اور اختلافات دور کرنے کیلئے ہیں۔ نواز شریف کو ابھی یہی کلیئر نہیں کہ 2023ء میں الیکشن ہوں گے یا نہیں ہوں گے، نواز شریف یہ کلیئر ہونے کے بعد ہی پاکستان آنے کی منصوبہ بندی کریں گے کہ الیکشن کب ہوں گے۔حامد میر کا مزید کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اورن لیگ میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی خبریں غلط ہیں، ابھی صرف علیک سلیک ہوئی ہے تفصیلی ملاقاتیں بعد میں ہوں گی، ایک سینئر رہنما کی دوسرے سینئر رہنما کے ساتھ کھانا کھانے کی خبرچل رہی تھی، اس سینئر رہنما کا کہنا ہے کہ جو کھانا میں کھاتا ہوں دوسرا رہنما وہ نہیں کھاسکتا، ہوسکتا ہے ہم ایک دوسرے کے ساتھ مل کر چائے پی لیں مگر کھانا نہیں کھاسکتے۔
موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے حامد میر کا مزید کہنا تھاکہ عمران خان صورتحال کی نزاکت کو سمجھ نہیں رہے ہیں، کچھ لوگ انہیں یقین دلارہے ہیں سپریم کورٹ معاملہ الٹادے گی حامد میر نے کہا کہ میرا اصولی موقف ہے کہ مقدمات سویلین عدالتوں میں چلنے چاہئیں، جب سوال کیا جاتا ہے کیا سویلین عدالتوں میں نو مئی کے مقدمات کا تین چار مہینے میں کوئی نتیجہ نکل آئے گا تو میرے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا، چیئرمین تحریک انصاف نے اپنے لئے مشکلات کو دعوت دی ہے، کچھ لوگوں نے انہیں مس گائیڈ کیا کہ وہ بہت مقبول رہنما ہیں۔
دوسری جانب مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت نے گزشتہ روز دبئی میں ملاقات کی، اطلاعات زیرگردش ہیں کہ اتحادی جماعتیں ملک میں اگلے عام انتخابات کا وقت اور آئندہ سیٹ اپ میں اپنا اپنا حصہ طے کرنے کے حوالے سے مشاورت کر رہی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں دونوں جماعتوں کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے تفصیلی غور کے بعد اگلے عام انتخابات کے حوالے سے پیدا ہونے والی غیر یقینی جلد ختم ہو سکتی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ نواز شریف اور آصف علی زرداری نے کئی اہم امور پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے ملاقات کی، ان میں نگران سیٹ اپ کے لیے ناموں کو حتمی شکل دینا اور یہ فیصلہ کرنا بھی شامل تھا کہ اگر اگلے عام انتخابات میں دونوں جماعتوں نے فتح حاصل کرلی تو کس کے حصے میں کون کون سے اہم عہدے آئیں گے۔ اندرونی ذرائع نے بتایا کہ یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ دونوں جماعتوں کے بڑے، یعنی نواز شریف اور آصف زرداری ان ایشوز پر براہ راست بات چیت کریں گے اور نچلی سطح پر ان امور پر طویل بحث سے گریز کیا جائے گا کیونکہ وہ وقت کا ضیاع ہوگا۔
نواز شریف کی بیٹی مریم نواز اور آصف زرداری کے بیٹے بلاول بھٹو پہلے ہی دبئی میں موجود ہیں، امکان ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف بھی ملاقاتوں کا حصہ بننے کے لیے وہاں پہنچیں گے۔
مسلم لیگ (ن) کے اندرونی ذرائع نے بتایا کہ نواز شریف اور آصف زرداری کی ملاقات کا بنیادی ایجنڈا اکتوبر یا اس کے بعد ہونے والے انتخابات تھے، اگر انتخابات اپنے مقررہ وقت پر ہوتے ہیں تو مرکز میں نگران سیٹ اپ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی مرضی سے مولانا فضل الرحمٰن کو آن بورڈ لے کر منتخب کیا جائے گا۔پارٹی کے سینیئر رہنما نے کہا کہ دونوں قائدین نے پاکستان کو درپیش مجموعی اقتصادی چیلنجز اور آئی ایم ایف معاہدے کے حوالے سے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
ذرائع کے مطابق دونوں رہنماوں کی ملاقاتوں کا سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک 3 بڑے معاملات پر اتفاق رائے نہیں ہو جاتا، ان میں عام انتخابات کی تاریخ اور نگران سیٹ اپ کے علاوہ یہ فیصلہ بھی شامل ہے کہ دونوں جماعتیں آئندہ عام انتخابات میں علیحدہ علیحدہ طور پر میدان میں اتریں گی یا سیٹ ایڈجسٹمنٹ کریں گی۔
پیپلزپارٹی کے ایک سینیئر رہنما نے کہا کہ آصف زرداری اپنے بیٹے کو اگلا وزیر اعظم دیکھنا چاہتے ہیں، اس لیے شاید دونوں رہنما اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ معاملات کے حوالے سے ایک پیج پر نہ ہوں۔انہوں نے کہا کہ 9 مئی سے پہلے پی ٹی آئی کے خلاف حکمت عملی کے حوالے سے آصف زرداری اور نواز شریف کے درمیان مکمل اتفاق تھا لیکن اب بظاہر پی ڈی ایم کی نظر میں عمران خان آئندہ انتخابات سے جڑے منظرنامے میں غیرمتعلق ہوگئے ہیں اس لیے اب دونوں فریق بہت احتیاط سے اپنے اپنے کارڈ کھیل رہے ہیں تاکہ مستقبل کے سیٹ اپ میں زیادہ سے زیادہ حصہ حاصل کرسکیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے مستقبل پر بھی بات چیت کے علاوہ اس سوال کا بھی جواب ڈھونڈا جائے گا کہ پی ٹی آئی کو آئندہ انتخابات لڑنے کا موقع دیا جائے یا اسے مکمل طور پر میدان سے باہر کردیا جائے۔
دریں اثنا پیپلزپارٹی کے ایک اور رہنما نے بتایا کہ دونوں جماعتوں کے رہنما دبئی میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ عید منائیں گے، اس دوران انہیں یہ مسائل حل کرنے کے لیے کافی وقت ملے گا، متعدد ملاقاتیں ہوں گی اور بلاول بھٹو اور مریم نواز بھی وہاں موجود ہیں، انہیں بھی آن بورڈ لیا جائے گا، ان ملاقاتوں میں جو بھی فیصلہ یا تجویز پیش کی جائے گی اسے حتمی سمجھا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ایک اور نکتہ جس پر تاحال باہمی اتفاق نہیں ہوا لیکن امکان ہے کہ آصف زرداری اس معاملے کو زیر بحث لائیں گے وہ اگلے عام انتخابات میں پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہے، وہ یقینی طور پر یہ چاہیں گے کہ مسلم لیگ (ن) پنجاب کے کچھ حلقوں میں پیپلزپارٹی کے چند بڑے ناموں کی حمایت پر غور کرے، ہمیں نہیں معلوم کہ اس کے بدلے میں آصف زرداری میاں صاحب کو کیا پیشکش کریں گے۔
رہنما پیپلزپارٹی نے کہا دونوں جماعتوں کے قائدین نے حکمران اتحاد کے درمیان کسی بھی تنازع، اختلاف یا جھگڑے کے تاثر سے بچنے کے لیے ان معاملات کو اٹھانے اور حل کرنے کا فیصلہ کیا۔
ان ملاقاتوں کے حوالے سے میڈیا پر چہ مگوئیاں جاری رہیں تاہم مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی، دونوں کے میڈیا ونگز اس حوالے سے خاموش رہے۔جے یو آئی (ف) کی جانب سے بھی اس بارے میں کوئی بات نہیں کی گئی کہ سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمٰن اہم مذاکرات میں شرکت کے لیے دبئی کیوں نہیں جا رہے، تاہم یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اگر وہ دبئی نہ بھی جائیں تو بھی یہ امکان موجود ہے کہ وہ ویڈیو لنک کے ذریعے ان ملاقاتوں کا حصہ بنیں۔
