عمر اکمل پاکستان کرکٹ کا ’بیڈ بوائے‘

پاکستانی کرکٹر عمر اکمل اپنی میدان میں کارکردگی کے بجائے تنازعات کی وجہ سے جانے پہچانے جاتے ہیں۔ سنہ 2009 میں انہوں نے جب اپنے پہلے ہی ٹیسٹ میچ میں سنچری اسکور کی اس وقت ماہرین نے خیال ظاہر کیا کہ وہ مستقبل میں بھی شاندار کارکردگی دکھائیں گے لیکن بدقسمتی سے وہ اپنے کیرئیر میں ٹیلنٹ کے بجائے اپنی ذات سے منسوب تنازعات کی وجہ سے یاد رکھے جاتے رہے ہیں۔ عمر اکمل ان دنوں دوبارہ خبروں کی زینت بن گئے ہیں اور اس بار بھی وجہ ایک تنازع ہی ہے۔
گزشتہ دنوں لاہور میں قومی کرکٹ اکیڈمی میں فٹنس ٹیسٹ کے دوران ان کے مبینہ نامناسب رویے کی شکایت پاکستان کرکٹ بورڈ کو موصول ہوئی اور وہ اس صورت حال کا جائزہ لے کر یہ فیصلہ کرے گا کہ کیا واقعی عمر اکمل نے فٹنس ٹیسٹ کے دوران کوچنگ اسٹاف کے ساتھ بدتمیزی کی یا نہیں ؟
عمر اکمل کے بارے میں پتہ چلا ہے کہ وہ دو مرتبہ یو یو ٹیسٹ پاس نہ کرسکے جس کے بعد جب ‘اسکن فولڈ ٹیسٹ’ کا موقع آیا تو انہوں نے مبینہ طور پر ٹرینر سے بدتمیزی کی اور اپنے کپڑے اتار دیے۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ عمر اکمل کے بارے میں اس طرح کی شکایت سامنے آئی ہے بلکہ ان کا کریئر اس طرح کے واقعات سے بھرا پڑا ہے۔ ہم یہاں پر ان کے رویے اور ان کی فٹنس کے حوالے سے پیدا ہونے والے ماضی کے چند تنازعات پر نظر ڈالتے ہیں۔
عمر اکمل نے اپنا ڈیبو نیوزی لینڈ کے خلاف کیا تھا جہاں انہوں نے سنچری اسکور کی۔ اس کے بعد پاکستان کی ٹیم دورہ آسٹریلیا پر گئی جہاں عمر اکمل کی پہلے دو میچوں میں کارکردگی مناسب تھی مگر پاکستان سیریز میں شکست کھا چکا تھا۔
مگر ان کے بڑے بھائی اور وکٹ کیپر کامران اکمل کی انتہائی ناقص پرفارمنس پر انہیں آخری میچ کےلیے ڈراپ کرنے کا اعلان کیا گیا تو بعد میں اپنا پانچواں میچ کھیلنے والے عمر اکمل نے مبینہ طور پر بھائی کے ڈراپ ہونے پر بطور احتجاج انجری کا بہانہ کیا اور کہا کہ وہ تیسرا میچ نہیں کھیلیں گے۔
بعد میں انہوں نے میچ تو کھیلا لیکن کرکٹ بورڈ نے ان پر جرمانہ عائد کر دیا۔ یہ عمر اکمل کے کیرئیر میں پہلا موقع تھا جب انہیں ڈسپلن کے حوالے سے سزا دی گئی تھی۔
بھارت میں منعقدہ 2016 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے دوران جب سابق کرکٹر اور پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے پاکستانی ٹیم کے ہوٹل جاکر تمام کھلاڑیوں سے ملاقات کی تھی تو عمر اکمل نے حیران کن طور پر سب کے سامنے عمران خان سے یہ شکایت کردی کہ ٹیم منیجمنٹ انہیں بیٹنگ آرڈر میں اوپر کے نمبر پر نہیں کھلارہی ہے۔
ورلڈ کپ کے بعد پاکستانی کرکٹ ٹیم کے اس وقت کے بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور نے عمر اکمل پر تنقید کی اور کہا تھا کہ نیوزی لینڈ کےخلاف میچ میں انہوں نے باؤنڈری لگانے کی کوشش ہی نہیں کی جس کی ٹیم کو اشد ضرورت تھی۔
سنہ 2015 میں ایک روزہ کرکٹ کے عالمی کپ کے بعد ہیڈ کوچ وقاریونس نے اپنی رپورٹ پاکستان کرکٹ بورڈ کو دی جس میں انہوں نے عمر اکمل اور احمد شہزاد کے مبینہ غیر سنجیدہ رویوں کے بارے میں منفی ریمارکس تحریر کیے تھے۔
وقاریونس نے اپنی رپورٹ میں واضح طور پر تحریر کیا تھا کہ ایک عمر اکمل کو قربان کر کے ہم ایسے دوسرے کھلاڑیوں کو تیار کرسکتے ہیں جو کہ صحیح معنوں میں پاکستان کا ستارہ سینے پر سجا کر ملک کی نمائندگی کرنے میں فخر محسوس کریں گے۔
سنہ 2017 کی چیمپئنز ٹرافی سے قبل ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے عمر اکمل کی فٹنس پر مکمل عدم اطمینان ظاہر کرتے ہوئے انہیں انگلینڈ سے وطن واپس بھیج دیا تھا۔
دونوں کے درمیان اختلافات اس قدر شدید ہوگئے تھے کہ عمر اکمل نے ایک پریس کانفرنس میں مکی آرتھر پر مبینہ طور پر نامناسب زبان میں گفتگو کا الزام عائد کردیا جس کی مکی آرتھر نے تردید کی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے عمر اکمل کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا تھا۔
عمر اکمل پاکستان سپر لیگ کے پہلے ایڈیشن میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹسمین تھے لیکن اگلے دو ایونٹس میں وہ بری طرح ناکام رہے۔
اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ لاہور قلندر نے انہیں تیسری پی ایس ایل کے دوران نہ صرف آخری پانچ میچوں کی ٹیم سے ڈراپ کیا بلکہ انہیں بنچ پر بھی نہیں بیٹھنے دیا۔
لاہور قلندر کی انتظامیہ نے اگرچہ اس بارے میں محتاط رویہ اختیار کیے رکھا لیکن کپتان برینڈن مک کلم نے عمر اکمل کو ایک پیچیدہ شخص قرار دے دیا اور کہا کہ ان میں ٹیلنٹ ضرور ہے لیکن ان کے ساتھ مسائل بھی بہت ہیں۔
عمر اکمل نے دو سال قبل ایک ٹی وی انٹرویو میں یہ دعوی کیا کہ انھیں 2015 کے عالمی کپ میں بھارت کے خلاف میچ سے قبل اسپاٹ فکسنگ میں شریک ہونے کی پیشکش ہوئی تھی۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان کے اس دعوے کا نوٹس لیتے ہوئے انھیں اپنے اینٹی کرپشن یونٹ کے سامنے پیش ہونے کے لیے کہا ۔آئی سی سی نے بھی اس بارے میں اپنی تحقیقات شروع کردی تھی جو ابھی ختم نہیں ہوئی ہے ۔
عمر اکمل نے گزشتہ سال کینیڈا میں ہونے والی لیگ کے موقع پر اسی طرح کا دعوی کردیا اور اس بار انہوں نے سابق پاکستانی ٹیسٹ کرکٹرمنصور اختر کا نام لیا تھا جس کے بعدآئی سی سی کے انٹی کرپشن یونٹ نے منصور اختر سے پوچھ گچھ کی تھی۔
گزشتہ سال ورلڈ کپ سے قبل آسٹریلیا کے خلاف کھیلی گئی ون ڈے سیریز میں عمر اکمل کے لیے بہترین موقع تھا کہ وہ اچھی کارکردگی دکھاکر ورلڈ کپ کی ٹیم میں آجائیں۔
لیکن سیریز کے دوران رات گئے ٹیم ہوٹل سے باہر رہ کر کرفیو ٹائمنگ کی خلاف ورزی کرنے کا خمیازہ انھیں بھگتنا پڑا۔
اس سیریز میں بھی ان کی بیٹنگ کارکردگی بھی مایوس کن رہی اور وہ ورلڈ کپ کھیلنے سے محروم رہ گئے۔
عمر اکمل کو نومبر 2015 میں حیدرآباد میں ایک ڈانس پارٹی کے دوران پولیس حراست میں لے کر تھانے لی گئی تھی تاہم بعدازاں انھیں اس واقعے میں کلیئر کردیا گیا تھا۔
چند ماہ بعد اپریل 2016 میں عمر اکمل فیصل آباد میں ایک اسٹیج ڈرامہ دیکھنے کے دوران تھیٹر کی انتظامیہ سے جھگڑے کے سبب شہ سرخیوں میں آئے تھے۔
اگرچہ انہوں نے کسی جھگڑے سے انکار کیا تھا تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس بارے میں تحقیقات کا اعلان کرتے ہوئے سی سی ٹی وی فوٹیج سے مدد لینے کا فیصلہ کیا تھا۔
عمر اکمل دو مرتبہ لاہور میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر ٹریفک وارڈن سے الجھ چکے ہیں۔ پہلا واقع فروری 2014 میں پیش آیا جب ٹریفک وارڈن کے ساتھ نامناسب گفتگو کرنے پر ان کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی گئی تھی اور انہیں پولیس اسٹیشن لے جایا گیا تھا۔
اس کے بعد مارچ 2017 میں دوسرے واقعے میں ان پر اپنی گاڑی پر فینسی نمبر پلیٹ لگانے کا الزام تھا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے 2016کی قائداعظم ٹرافی کے موقع پر عمر اکمل کو ایک میچ کے لیے معطل کیا کیونکہ انہوں نے پی سی بی کے کھیلوں کا سامان اور کپڑوں کے استعمال کے بارے میں قواعد وضوابط کی خلاف ورزی کی تھی۔
پی سی بی کے مطابق انہوں نے میچ کے دوران ایک ایسا ٹراؤزر پہنا تھا جس پر ایک غیرمنظور شدہ برانڈ کا لوگو نمایاں تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button