عمر بھر انصاف بانٹنے والے جسٹس وقارسیٹھ کو انصاف نہ مل سکا


تمام زندگی آئین اور قانون کا تحفظ کرنے اور کمزوروں اور مظلوموں کو انصاف دینے والے پشاورہائی کورٹ کے باضمیر اور قابل تعظیم جج جسٹس وقار احمد سیٹھ خود انصاف کے انتظار میں اس دنیا سے چلے گئے لیکن نہ تو انہیں سینئر ترین چیف جسٹس ہونے کے باوجود سپریم کورٹ کا جج بنایا گیا اور نہ ہی اس حوالے سے چیف جسٹس آف پاکستان نے ان کی دائر کردہ پٹیشن کی سماعت کی۔
پشاور ہائیکورٹ کے مرحوم چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ نے سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کر رکھی تھی جس میں یہ موقف اختیار کیا گیا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ کے جونیئر جج صاحبان کو سپریم کورٹ کا جج بنا کر ان کی حق تلفی کی گئی ہے۔ سینیئر وکیل حامد علی خان کے ذریعے دائر کردہ یہ پٹیشن سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے نام تھی جو کہ سپریم جوڈیشل کمیشن کے چیئرمین بھی ہیں۔ یہ کمیشن اعلی عدلیہ میں ججز کا تقرر کرنے کے ساتھ ساتھ سینیارٹی کے حساب سے ان کو عدالتِ عظمی میں تعینات کرنے کے بارے میں فیصلے کرتا ہے۔ مارچ 2020 میں دائر کردہ پٹیشن میں کہا گیا تھا کہ ان سے جونیئر لاہور ہائی کورٹ کے تین ججز کو عدالتِ عظمی میں تعینات کر کے ہائی کورٹ سے سپریم کورٹ میں تعیناتی کے وضع کردہ طریقہ کار کی کھلم کھلا نفی کی گئی ہے کیونکہ یہ حق ہائی کورٹ کے سینئر ترین جج کا ہوتا ہے جو ان کے سوا اور کوئی نہیں۔
یاد رہے کہ جسٹس وقار احمد سیٹھ ہائی کورٹ کے سینئر ترین جج تھے اور سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد سے سپریم کورٹ میں ہونے والی تینوں تقرریوں کے وقت ان کو نظر انداز کیا گیا اور سینیارٹی کے اصول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کے تین جونیئر ججز کو عدالت عظمی میں ترقی دی گئی۔ بظاہر ایسا فوجی اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ کے تحت کیا گیا جس نے جنرل مشرف کی پھانسی کا فیصلہ آنے کے بعد اپنے ترجمان کے ذریعے اس فیصلے کی مذمت کی تھی اور کہا تھا کہ ایک سابق آرمی چیف کسی صورت غدار وطن ہو ہی نہیں سکتا چاہے وہ کتنی مرتبہ بھی ملک کا آئین توڑے۔ فوجی ترجمان کا موقف تھا کہ ایک سابق آرمی چیف کو موت کی سزا سنانا پوری فوج کی توہین ہے۔ تاہم فوجی ترجمان یہ بھول گئے کہ جس شخص کو موت کی سزا سنائی گئی اسے آئین پاکستان کے تحت آیئن شکنی پر غدار وطن قرار دیا گیا تھا اور اس نے آئین پاکستان کی توہین کی تھی جو کسی بھی ادارے اور فرد سے بڑا ہوتا ہے۔ بعد ازاں حکومتی وزراء نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے جسٹس وقار سیٹھ کو ذہنی طور پر مفلوج قرار دے دیا تھا اور ان کے خلاف نااہلی کا ریفرنس لانے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم بار ایسوسی ایشنز کے دباو کے پیش نظر حکومت بظاہر اپنے اس اعلان سے پیچھے ہٹ چکی تھی لیکن جسٹس سیٹھ کو سپریم کورٹ کا جج بنانے ہر راضی نہیں تھی۔
یاد رہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے سابق جونیئر ججز جسٹس قاضی محمد امین، جسٹس امین الدین خان اور جسٹس سید مظہر علی اکبر نقوی کی سپریم کورٹ میں تقرری کو چیلنج کرنے کی درخواست چیف جسٹس وقار سیٹھ کی جانب سے سینئر وکیل حامد خان کے ذریعے مارچ میں دائر کی گئی تھی۔ لیکن 7 ماہ سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود اس کی سماعت نہ ہوسکی اور ساری زندگی دوسروں کو انصاف دینے والے جسٹس سیٹھ کو اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ پر اپنے لیے دنیا میں انصاف نہ مل سکا۔
وقار احمد سیٹھ کا شمار خیبر پختونخوا کے ان ججوں میں ہوتا تھا جنھوں نے انتہائی اہم معاملات میں فیصلے دیے ہیں اور پشاور کے وکلا ان فیصلوں کو ’بولڈ‘ فیصلے سمجھتے ہیں۔ یاد رہے ملٹری کورٹس سے سزا یافتہ 70 سے زیادہ افراد کی اپیلوں کو منظور کرتے ہوئے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس وقار احمد سیٹھ نے ملٹری کورٹس کے فیصلوں کے خلاف تمام درخواست گزاروں کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔ جسٹس وقار سیٹھ اس خصوصی عدالت کے بھی رکن تھے جس نے سابق صدر پرویز مشرف کو آئین شکنی کے الزام میں سزائے موت سنائی تھی جو انکا جرم بن گئی۔ اسلام آباد میں خصوصی عدالت کے 3 رکنی بینچ نے 17 دسمبر 2019 کو پرویز مشرف سنگین غداری کیس کے مختصر فیصلے میں انہیں آرٹیکل 6 کے تحت سزائے موت سنائی تھی۔ پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار سیٹھ، لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد کریم اور سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس نذر اکبر پر مشتمل بینچ نے اس کیس کا فیصلہ 2 ایک کی اکثریت سے سنایا تھا۔ بعد ازاں 20 دسمبر کو کیس کا 167 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا، جس میں جسٹس نذر اکبر کا 44 صفحات پر مشتمل اختلافی نوٹ بھی شامل تھا۔ تفصیلی فیصلے میں جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس شاہد کریم نے پرویز مشرف کو سزائے موت سنائی تھی جبکہ جسٹس نذر اکبر نے انہیں بری کردیا تھا۔
پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کے مقدمے میں خصوصی عدالت کا تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد ملک کے سیاسی و قانونی حلقوں میں بحث شروع ہو گئی تھی جس کی بنیادی وجہ اس تفصیلی فیصلے کا پیراگراف نمبر 66 تھا جسے جسٹس سیٹھ نے تحریر کیا تھا۔ پیراگراف 66 میں بینچ کے سربراہ جسٹس سیٹھ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو حکم دیا تھا کہ وہ جنرل مشرف کو گرفتار کرنے اور سزا پر عملدرآمد کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں اور اگر وہ مردہ حالت میں ملیں تو ان کی لاش اسلام آباد کے ڈی چوک لائی جائے جہاں اسے تین دن تک لٹکایا جائے۔ تاہم اس سے اگلے پیرگراف 67 میں اپنے اس حکم کی توجیہ پیش کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ چونکہ ماضی میں کسی بھی فرد کو پاکستان میں اس جرم میں سزا نہیں دی گئی اور عدالت نے اپنا فیصلہ مجرم کی عدم موجودگی میں سنایا ہے، اس لیے اگر مجرم سزا پانے سے قبل وفات پا جاتا ہے تو یہ سوال اٹھے گا کہ آیا فیصلے پر عملدرآمد ہو گا یا نہیں اور کیسے ہو گا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئین شکنی اور سنگین غداری ایک آئینی جرم ہے اور یہ وہ واحد جرم ہے جس کی سزا آئینِ پاکستان میں دی گئی ہے۔ آئین کی شق نمبر چھ کے مطابق وہ شخص جس نے 23 مارچ 1956 کے بعد آئین توڑا ہو یا اس کے خلاف سازش کی ہو ، اس کے عمل کو سنگین غداری قرار دیا جائے گا اور اس کو عمر قید یا سزائے موت سنائی جائے گی. تفصیلی فیصلے میں خصوصی عدالت کے صدر جج جسٹس وقار سیٹھ نے لکھا کہ اس مقدمے کا فیصلہ کرنے کے لیے عدالت کو تین سوالات کے جواب تلاش کرنے تھے۔
1. آیا ملزم نے آئین شکنی کی اور سنگین غداری کے جرم کا مرتکب ہوا؟
2. آیا ملزم کے اس فعل کے پیچھے مجرمانہ نیت تھی یا انھیں کابینہ یا وزیراعظم کی طرف سے ایسا کرنے کا کہا گیا تھا؟
3. آیا کوئی ایسے حالات ہیں جن کی بنا پر ملزم کی جانب سے آئین شکنی کی توجیہ پیش کی جا سکتی ہے؟
جسٹس وقار سیٹھ کے مطابق جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف فیصلہ اس بنیاد پر دیا گیا کہ انھوں نے اپنے اوپر لگائے گئے کسی الزام سے کبھی انکار نہیں کیا۔ ‘انھوں نے ایمرجنسی لگانے، اس کا حکم نامہ جاری کرنے ججوں کے لیے ایک انوکھا حلف نامہ ترتیب کرنے اور ایمرجنسی نافذ کرنے سے قبل اپنی تقریر سے انکار نہیں کیا۔’
اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے جسٹس سیٹھ نے تفصیلی فیصلے میں لکھا کہ افواجِ پاکستان کی کور کمانڈرز کمیٹی سمیت ‘ہر وہ باوردی شخص جو جنرل ریٹائرڈ مشرف کے ساتھ تھا اور ان کی حفاظت کرتا رہا مشرف کے جرم میں برابر کا شریک ہے۔’ تفصیلی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان تمام افراد کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے جنھوں نے پرویز مشرف کو ملک سے فرار ہونے میں مدد کی۔ بینچ میں شامل جسٹس شاہد کریم نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ عدالت عظمیٰ نے مجرم پرویز مشرف کی طرف سے 2007 میں لگائی جانے والی ایمرجنسی کے بارے میں کہا ہے کہ مارشل لا کو اور نام دے کر لگانے کی کوشش کی گئی لیکن وہ مارشل لا ہی تھا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئین کو ایک لمحے کے لیے بھی معطل نہیں کیا جا سکتا اور مشرف کا آیئن معطلی کا اقدام آئین کے تحت اسے مجرم ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ غداری ایک بہت سنگین جرم ہے اور اس میں نہ صرف فرد جرم عائد ہونے کے حوالے سے بھی قوانین زیادہ سخت ہیں بلکہ سزا بھی زیادہ کڑی ہے اور یہ اپنی نوعیت کا منفرد جرم ہے جس پر سخت ترین سزا بھی دی جائے تو کم ہے۔ تاہم جسٹس وقار احمد سیٹھ کو اس فیصلے کی وجہ سے سے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور اسی وجہ سے ان کو سپریم کورٹ کا جج بھی نہیں بنایا گیا۔ تاہم دنیا کی عدالت سے انصاف حاصل نہ کرسکنے والے جسٹس وقار احمد اپنے رب کی عدالت میں یقینا سرخرو ہو کر پیش ہوئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button